Posts

خلیجی ممالک میں ہندوستانی مہاجر مزدوروںکے حالات

Image
آکاش چوپڑا متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین اور عمان میں نو ملین سے زیادہ ہندوستانیوں کے رہنے کے ساتھ، یہ خطہ روزگار کی تلاش میں ہندوستانی تارکین وطن کے لیے ایک اہم مقام بنا ہوا ہے۔ ہندوستان عالمی سطح پر ترسیلات کا سب سے بڑا وصول کنندہ ہے، جس کی اکثریت GCC سے آتی ہے۔ ابتدائی طور پر، ہندوستانی تارکین وطن بنیادی طور پر تعمیراتی، گھریلو خدمات اور دیکھ بھال سمیت بلیو کالر شعبوں میں ملازم تھے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں ایک واضح تبدیلی آئی ہے، ہندوستانیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد صحت کی دیکھ بھال، مالیات، تعلیم، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں وائٹ کالر ملازمتیں لے رہی ہے۔ اقتصادی فوائد کے باوجود، GCC ممالک میں نقل مکانی کا تجربہ چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے۔ تمام چھ ممالک میں محدود مزدوروں کے حقوق کے ساتھ بادشاہی نظام حکومت ہے، جس کی وجہ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس سامنے آتی ہیں۔ ایک اہم تشویش، خاص طور پر کم آمدنی والے تارکین وطن کارکنوں میں، متنازعہ کفالہ (کفالت) کا نظام ہے، جس کے تحت ایک مقامی آجر (کفیل) تارکین وطن کی قانونی اور ملازمت کی حیثیت پر وسیع کنٹرول کا است...

الیکٹرک گاڑیاں: کیا واقعی سرسبز مستقبل کی ضامن ہیں؟

Image
ممتاز احمد موجودہ عہد کے ماحولیاتی چیلنجوں سے نبرد آزما ہوتے ہوئے الیکٹرک وہیکلز (ای وی) کی طرف منتقلی کی ضرورت تیزی سے بڑھتی جارہی ہے ۔ ماحولیاتی تبدیلی، فضائی آلودگی اورقدرتی ایندھن کے کم ہوتے ذخائر کے تئیں بڑھتی تشویش نے نقل و حمل کے صاف و شفاف اور زیادہ پائیدار ذرائع کی ضرورت پر زیادہ زور دیا ہے ۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ قدرتی ایندھن کے محدود وسائل ہیں اور ان کے نکالنے اور استعمال کے شدید ماحولیاتی اثرات ہوتے ہیں۔ چوں کہ ای وی بجلی پرمنحصر ہوتی ہے ، جو قابل تجدید ذرائع جیسے شمسی، ہوا اور پن بجلی سے پیدا کی جاسکتی ہے اور وہ طویل مدتی پائیداری کو فروغ دیتی ہے ۔ بیٹری ٹیکنالوجی اور الیکٹرک ڈرائیو ٹرین کے شعبے میں تیزی سے ترقی نے الیکٹرک وہیکل کی کارکردگی، رینج اور قابل استطاعت میں بہتری پیدا کی ہے جو انہیں روایتی گاڑیوں کا قابل عمل متبادل بناتی ہیں۔الیکٹرک گاڑیاں صفر کاربن اخراج کے سبب بڑی اہمیت کی حامل ہیں، جوسرسبز اور پائیدار مستقبل کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ہندوستان میں بھی اب الیکٹرک گاڑیوں کے اپنانے میں اضافہ کا رجحان تیزی سے نظر ٖآرہا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2070 تک ملک کو کارب...

