Posts

جنک فوڈ بچوں کی صحت کیلئے نقصاندہ !

Image
روہت مہیشوری وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ اقتصادی سروے 2025-2026 میں خبردار کیا گیا ہے کہ 2035 تک ہندوستان میں 83 ملین بچے موٹاپے کا شکار ہو سکتے ہیں۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے یہ سروے مرکزی بجٹ سے قبل پارلیمنٹ میں پیش کیا۔ یہ دستاویز معیشت کی موجودہ حالت کا ایک سرکاری جائزہ اور مستقبل کے امکانات کا تفصیلی تجزیہ فراہم کرتی ہے۔ اقتصادی سروے نے ایک سنگین انتباہ جاری کیا ہے: آج جو کھانا ہم اپنے بچوں کو دیتے ہیں وہ کل لاکھوں بچوں کی صحت اور ملک کی معاشی طاقت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ پہلی بار، موٹاپے اور غیر صحت بخش غذا کو نہ صرف صحت کے مسائل بلکہ معاشی خطرات کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ یہ انتباہ ہمیں روکنے اور غور کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہمارے بچے کیا کھا رہے ہیں اور کیوں۔ درحقیقت آج، بچوں کا کھانا اب صرف گھریلو معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ ملک کے مستقبل اور معیشت سے جڑا ہوا ہے۔ تیز رفتار زندگی، کام کے دباؤ، اور آسان اختیارات کی تلاش نے والدین کو پیک شدہ اور کھانے کے لیے تیار کھانے کی اشیاء کھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ چپس، بسکٹ، شوگر ڈرنکس، انسٹنٹ نوڈلز اور فاسٹ فوڈ اب بچوں کی روزمرہ خوراک...

بجٹ عام آدمی کی امیدوں پر کتنا کھرا ہے؟

Image
 یوگیش کمار گوئل وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے ذریعہ پیش کردہ مرکزی بجٹ 2026-27 کو حکومت کی اتحادی جماعتوں نے ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے لئے بجٹ کے طور پر سراہا ہے، یہ حکومت کے طویل مدتی وژن اور بدلتے ہوئے ہندوستان کی سیاسی اور اقتصادی ترجیحات کا عکاس ہے، اپوزیشن نے اسے مکمل طور پر بے سمت بجٹ قرار دیا ہے۔ تاہم، مسلسل نویں بار بجٹ پیش کرکے نرملا سیتا رمن نے پارلیمانی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ بجٹ کتنا بڑا ہے یا کتنے نئے اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اس سے مہنگائی سے نبرد آزما عام شہری کو کچھ ریلیف ملتا ہے اور مستقبل کے لیے ایک قابل اعتماد بنیاد پڑتی ہے۔ بجٹ کی تمام کلیدی دفعات کا جائزہ واضح طور پر ترقی، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل معیشت اور خود انحصار ہندوستان کی عکاسی کرتا ہے، لیکن اس میں کئی خلاء بھی ہیں جو عام آدمی، خاص طور پر کسانوں، کم آمدنی والے گروہوں، اور غیر منظم شعبے سے وابستہ افراد کے لیے مایوسی پیدا کرتے ہیں۔ اس بار، حکومت نے خود کو فوری پاپولسٹ اقدامات سے دور رکھا ہے اور طویل مدتی صلاحیت کی تعمیر پر زور دیا...

