شاعری کے دلنشیں پیرائے کا جادو بیاں شاعر :طاہر فراز
ڈاکٹر شگفتہ یاسمین غزل کی جادوبیانی کو اپنے فن سے سحر سامری بنانے والی شخصیت طاہر فراز جن کے یہاں غزل دل کے کاروبار کا قصیدہ بھی ہے اورآشوب زمانہ کا مرثیہ بھی، ٹوٹتی بکھرتی تہذیبی قدروں کا نوحہ بھی ہے اور محبوب کے لب و عارض، کاکل و رخسار کا دلکش فسانہ بھی، اچانک اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ ان کا سانحہ ارتحال ایک ایسی جانکاہ حقیقت ہے جو بجلی بن کران کے مداحوں پر گری اور خرمن دل کو خاکسترکرگئی ،شاید ہی کوئی ایسی آنکھ ہو جو نمناک نہ ہوئی ہو۔تقریبا نصف صدی تک اردو شاعری ، رامپور اسکول اور اس کے امتیازات سے پوری دنیا کو متعارف کرانے والے نمائندہ شاعر جنہیں دنیا طاہر فراز کے نام سے جانتی اور محبوب رکھتی ہے ۔ اپنی دلکش شخصیت اور شاعری کے دلنشیں پیرائے کی بنا پر نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں قدرومنزلت اورمحبوبیت کے جس مقام پر فائز تھے وہاں تک رسائی میں خداداد صلاحیت، ذاتی محنت و ریاضت اور مداحوں کی بے حد محبت و عقیدت سب کی شمولیت رہی ۔ سرزمین رامپور ہمیشہ سے ہی مردم خیز رہی لیکن طاہر فراز کی شخصیت وفن کی تشکیل و تعمیر میں خانقاہ نیازیہ سے ارادت کا بھی اہم رول رہا ہے ۔ وہ 29 جون1953 کو بدا...