سرلامہیشوری: سادگی اور پروقار لب و لہجے کا حسین سنگم

Image
ڈاکٹر شگفتہ یاسمین   سرلا مہیشوری کا شمار ہندوستان کے مایہ ناز اور مقبول نیوز اینکرز، ممتاز مصنفین اور سیاست دانوں میں ہوتا ہے ۔ ان کی بنیادی شناخت دوردرشن کی ایک مشہور نیوز اینکر کی تھی۔ 1980 اور 1990 کی دہائی میں خبروں کی پیشکش میں اپنے سنجیدہ اور پروقار اندازٍ کے لیے ان کا شمار صف اول کی نیوز ریڈرز میں ہوتا تھا۔سیٹیلائٹ چینلز کی آمد سے قبل یہ وہ دور تھا جب نیوز ریڈرز کی حیثیت اور شان بالی ووڈ ستاروں سے کم نہ تھی اور وہ سیلیبریٹیز میں شمار ہوتے تھے ۔  سرلامہیشوری کی پیدائش راجستھان کے شہر بیکانیر میں ایک ادبی اور سیاسی گھرانے میں ہوئی۔ ان کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں مارکسی نظریات اور ادب کو اہمیت دی جاتی تھی۔ اس ماحول نے ان کی شخصیت کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں وہ کولکتہ منتقل ہوگئیں جہاں ان کے سیاسی اور ادبی شعور میں مزید پختگی آئی۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم کولکتہ میں حاصل کی جہاں وہ مارکسی نظریات اور سیاست سے وابستہ ہوئیں۔  انہوں نے اپنے کرئیر کا آغاز 1976 میں دوردرشن سے بطور اناؤنسرکیا ۔ 1982 میں مستقل طور پر نیوز ریڈنگ سے وابستہ ہوئیں ا...

فرقہ وارانہ نفرت اور تشدد آئین کو چیلنج

Image
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی بی جے پی نے اپنے آفیشیل ہینڈل پر  آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا سرما  کا  ایک ویڈیو پوسٹ کیا  جسے شدید مخالفت کی وجہ سے بعد میں ہٹا دیا گیا ۔ اس میں وہ امریکی فلموں کے کاؤ بائے کی طرح مختلف قسم کی بندوقوں اور پسٹل سےاقلیتی طبقہ کے  بزرگ اور ایک نوجوان  پر گولیاں داغتے ہوئے دکھائی دیئے ۔ پنجاب کے کئی گلو کاروں کو اپنے گانے بندوقوں کے ساتھ فلمانے کی وجہ سے تشدد کو بڑھاوا دینے والی دفعات کے تحت کاروائی کا سامنا کرنا پڑا ۔ گن کلچر کو ملک میں سنگین خطرے کی طرح دیکھا جاتا رہا ہے ۔ سپریم کورٹ نے شاہین عبداللہ بنام یونین 2022معاملہ میں ہیٹ اسپیچ کے خلاف سخت جاری کی تھیں ۔ عدالت نے تمام ریاستوں ؍مرکز کے زیر انتظام صوبوں کو خود نوٹس لے کر شکایت کا انتظار کئے بغیر مجرموں کے خلاف  موجودہ آئی پی سی کی دفعہ 153a,153b, 295a اور 505کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا ۔ مسلمانوں کے خلاف قتل کے کھلے اعلان کا ویڈیو اس وقت سامنے آیا جبوزیر اعظم نریندر مودی   65 فیصد  سے زیادہ  مسلم آبادی والے اسلامی ملک ملیشیاءکی...

انسان کا سب سے محفوظ سرمایہ علم ہے!!

Image
جاوید بھارتی  علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے ، سونے چاندی اور دیگر دھات پر مبنی تیار شدہ زیورات صرف عورتوں کے لئے مخصوص ہیں لیکن علم ہر انسان کا زیور ہے اور یہی سب سے محفوظ زیور ہے ، سب سے محفوظ سرمایہ ہے- دنیا کا مال و اسباب چھینا جاسکتا ہے ، دولت کو لوٹا جاسکتا ہے ، بیگ سوٹ کیس ، بیڈنگ، بکس، صندوق وغیرہ چوری کیا جاسکتا ہے لیکن علم لوٹا نہیں جاسکتا ، علم چھینا نہیں جاسکتا ، علم چوری نہیں کیا جاسکتا-  چاہے انسان کسی بھی حالت میں ہو کسی مکان میں رہائش پذیر ہو یا سفر میں ہو ، شہر میں ہو یا دیہات میں ہو ، اپنے ملک میں ہو یا بیرون ملک میں ہو ، امیر ہو یا غریب ، سرمایہ دار ہو یا مزدور، ملازم ہو یا مدیر ،، اس کے پاس علم ہے تو وہی سب سے محفوظ سرمایہ ہے ،، کسی بھی تعلیم یافتہ انسان کو کوئی دوسرا انسان پریشان کر سکتا ہے ، اسے مار سکتا ہے ، اس کی ہڈیاں توڑ سکتا ہے لیکن چاہے کہ اس کا علم اس سے چھین لے تو یہ ناممکن ہے- علم روشنی ہے اور جہل اندھیرا ہے ،، علم سے انسان کے اندر حرام و حلال کی تمیز آتی ہے ، جائز اور ناجائز کی پہچان ہوتی ہے-  کچھ لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ جن کے پ...

سابق فوجی چیف جنرل نروانے کی کتاب پر تنازعہ!

Image
سلطان صدیقی چین اور ڈوکلام معاملے میں چین کی کرتوت اور ہماری سرکار کی حکمت عملی کو لے کر سابق فوجی چیف جنرل نروانے نے اپنی کتاب میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔ اور ان حالات کو بتایا ہے کہ چین کی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور جو افسر بھارت اور چین کی فوجوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی ہیں وہ اچانک نہیں بلکہ وہ پہلے سے طے سرکار کا نتیجہ ہوتی ہیں اسی کو لے کر راہل گاندھی نے اس کتاب کا حوالہ دیا لیکن سرکار کی جب پول کھلنے لگی تو وہ بچاؤ کی شکل میں آگئی ہے ۔اس کتاب کا نام ہے فور اسٹارس آف ڈسٹنی یعنی قسمت کے چار ستارے اسی کو لے کر کئی دن سے پارلیمنٹ ٹھپ پڑی ہے ۔کانگریس کے لیڈر و اپوزیشن نیتا راہل گاندھی کے ذریعے اشو اٹھایا گیا تو سرکار بوکھلا گئی اور اس نے بڑ بولے ایم پی نشی کانت دوبے کو پیچھے لگایا اور ان کے ذریعے راہل گاندھی کے خلاف لوک سبھا میں تحریک مراعات شکنی کی تیاری شروع کر دی ہے ۔اگر یہ لوک سبھا میں پاس ہوتی ہے تو ان کی ایم پی شپ جاسکتی ہے لیکن پارٹی اتنی کمزور نہیں اس کے پاس بھی بہت سی حکمت عملی اور سرکار کے اس قدم کے توڑ کی کارگر داؤ پیچ ہیں ۔بہرحال اس وقت سرکار اس کتاب کو لے کر بحث کرانے...

ویلنٹائن ڈے تاریخی حقیقت فکری گمراہی اور اسلامی نقطۂ نظر

Image
خامہ بکف محمد عادل ارریاو _محترم قارئین ہر دور میں اقوام کی پہچان ان کے عقائد اقدار اور تہذیبی روایات سے ہوتی ہے جب کوئی قوم فکری غلامی کا شکار ہو جائے تو وہ دوسروں کے رسم و رواج کو بلا تحقیق اپنانا شروع کر دیتی ہے چاہے وہ اس کے دینی اخلاقی اور معاشرتی تشخص سے متصادم ہی کیوں نہ ہوں موجودہ دور میں مسلمانوں کے سامنے ایک بڑا فکری چیلنج یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے نام پر پیش کی جانے والی بہت سی رسومات و خرافات کو ترقی محبت اور آزادی کا لبادہ اوڑھا کر معاشرے میں عام کیا جا رہا ہے انہی رسومات میں سے ایک ویلنٹائن ڈے ہے جسے محبت کے نام پر بے حیائی فحاشی اور اخلاقی زوال کے فروغ کا ذریعہ بنایا گیا ہےبدقسمتی سے آج کا مسلمان نوجوان اس تہوار کی اصل حقیقت اس کے تاریخی پس منظر اور اس کے دینی و معاشرتی نقصانات سے ناواقف ہے یہی وجہ ہے کہ ایک غیر اسلامی اور غیر فطری رسم کو فخر اور جوش کے ساتھ منایا جا رہا ہے حالانکہ اسلام حیاء پاکیزگی اور باوقار محبت کا دین ہےویلن ٹائن ڈے کے بارے میں کئی داستان ہیں ان میں سے ایک مشہور داستان یہ ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں ویلن ٹائن نامی ایک عیسائی پادری تھے جو ایک راہبہ سے ...