یہ امت روایات میں کھوگئی

Image
عبدالغفارصدیقی اسلام دین فطرت ہے۔یہ عمل کا دین ہے۔یہ اس لیے نازل ہوا کہ انسان اپنی زندگی کو پرامن،انصاف پسند اور خوش گوار بناسکے۔بدقسمتی سے برصغیر پاک و ہند میں اس دین میں اس قدر ملاوٹ کردی گئی ہے کہ اصل دین پر خرافات و بدعات کی گرد چھا گئی ہے۔انھیں بدعات و خرافات میں سے ایک شب برأت بھی ہے۔ شب برأت کا کوئی تصوراور فضیلت اسلام میں نہیں ہے،نہ رسول اکرم ؐ کے زمانے میں تھا،عرب ممالک میں آج بھی نہیں ہے۔مگر ہمارے یہاں شعبان کا چاند نظر آتے ہی اخبارات میں اس کی فضیلتیں بیان کی جانے لگتی ہیں۔اول تو اسلام میں دن،مہینے،سال اور لمحے سب ہی مقدس و محترم ہیں،یہاں کوئی دن منحوس ہے،نہ کوئی گھڑی۔یہ الگ بات ہے کہ کچھ دن کو خاص فضیلت حاصل ہے جیسے جمعہ کو سید الایام کہا گیا ہے،یا رمضان کو نزول قرآن کی باعث خاص مقام دیا گیا ہے،یا قرآن ہی کی بدولت لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔مومن کے لیے سب دن مبارک ہیں اگر اس نے یہ دن اللہ کی اطاعت و بندگی میں گزارے ہیں،اور اس کے لیے سب دن باعث زحمت ہیں اگر اس نے انھیں نافرمانی میں گزارے ہیں،اسی طرح کوئی شخص ہری دوار میں رہ کر بھی اللہ کا نیک بندہ ہوسکتا ہے اور...

ہندوستان کی قابلِ تجدید توانائی: امکانات اور چیلنجز

Image
ظفراقبال  اکیسویں صدی میں توانائی انسانی تہذیب، معاشی ترقی اور سماجی بہبود کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے ۔ کسی بھی ملک کی مجموعی ترقی کا انحصار اس کی توانائی پیدا کرنے ، تقسیم کرنے اور منصفانہ استعمال کی صلاحیت پر ہوتا ہے ۔ صنعتی انقلاب کے بعد دنیا بھر میں توانائی کی مانگ میں بے مثال اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں روایتی توانائی کے ذرائع مثلاً کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس پر حد سے زیادہ انحصار کیا گیا۔ ان ذرائع نے اگرچہ صنعتی ترقی اور معاشی خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی، عالمی حدت، موسمیاتی تبدیلی، صحت کے سنگین مسائل اور قدرتی وسائل کی تیزی سے کمی جیسے خطرناک نتائج بھی سامنے آئے ۔  ہندوستان، جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک ہے ، توانائی کے ان عالمی چیلنجز سے براہِ راست متاثر ہے ۔ بڑھتی ہوئی آبادی، تیز رفتار شہری کاری، صنعتوں کی توسیع، جدید ٹیکنالوجی کا فروغ اور بہتر معیارِ زندگی کی خواہش نے توانائی کی طلب کو کئی گنا بڑھا دیا ہے ۔ ایسے حالات میں قابلِ تجدید توانائی ایک پائیدار، ماحول دوست اور طویل المدت حل کے طور پر س...

بجٹ میں نمبر گیم کا کھیل،عام آدمی کیلئے کچھ نہیں!

Image
سلطان صدیقی مرکزی بجٹ کو لے کر عام آدمی کے من میں کافی امیدیں تھیں کہ سرکار اس کی بڑھتی مہنگائی سے اس کی جیب میں کچھ پیسہ ڈالے گی اور اسے اشیائے ضروریہ کے دام کم ہوں گے ۔لیکن اس میں او ون مائیکروویب اور دیگر الیکٹرانک سامان اور غیر ملکی سفر وغیرہ وغیرہ میں ٹیکس کم کیا گیا ہے ۔ساتھ ہی کینسر کے علاج میں کام آنے والی 17 دواؤں پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔ غیر ملکی سفر سستا ،شراب ،لگزری گھڑیاں مہنگی ہوئیں جیسا کہ امید تھی کہ بجٹ میں کوئی بڑا اعلان یا پرسنل ٹیکس میں کوئی تبدیلی ہوگی لیکن ایسا ہوا نہیں۔مرکز ی وزیر مالیات نرملا سیتا رمن نے بجٹ میں فسکل کنسولیