Posts

ہماری دینی زبوں حالی کا کون ہے ذمہ دار؟

Image
عام مسلمان نہ جنازہ پڑھا سکتا ہے نہ نکاح آخر یہ کیا معاملہ ہے ؟ عبدالغفارصدیقی دورِ حاضر میں مسلم معاشرہ دینی،اخلاقی و معاشرتی سطح پرانتہائی زبوں حالی کا شکار ہے۔ ہماری یہ زبوں حالی علم و آگہی کی سطح پر بھی ہے اور عمل و کردار کی سطح پر بھی۔ ایک طرف ہم دین و شریعت کے اصل احکامات سے ناواقف ہیں، اور  دین کے نام پر ایسی چیزوں سے واقف ہیںجن کا دین سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ رجب کے کونڈے، شبِ برات کا حلوہ، محرم کا کھچڑا، امام جعفر صادقؒ کی نیاز، خیر و برکت کے نام پر نقش، تعویذ کی ڈوریاں، نذر کے بتاشے، سوئم و چہلم کی فاتحہ — آخر ان سب امورورسوم کا حضرت محمد ؐ کے دین سے کیا تعلق ہے؟ سر پر ٹوپی، لمبی داڑھی اورلمبا کرتا شریعت اسلامی کا جزِ لاینفک کس تعلیم کی بنا پرہے؟ رات کو جھاڑو نہ لگائو،ماموں رستا بھول جائیں گے ،اذان کے وقت دنیابھر کی باتیں کرو مگر سلام نہ کرو،کھانا کھاتے وقت بکواس کرو مگر سلام کا جواب مت دو،فلاں مکان میں جنات کا اثر ہے ،فلاں خاتون جھپاٹے میں آگئی ہے ،فلاں لڑکی پر میاں صاحب آتے ہیں،فلاں پیر صاحب کعبہ میں نماز پڑھنے جاتے ہیں ، کعبہ شریف غوث اعظم کا طواف کرنے جاتا ہے ،...

ہندوستان میں بلٹ ٹرین اور ماحولیاتی نقصان

Image
ظفراقبال جدید دور میں تیز رفتار نقل و حمل کو ترقی، معاشی استحکام اور شہری سہولتوں کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ دنیا بھر میں بلٹ ٹرین یا ہائی اسپیڈ ریل کے منصوبے اسی سوچ کا نتیجہ ہیں۔ ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بلٹ ٹرین کو ایک تاریخی قدم قرار دیا گیا ہے ، جس کا مقصد بڑے شہروں کے درمیان سفر کے وقت کو کم کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور عالمی سطح پر تکنیکی ترقی کا مظاہرہ کرنا ہے ۔ تاہم اس منصوبے کے ساتھ جڑے ماحولیاتی مسائل، خصوصاً درختوں کی بے تحاشہ کٹائی، ایک سنجیدہ اور تشویشناک پہلو ہیں۔ جنگلات اور سبزہ کسی بھی ملک کے ماحولیاتی توازن میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اور ان کی بڑے پیمانے پر تباہی نہ صرف قدرتی نظام کو متاثر کرتی ہے بلکہ انسانی زندگی کے لیے بھی خطرات پیدا کرتی ہے ۔ ہندوستان میں بلٹ ٹرین کا سب سے نمایاں منصوبہ ممبئی اور احمد آباد کے درمیان شروع کیا گیا، جو جاپان کے اشتراک سے تعمیر ہو رہا ہے ۔ اس منصوبے کو جدید ٹیکنالوجی، تیز رفتار سفر اور اقتصادی ترقی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ حکومت کے مطابق اس منصوبے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ، شہروں کے درمیان رابطہ بہتر ہوگا ا...

انتخابی منشور میں 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کا وعدہ عمر عبداللہ کی چالاکی

Image
  شفقت شیخ  جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (جے کے این سی) کا منشور واضح طور پر اس گہری نااہلی کو روشن کرتا ہے جس نے موجودہ حکمرانی کو نمایاں کیا ہے، خاص طور پر 27 -2026 کے بجٹ شیشن کے دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے حالیہ بیانات سے واضح ہو گیا ہے۔ ان کے دعوے، ایک بار پھر، خود کو پارٹی کے انتخابی منشور میں شامل متعدد وعدوں کی طرح کھوکھلے ہونے کا انکشاف کرتے ہیں، جن میں سے بہت سے ادھورے رہ گئے ہیں۔ ایک موجودہ وزیر اعلیٰ کی طرف سے اس قسم کی بیان بازی نے قیادت پر عوام کے اعتماد اور اعتماد کو کافی حد تک ختم کر دیا ہے۔  انڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) کے آزاد اور ممبران سمیت قانون ساز اسمبلی کے 58 سے زیادہ ممبران (ایم ایل اے) کے ساتھ کمانڈنگ اکثریت رکھنے کے باوجود، حکمراں جے کے این سی اس معاشرے کے لیے بامعنی پیش رفت کرنے میں واضح طور پر ناکام رہی ہے جس کی وہ خدمت کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ یہ خطرناک نااہلی حقیقی پیشرفت کو فروغ دینے اور عوام کی اہم ضروریات کو مناسب طریقے سے حل کرنے کی ان کی صلاحیت کے حوالے سے تشویشناک خدشات کو جنم دیتی ہے۔  200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کے متنازع...

شناخت کے بغیر زندگیاں: ہریانہ میں مظلوم خواتین کا المیہ

Image
ہریانہ میں باہر سے آئی خواتین کی ان کہی تکالیف اُرملا لاٹھَر میرا نام اُرملا ہے۔ میں ہریانہ کے ضلع جِند میں رہتی ہوں۔ یہاں بڑی تعداد میں مرد دوسرے صوبوں سے لڑکیوں سے شادیاں کرکے انہیں اپنے گاؤں لے آتے ہیں۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ مقامی خواتین کو جو عزت اور حقوق حاصل ہیں، وہ باہر سے آئی خواتین کو نہیں ملتے۔ہمیں اکثر “بِہار والی”، “خرید کر لائی گئی عورت” جیسے ذلت آمیز القابات سے پکارا جاتا ہے۔ خاندان اور سماج ہمیں بیوی نہیں بلکہ نوکرانی سمجھتے ہیں۔ ہم سے دن رات محنت کروائی جاتی ہے، مگر بدلے میں نہ محبت ملتی ہے، نہ عزت، نہ اپنائیت۔زیادہ تر خواتین بہت کم عمری میں بیاہ کر یہاں لائی جاتی ہیں ـ کوئی چودہ سال کی ہوتی ہے، کوئی پندرہ سال کی۔ برسوں گزر جاتے ہیں، بچے ہو جاتے ہیں، پوری زندگی یہیں بیت جاتی ہے، مگر پھر بھی ہمیں“پردیسی” ہی سمجھا جاتا ہے۔اگر کسی عورت پر ظلم ہوتا ہے اور وہ تھانے کا رخ کرتی ہے تو اسے دھمکا کر بھگا دیا جاتا ہے۔تحصیل، عدالت یا کسی سرکاری دفتر میں بغیر سفارش کوئی کام نہیں ہوتا۔ جن کے پاس دستاویزات نہیں ہوتیں، آدھار کارڈ، راشن کارڈ، پین کارڈ ، انہیں کسی بھی سرکاری ...

ہند-امریکہ عبوری تجارتی معاہدہ: ٹیرف میں کمی سے کسے فائدہ ہوگا؟

جینت رائے چودھری  ہندوستان اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے متوقع عبوری تجارتی معاہدہ بالآخر نافذ ہو گیا ہے ، جس سے دوطرفہ تجارتی تناؤ میں محتاط لیکن سیاسی طور پر اہم کمی آئی ہے اور اس سال کے آخر میں ایک زیادہ جامع دوطرفہ تجارتی معاہدے (بی ٹی اے ) کی راہ ہموار ہو گئی ہے ۔ جیسا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے اعلان کیا تھا، جمعہ کی دیر رات طے پانے والے اس عبوری معاہدے کے تحت امریکہ کئی ہندوستانی نژاد اشیاء پر 18 فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔ ان اشیاء میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات، چمڑا اور جوتے ، پلاسٹک اور ربڑ، نامیاتی کیمیکلز، گھر کی سجاوٹ کا سامان، دستکاری کی مصنوعات اور منتخب مشینری شامل ہیں۔ اگرچہ ٹیرف کو ہٹایا نہیں گیابلکہ اس کی سطح میں کمی ہی کی گئی ہے ، تاہم تجزیہ کاروں اور صنعتی اداروں نے اسے پہلے کے مقابلے میں ایک بامعنی کمی قرار دیا ہے ۔ وزارتِ خارجہ کے سابق سکریٹری (اقتصادی تعلقات) پیناک آر چکرورتی نے کہا، ''ہم نے تجارتی تناؤ کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ بنیادی زرعی مفادات کا تحفظ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جیسا کہ کیا جانا چاہیے تھا... لیکن دونوں اطراف سے ابھی مزید کام کرنے کی ضر...

سورج کنڈ میلہ میں دردناک واقعہ!

Image
سلطان صدیقی فرید آباد کے سورج کنڈ میلہ جو آج سے 33 سال پہلے شروع ہوا تھا اس کا مقصد ہریانہ کی تہذیب اور دیگر ریاستوں کی کرافٹ سے متعلق دیش اور بدیش کے لوگوں کو متعارف کرایاجاتا ہے ۔اس مرتبہ میلے کی تھیم لوکل ٹو گلوبل اور آتم نربھرتا رکھی گئی ہے جس کا مقصد ہندوستانی کاریگروں میں ختم ہورہی کرافٹ فنکاری و بین الاقوامی اسٹیج فراہم کرنا ہے ۔اس مرتبہ اتر پردیش، میگھالیہ تھیم ریاستیں ہیں جو اپنی وراثت کو پیش کررہی ہیں اس مرتبہ میلے میں ساجھیدار دیش مصر ہے ۔اس سب کے بیچ سنیچروار کی شام جھولاگرنے سے ایک پولیس انسپکٹر سمیت دو لوگوں کی موت ہو گئی ۔ہریانہ سرکار نے اس پولیس انسپکٹر کو شہید کو درجہ دے کر اس کے خاندان کو ایک کروڑ روپیہ دینے کا اعلان کیا اور جانچ کے نام پر خانہ پوری کرکے جھولالگادیا گیا اور میٹ بچھا دی گئی اور حسب معمول لوگ جھولے کا آنند لینے لگے۔لیکن اس دردناک واردات کے پیچھے ایک بڑی لاپرواہی سامنے آئی ہے ۔ایک نیوز چینل کو ملی ایف آئی آر کی کاپی سے پتہ چلتا ہے جس میں لکھا ہے جھولاچلانے والے نے لاپرواہی برتی ہے۔اور اس نے سیکورٹی ضابطوں کی تعمیل نہیں کی ہے جس سے لوگوں کی جان کو ...

خطرہ میں اردو زبان کی خوشبو و عطردان سا لہجہ

Image
 اردو میں درخواست نہیں لکھ سکتے، پارٹیکا نہیں لکھ سکتے، رجسٹر اور اسکول رکارڈس بھی اب اردو میں محفوظ نہیں اور اب تو اردو میں ہونے والی تمام سرگرمیاں موقوف ہو چکی ہیں  محمد رفیع  وہ عطردان سا لہجہ میرے بزرگوں کا رچی بسی ہوئی اردو زبان کی خوشبو (بشیر بدر)  بڑا المیہ ہے کہ اردو زبان کے فروغ کے لئے حکومت بہار کوشاں ہے اور محبان اردو بھی متمنی ہیں، لیکن نتیجہ؟ وہیں ایک جانب حکومت اردو زبان کے فروغ کے لئے عملی اقدامات کرتی ہے تو دوسری جانب سرکاری افسران اس کے فروغ میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ ہم بخوبی واقف ہیں کہ اردو زبان کا وجود مدارس و مکاتب سے ہی باقی ہے۔ شعری و ادبی محفلیں بھی اردو زبان سے ہی آراستہ و پیراستہ ہوتی ہیں۔ علمی و ادبی ذوق رکھنے والے حضرات بھی تبھی نظر آئیں گے جب ہمارے مدارس و مکاتب کا وجود قائم رہے گا۔‌ لیکن افسوس صد افسوس کہ روز بہ روز اردو زبان کے وجود کو ختم کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ ابھی میں نے مظفر پور اردو زبان سیل کی سالانہ تقریب فروغ اردو سیمینار و مشاعرہ میں مجلس سے گفتگو کے دوران چند سوالات اٹھائے تھے- میں نے اردو زبان کی موجودہ صورتحال پر اختر...

ہندوستان کی پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی کم نمائندگی کے اسباب

Image
فہیم احمد  ہندوستان دنیا کی بڑی جمہوریتوں میں سے ایک ہے ، جہاں عوام اپنی پسند کے رہنما کا انتخاب کرتے ہیں ۔ہمارا ملک پارلیمانی جمہوریت کی ایک بہترین مثال ہے کیونکہ اس میں امیر ،غریب ،مرد،عورت ،تعلیم یافتہ اور ناخواندہ ،اعلی اور نچلی ذات کی قیدنہیں ہے ۔ کوئی بھی ہندوستانی شہری انتخاب لڑسکتاہے اور ووٹ دے سکتاہے ۔ لیکن اس مضبوط جمہوری ملک کی پارلیمنٹ میں مسلم ارکان کی کم نمائندگی ایک ایسا موضوع ہے ، جس پر سیاسی حلقوں اور سماجی ماہرین کے درمیان طویل عرصے سے بحث جاری ہے ۔ ہندوستان کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب تقریباً 14.2فیصدہے ، لیکن پارلیمنٹ (لوک سبھا) میں ان کی نمائندگی عموماً 4 سے 5فیصدکے درمیان سمٹ کر رہ جاتی ہے ۔ ہندوستان کی آزادی (1947) کے بعد سے پارلیمنٹ، خاص طور پرایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب سے مسلسل کم رہی ہے ۔ مردم شماری (2011) کے مطابق مسلمان تقریباً 14.2فیصد ہیں (حالیہ تخمینوں میں 14-15فیصد یا اس سے زیادہ)، لیکن لوک سبھا میں ان کی نمائندگی حالیہ ادوار میں 4-5 فیصد کے آس پاس رہتی ہے ۔ 2024 کے انتخابات میں صرف 24 مسلمان ارا...

شاعری کے دلنشیں پیرائے کا جادو بیاں شاعر :طاہر فراز

Image
ڈاکٹر شگفتہ یاسمین غزل کی جادوبیانی کو اپنے فن سے سحر سامری بنانے والی شخصیت طاہر فراز جن کے یہاں غزل دل کے کاروبار کا قصیدہ بھی ہے اورآشوب زمانہ کا مرثیہ بھی، ٹوٹتی بکھرتی تہذیبی قدروں کا نوحہ بھی ہے اور محبوب کے لب و عارض، کاکل و رخسار کا دلکش فسانہ بھی، اچانک اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ ان کا سانحہ ارتحال ایک ایسی جانکاہ حقیقت ہے جو بجلی بن کران کے مداحوں پر گری اور خرمن دل کو خاکسترکرگئی ،شاید ہی کوئی ایسی آنکھ ہو جو نمناک نہ ہوئی ہو۔تقریبا نصف صدی تک اردو شاعری ، رامپور اسکول اور اس کے امتیازات سے پوری دنیا کو متعارف کرانے والے نمائندہ شاعر جنہیں دنیا طاہر فراز کے نام سے جانتی اور محبوب رکھتی ہے ۔ اپنی دلکش شخصیت اور شاعری کے دلنشیں پیرائے کی بنا پر نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں قدرومنزلت اورمحبوبیت کے جس مقام پر فائز تھے وہاں تک رسائی میں خداداد صلاحیت، ذاتی محنت و ریاضت اور مداحوں کی بے حد محبت و عقیدت سب کی شمولیت رہی ۔ سرزمین رامپور ہمیشہ سے ہی مردم خیز رہی لیکن طاہر فراز کی شخصیت وفن کی تشکیل و تعمیر میں خانقاہ نیازیہ سے ارادت کا بھی اہم رول رہا ہے ۔ وہ 29 جون1953 کو بدا...

کیا بھارت غیر ملکی تجارت سے اپنا خسارہ دور کر پائے گا؟

Image
کملیش پانڈے ہندوستانی سیاست ایک نظریاتی قحط سے دوچار ہے، جس کا اثر نہ صرف ہمارے ملکی کاروبار پر بلکہ بیرونی تجارت پر بھی صاف نظر آرہا ہے۔ سچ کہوں تو ایسا لگتا ہے کہ ملک کی معاشی خود مختاری چین اور روس جیسے ممالک کے پاس رہن رکھی گئی ہے۔ یہ سچ ہے کہ روس ایک مددگار بین الاقوامی دوست ہے، اور اس کا استحصال فطری ہے۔ لیکن اگر ہم اتنے بڑے تجارتی فوائد کی پیشکش کے باوجود چین جیسے مضبوط پڑوسی دشمن کو اپنا دوست بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو اس سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری اندرونی طور پر کمزور اور پسماندہ پالیسیوں کی وجہ سے ہندوستان بین الاقوامی سطح پر تزویراتی طور پر پیچھے دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی ماہرین پوچھ رہے ہیں: ہندوستان اپنی خسارے میں چلی جانے والی غیر ملکی تجارت کو کب اور کیسے منافع بخش تجارت میں تبدیل کرے گا؟ہندوستان کی غیر ملکی تجارت اس وقت بہت بڑے خسارے میں ہے، جو دسمبر 2025 میں $25 بلین تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے برعکس صورتحال، یعنی تجارتی خسارہ، چین، روس، متحدہ عرب امارات اور عراق جیسے 75 ممالک کے ساتھ موجود ہے، جہاں تجارتی خسارہ برقرار ہے کیونکہ درآمدات برآمدات سے کہیں زیا...

بھارت میں اے آئی کا مستقبل

Image
آکاش چوپڑا مصنوعی ذہانت اکیسویں صدی کی سب سے اہم تکنیکی ترقی میں سے ایک ہے، جو پوری صنعتوں کو نئی شکل دیتی ہے اور لوگوں کی زندگیوں اور کام کے انداز کو تبدیل کرتی ہے۔ ہندوستان میں AI نے بے پناہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے، جس سے متعدد صنعتوں میں اختراع اور ترقی کے مختلف مواقع کھلے ہیں۔ ایک متحرک ڈیجیٹل صنعت اور اہل افراد کے ایک بڑے تالاب کے ساتھ، ہندوستان میں مصنوعی ذہانت کا مستقبل روشن ہے۔ مصنوعی ذہانت ایک قیمتی اثاثہ ہے جو نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ ہندوستان کی مختلف صنعتوں میں اختراع کو تیز کر سکتی ہے۔ صحیح سرمایہ کاری، قانون سازی اور افرادی قوت کی ترقی کے ساتھ، AI ملک کے لیے بے پناہ اقتصادی اور سماجی فوائد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہندوستان AI میں عالمی رہنما بننے کے لیے تیار ہے۔ AI پیداواری صلاحیت کو بڑھا کر، اختراع کو فروغ دے کر، اور نئی منڈیوں کو کھول کر ہندوستان کی اقتصادی ترقی میں نمایاں طور پر حصہ ڈال سکتا ہے۔ AI سے صحت کی دیکھ بھال، زراعت اور تعلیم سمیت کئی صنعتوں پر مثبت اثر پڑنے کی امید ہے، جس سے لاکھوں لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔AI کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، ہندو...

ہماری زندگی کب سدھرے گی؟

Image
چندر موہن نرملا سیتا رمن نے ایک اور بجٹ پیش کیا۔ یہ ان کا لگاتار نواں بجٹ تھا۔ صرف مرارجی ڈیسائی نے مزید پیش کیا، 10 کے ساتھ، لیکن لگاتار نہیں۔ میں ماہر معاشیات نہیں ہوں اس لیے بجٹ کی خوبیوں یا خامیوں پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ یہ نوٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال میں معیشت 7.4 فیصد کی صحت مند شرح سے ترقی کرے گی۔ ہم چوتھی بڑی معیشت ہیں اور چند سالوں میں جرمنی کو پیچھے چھوڑ کر تیسری بڑی معیشت بننے کے لیے تیار ہیں۔ یہ ایک ایسے ملک کے لیے کوئی چھوٹی کامیابی نہیں ہے جو کبھی اپنے لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے PL-480 پروگرام کے تحت امریکہ سے اناج پر انحصار کرتا تھا۔پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ دوسرے ممالک سے "بھیک" مانگتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں اور اپنا سر جھکا لیتے ہیں۔ بھارت اس صورتحال تک نہیں پہنچا۔ یہ آزادی کے بعد سے ہماری قیادت کی درست سوچ کا نتیجہ ہے۔ موجودہ مودی حکومت نے تقریباً 12 سالوں سے ملک کو استحکام فراہم کیا ہے، جس کی وجہ سے ملک ترقی کر رہا ہے۔ حال ہی میں، ہم نے ایک بڑے معاہدے کے ساتھ یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کی، اور ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک معاہدے کا ...