بات چیت سے لیکر عمان میں میدان جنگ تک ایران -امریکہ میں ٹکراؤ

Image
نیرج کمار دوبے ایران پر جنگ کے منڈلاتے بادل مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ مذاکرات کے لیے عمان آنے والے ایرانی اور امریکی وفود نے براہ راست بات نہیں کی۔ یہ مذاکرات عمان کی ثالثی سے ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران اپنے خیالات کو عمان تک پہنچائے گا، عمان وہی بات امریکہ تک پہنچائے گا اور امریکہ اس کے بعد ایرانی وفد کو جواب دے گا۔ مزید برآں، ان مذاکرات سے قبل دونوں فریقوں کی طرف سے جاری ہونے والے دھمکی آمیز بیانات اور بھاری ہتھیاروں سے یہ واضح ہو گیا کہ یہ مذاکرات محض ایک دھوکہ ہے۔عمان نے کہا ہے کہ اس کے وزیر خارجہ نے مسقط میں ایرانی اور امریکی وفود سے الگ الگ ملاقات کی تاکہ جوہری معاملے پر بالواسطہ بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ مذاکرات میں امریکی وفد میں ایڈمرل بریڈ کوپر جیسے فوجی افسران کی موجودگی پر ایران برہم تھا۔ اگرچہ گزشتہ سال ایران کے جوہری ڈھانچے پر امریکی حملے کے بعد پہلی باضابطہ بات چیت ہوئی تھی، لیکن ماحول پر پہلے ہی بیان بازی، فوجی سازی اور درپردہ دھمکیوں کا الزام لگایا گیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو کھلے ...

گڈھے والاانتظام اور خطرے میں پڑھتی زندگیاں

Image
للت گرگ گڑھوں سے بھرے نظام میں جانوں کا ضیاع آج کے ہندوستان کا ایک تضاد بن گیا ہے، جو دل کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ نوئیڈا میں ایک نوجوان انجینئر کی گڑھے میں گر کر موت کا غم بمشکل کم ہوا تھا کہ دہلی میں بائک پر سوار ایک نوجوان کھلے گڑھے سے گر کر ہلاک ہوگیا۔ دونوں واقعات میں مماثلت یہ ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ترقی یا مرمت کے نام پر گڑھے کھودے گئے تھے اور دونوں واقعات میں کوئی رکاوٹیں، وارننگ سائن یا لائٹنگ نہیں تھی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے نظام نے پہلے گڑھا کھودا اور پھر مطمئن ہو کر پیچھے ہٹ گیا، یہ مانتے ہوئے کہ آگے جو کچھ بھی ہو گا وہی شہری کا مقدر ہے۔ یہ وہ سوچ ہے جو کسی بھی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔سوال یہ نہیں کہ گڑھے کیوں کھودے گئے؟ سوال یہ ہے کہ انتظامیہ کو گڑھے کھود کر لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کا اختیار کس نے دیا؟ کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ ہر شہری سڑکوں پر چلتے ہوئے اپنی جان خطرے میں ڈالے؟ کیا شہروں کی چمک دمک اور بڑے بڑے وعدوں کے درمیان عام آدمی کی زندگی اتنی سستی ہو گئی ہے کہ ان کی موت محض ایک خبر بن کر رہ جاتی ہے، دو دن بحث ہوتی ہے اور پھر سب کچھ معمول پر آ جات...

لوک سبھا اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک !

Image
سلطان صدیقی پارلیمنٹ کے اجلاس میں لوک سبھا اسپیکر شری اوم برلا کے ذریعے کانگریس لیڈر شری راہل گاندھی و دیگر اپوزیشن ممبران کو سرکار سے کچھ سوالوں کا جواب مانگنے کے لئے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں اس کو لے کر ہاؤس میں مسلسل ہنگامہ جاری ہے ۔اپوزیشن کا الزام ہے کہ وہ ایک پارٹی کے تئیں جانبدارانہ رویہ اپنا رہے ہیں ۔آج اپوزیشن نے اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس دے دیا ہے اس نوٹس پر 118 ممبران کے دستخط ہیں ۔یہ پرستاؤ باقاعدہ لوک سبھا سیکریٹریٹ کو سونپا گیا ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس نوٹس پر کیا جواب دیتا ہے ۔اپوزیشن نے سرکار سے 4 اشوز پر اعتراض جتایا ہے ان میں ایک ایوان میں اپنی بات رکھنے کے لئے کانگریس لیڈر کو بولنے کا موقع نہیں دیاجارہا ہے ۔نمبر 2 نیشنل سیکورٹی اشوز پر اپنی بات رکھنے کےلئے ٹوکاجارہا ہے ۔لوک سبھا اسپیکر کا یہ رویہ امتیازی ہے ۔اپوزیشن ممبران کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپوزیشن کو اپنی بات رکھنے پر پابندی ہی لگا دی ہے ۔معاملہ یہی ہوا جو اسپیکر کہیں وہ صحیح جو ہم کہیں وہ غلط بہرحال ان کے اس تاناشاہی رویہ پر ہاؤس میں مسلسل ہنگامہ چل رہا ہے دوسری طرف سرکار بجٹ...

