شناخت کے بغیر زندگیاں: ہریانہ میں مظلوم خواتین کا المیہ

ہریانہ میں باہر سے آئی خواتین کی ان کہی تکالیف

اُرملا لاٹھَر

میرا نام اُرملا ہے۔ میں ہریانہ کے ضلع جِند میں رہتی ہوں۔ یہاں بڑی تعداد میں مرد دوسرے صوبوں سے لڑکیوں سے شادیاں کرکے انہیں اپنے گاؤں لے آتے ہیں۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ مقامی خواتین کو جو عزت اور حقوق حاصل ہیں، وہ باہر سے آئی خواتین کو نہیں ملتے۔ہمیں اکثر “بِہار والی”، “خرید کر لائی گئی عورت” جیسے ذلت آمیز القابات سے پکارا جاتا ہے۔ خاندان اور سماج ہمیں بیوی نہیں بلکہ نوکرانی سمجھتے ہیں۔ ہم سے دن رات محنت کروائی جاتی ہے، مگر بدلے میں نہ محبت ملتی ہے، نہ عزت، نہ اپنائیت۔زیادہ تر خواتین بہت کم عمری میں بیاہ کر یہاں لائی جاتی ہیں ـ کوئی چودہ سال کی ہوتی ہے، کوئی پندرہ سال کی۔ برسوں گزر جاتے ہیں، بچے ہو جاتے ہیں، پوری زندگی یہیں بیت جاتی ہے، مگر پھر بھی ہمیں“پردیسی” ہی سمجھا جاتا ہے۔اگر کسی عورت پر ظلم ہوتا ہے اور وہ تھانے کا رخ کرتی ہے تو اسے دھمکا کر بھگا دیا جاتا ہے۔تحصیل، عدالت یا کسی سرکاری دفتر میں بغیر سفارش کوئی کام نہیں ہوتا۔ جن کے پاس دستاویزات نہیں ہوتیں، آدھار کارڈ، راشن کارڈ، پین کارڈ ، انہیں کسی بھی سرکاری اسکیم کا فائدہ نہیں ملتا۔ہماری زندگی خوف کے سائے میں گزرتی ہے۔ شوہر، ساس سسر، دیور، پڑوسی، سب کسی نہ کسی طرح ہمیں ستاتے رہتے ہیں۔ ہماری زبان، لباس اور کھانے پینے کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ہمیں ذلیل کیا جاتا ہے، نیچا دکھایا جاتا ہے۔شادی بیاہ یا سماجی تقاریب میں ہمیں بلایا تک نہیں جاتا۔ صرف بچوں یا شوہر کو بلا لیا جاتا ہے۔ یہ رویہ ہمارے دل توڑ دیتا ہے اور ہمیں یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ ہم اس سماج کا حصہ نہیں ہیں۔سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب شوہر کا انتقال ہو جائے۔ تب صاف صاف کہا جاتا ہے “یہاں سے چلی جاؤ، بچوں کو ساتھ لے جاؤ” یا “بچے چھوڑ دو اور خود نکل جاؤ۔” نہ زمین میں حصہ، نہ گھر پر کوئی حق۔ہم کہاں جائیں؟ جن گھروں میں ہم نے اپنی جوانی گزار دی، جہاں ہمارے بچے پیدا ہوئے، وہی جگہ اچانک اجنبی بنا دی جاتی ہے۔ماں ہونے کے ناتے ہم سب کچھ سہہ لیتی ہیں۔ اپنے دکھ نگل جاتی ہیں تاکہ بچوں کا مستقبل بچا سکیں۔ یہی ہماری مجبوری بن جاتی ہے اور اسی مجبوری کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔جب ہم ایک دوسرے سے ملتی ہیں،کھیتوں میں کام کرتے ہوئے، بازار میں یا گاؤں کی بیٹھکوں میں، تو ہرعورت کی کہانی تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے۔ کوئی کہتی ہے کہ اس کے پاس کوئی کاغذات نہیں، کوئی بتاتی ہے کہ اسے سرکاری مدد نہیں ملتی، کوئی روتے ہوئے اپنے ساتھ ہونے والی مارپیٹ سناتی ہے۔اسی درد نے ہمیں ایک دوسرے سے جوڑا۔ ہم نے گروہی نشستوں کا آغاز کیا تاکہ بہنیں ایک دوسرے کا سہارا بن سکیں۔ جہاں حکومت اور سماج نے ہمیں چھوڑ دیا، وہاں ہم نے خود ایک دوسرے کے لیے کھڑا ہونا سیکھا۔ہم نے سیکھا کہ دستاویزات کیسے بنوائیں، اپنے حقوق کیسے مانگیں اور ناانصافی کے خلاف کیسے آواز اٹھائیں۔مگر سچ یہ ہے کہ آج بھی زیادہ تر خواتین کرب کے آنسوبہاتے ہوئے زندگی گزار رہی ہیں۔ شاید ہی کوئی عورت ہو جو یہ کہہ سکے کہ وہ ہریانہ میں خوش ہے۔ہم مجرم نہیں ہیں۔ ہم نے کوئی جرم نہیں کیا کہ ہمیں انسان نہ سمجھا جائے۔ ہم بھی بیویاں ہیں، مائیں ہیں، شہری ہیں۔ ہمیں بھی عزت، تحفظ اور حقوق چاہیے۔یہ صرف ہماری کہانی نہیں، یہ ہزاروں خواتین کی دبائی گئی چیخ ہے۔

Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

عبدالعلیم کے متبنیٰ کی کہانی جو رشتوں کے لیے امتحان بن گئی !

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

لنگی میں

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد