ہماری دینی زبوں حالی کا کون ہے ذمہ دار؟
عام مسلمان نہ جنازہ پڑھا سکتا ہے نہ نکاح آخر یہ کیا معاملہ ہے ؟ عبدالغفارصدیقی دورِ حاضر میں مسلم معاشرہ دینی،اخلاقی و معاشرتی سطح پرانتہائی زبوں حالی کا شکار ہے۔ ہماری یہ زبوں حالی علم و آگہی کی سطح پر بھی ہے اور عمل و کردار کی سطح پر بھی۔ ایک طرف ہم دین و شریعت کے اصل احکامات سے ناواقف ہیں، اور دین کے نام پر ایسی چیزوں سے واقف ہیںجن کا دین سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ رجب کے کونڈے، شبِ برات کا حلوہ، محرم کا کھچڑا، امام جعفر صادقؒ کی نیاز، خیر و برکت کے نام پر نقش، تعویذ کی ڈوریاں، نذر کے بتاشے، سوئم و چہلم کی فاتحہ — آخر ان سب امورورسوم کا حضرت محمد ؐ کے دین سے کیا تعلق ہے؟ سر پر ٹوپی، لمبی داڑھی اورلمبا کرتا شریعت اسلامی کا جزِ لاینفک کس تعلیم کی بنا پرہے؟ رات کو جھاڑو نہ لگائو،ماموں رستا بھول جائیں گے ،اذان کے وقت دنیابھر کی باتیں کرو مگر سلام نہ کرو،کھانا کھاتے وقت بکواس کرو مگر سلام کا جواب مت دو،فلاں مکان میں جنات کا اثر ہے ،فلاں خاتون جھپاٹے میں آگئی ہے ،فلاں لڑکی پر میاں صاحب آتے ہیں،فلاں پیر صاحب کعبہ میں نماز پڑھنے جاتے ہیں ، کعبہ شریف غوث اعظم کا طواف کرنے جاتا ہے ،...