ہماری دینی زبوں حالی کا کون ہے ذمہ دار؟

Image
عام مسلمان نہ جنازہ پڑھا سکتا ہے نہ نکاح آخر یہ کیا معاملہ ہے ؟ عبدالغفارصدیقی دورِ حاضر میں مسلم معاشرہ دینی،اخلاقی و معاشرتی سطح پرانتہائی زبوں حالی کا شکار ہے۔ ہماری یہ زبوں حالی علم و آگہی کی سطح پر بھی ہے اور عمل و کردار کی سطح پر بھی۔ ایک طرف ہم دین و شریعت کے اصل احکامات سے ناواقف ہیں، اور  دین کے نام پر ایسی چیزوں سے واقف ہیںجن کا دین سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ رجب کے کونڈے، شبِ برات کا حلوہ، محرم کا کھچڑا، امام جعفر صادقؒ کی نیاز، خیر و برکت کے نام پر نقش، تعویذ کی ڈوریاں، نذر کے بتاشے، سوئم و چہلم کی فاتحہ — آخر ان سب امورورسوم کا حضرت محمد ؐ کے دین سے کیا تعلق ہے؟ سر پر ٹوپی، لمبی داڑھی اورلمبا کرتا شریعت اسلامی کا جزِ لاینفک کس تعلیم کی بنا پرہے؟ رات کو جھاڑو نہ لگائو،ماموں رستا بھول جائیں گے ،اذان کے وقت دنیابھر کی باتیں کرو مگر سلام نہ کرو،کھانا کھاتے وقت بکواس کرو مگر سلام کا جواب مت دو،فلاں مکان میں جنات کا اثر ہے ،فلاں خاتون جھپاٹے میں آگئی ہے ،فلاں لڑکی پر میاں صاحب آتے ہیں،فلاں پیر صاحب کعبہ میں نماز پڑھنے جاتے ہیں ، کعبہ شریف غوث اعظم کا طواف کرنے جاتا ہے ،...

ہندوستان میں بلٹ ٹرین اور ماحولیاتی نقصان

Image
ظفراقبال جدید دور میں تیز رفتار نقل و حمل کو ترقی، معاشی استحکام اور شہری سہولتوں کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ دنیا بھر میں بلٹ ٹرین یا ہائی اسپیڈ ریل کے منصوبے اسی سوچ کا نتیجہ ہیں۔ ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بلٹ ٹرین کو ایک تاریخی قدم قرار دیا گیا ہے ، جس کا مقصد بڑے شہروں کے درمیان سفر کے وقت کو کم کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور عالمی سطح پر تکنیکی ترقی کا مظاہرہ کرنا ہے ۔ تاہم اس منصوبے کے ساتھ جڑے ماحولیاتی مسائل، خصوصاً درختوں کی بے تحاشہ کٹائی، ایک سنجیدہ اور تشویشناک پہلو ہیں۔ جنگلات اور سبزہ کسی بھی ملک کے ماحولیاتی توازن میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اور ان کی بڑے پیمانے پر تباہی نہ صرف قدرتی نظام کو متاثر کرتی ہے بلکہ انسانی زندگی کے لیے بھی خطرات پیدا کرتی ہے ۔ ہندوستان میں بلٹ ٹرین کا سب سے نمایاں منصوبہ ممبئی اور احمد آباد کے درمیان شروع کیا گیا، جو جاپان کے اشتراک سے تعمیر ہو رہا ہے ۔ اس منصوبے کو جدید ٹیکنالوجی، تیز رفتار سفر اور اقتصادی ترقی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ حکومت کے مطابق اس منصوبے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ، شہروں کے درمیان رابطہ بہتر ہوگا ا...

انتخابی منشور میں 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کا وعدہ عمر عبداللہ کی چالاکی

Image
  شفقت شیخ  جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (جے کے این سی) کا منشور واضح طور پر اس گہری نااہلی کو روشن کرتا ہے جس نے موجودہ حکمرانی کو نمایاں کیا ہے، خاص طور پر 27 -2026 کے بجٹ شیشن کے دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے حالیہ بیانات سے واضح ہو گیا ہے۔ ان کے دعوے، ایک بار پھر، خود کو پارٹی کے انتخابی منشور میں شامل متعدد وعدوں کی طرح کھوکھلے ہونے کا انکشاف کرتے ہیں، جن میں سے بہت سے ادھورے رہ گئے ہیں۔ ایک موجودہ وزیر اعلیٰ کی طرف سے اس قسم کی بیان بازی نے قیادت پر عوام کے اعتماد اور اعتماد کو کافی حد تک ختم کر دیا ہے۔  انڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) کے آزاد اور ممبران سمیت قانون ساز اسمبلی کے 58 سے زیادہ ممبران (ایم ایل اے) کے ساتھ کمانڈنگ اکثریت رکھنے کے باوجود، حکمراں جے کے این سی اس معاشرے کے لیے بامعنی پیش رفت کرنے میں واضح طور پر ناکام رہی ہے جس کی وہ خدمت کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ یہ خطرناک نااہلی حقیقی پیشرفت کو فروغ دینے اور عوام کی اہم ضروریات کو مناسب طریقے سے حل کرنے کی ان کی صلاحیت کے حوالے سے تشویشناک خدشات کو جنم دیتی ہے۔  200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کے متنازع...

شناخت کے بغیر زندگیاں: ہریانہ میں مظلوم خواتین کا المیہ

Image
ہریانہ میں باہر سے آئی خواتین کی ان کہی تکالیف اُرملا لاٹھَر میرا نام اُرملا ہے۔ میں ہریانہ کے ضلع جِند میں رہتی ہوں۔ یہاں بڑی تعداد میں مرد دوسرے صوبوں سے لڑکیوں سے شادیاں کرکے انہیں اپنے گاؤں لے آتے ہیں۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ مقامی خواتین کو جو عزت اور حقوق حاصل ہیں، وہ باہر سے آئی خواتین کو نہیں ملتے۔ہمیں اکثر “بِہار والی”، “خرید کر لائی گئی عورت” جیسے ذلت آمیز القابات سے پکارا جاتا ہے۔ خاندان اور سماج ہمیں بیوی نہیں بلکہ نوکرانی سمجھتے ہیں۔ ہم سے دن رات محنت کروائی جاتی ہے، مگر بدلے میں نہ محبت ملتی ہے، نہ عزت، نہ اپنائیت۔زیادہ تر خواتین بہت کم عمری میں بیاہ کر یہاں لائی جاتی ہیں ـ کوئی چودہ سال کی ہوتی ہے، کوئی پندرہ سال کی۔ برسوں گزر جاتے ہیں، بچے ہو جاتے ہیں، پوری زندگی یہیں بیت جاتی ہے، مگر پھر بھی ہمیں“پردیسی” ہی سمجھا جاتا ہے۔اگر کسی عورت پر ظلم ہوتا ہے اور وہ تھانے کا رخ کرتی ہے تو اسے دھمکا کر بھگا دیا جاتا ہے۔تحصیل، عدالت یا کسی سرکاری دفتر میں بغیر سفارش کوئی کام نہیں ہوتا۔ جن کے پاس دستاویزات نہیں ہوتیں، آدھار کارڈ، راشن کارڈ، پین کارڈ ، انہیں کسی بھی سرکاری ...

ہند-امریکہ عبوری تجارتی معاہدہ: ٹیرف میں کمی سے کسے فائدہ ہوگا؟

جینت رائے چودھری  ہندوستان اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے متوقع عبوری تجارتی معاہدہ بالآخر نافذ ہو گیا ہے ، جس سے دوطرفہ تجارتی تناؤ میں محتاط لیکن سیاسی طور پر اہم کمی آئی ہے اور اس سال کے آخر میں ایک زیادہ جامع دوطرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے ) کی راہ ہموار ہو گئی ہے ۔ جیسا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے اعلان کیا تھا، جمعہ کی دیر رات طے پانے والے اس عبوری معاہدے کے تحت امریکہ کئی ہندوستانی نژاد اشیاء پر 18 فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔ ان اشیاء میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات، چمڑا اور جوتے ، پلاسٹک اور ربڑ، نامیاتی کیمیکلز، گھر کی سجاوٹ کا سامان، دستکاری کی مصنوعات اور منتخب مشینری شامل ہیں۔ اگرچہ ٹیرف کو ہٹایا نہیں گیابلکہ اس کی سطح میں کمی ہی کی گئی ہے ، تاہم تجزیہ کاروں اور صنعتی اداروں نے اسے پہلے کے مقابلے میں ایک بامعنی کمی قرار دیا ہے ۔ وزارتِ خارجہ کے سابق سکریٹری (اقتصادی تعلقات) پیناک آر چکرورتی نے کہا، ''ہم نے تجارتی تناؤ کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ بنیادی زرعی مفادات کا تحفظ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جیسا کہ کیا جانا چاہیے تھا... لیکن دونوں اطراف سے ابھی مزید کام کرنے کی ضر...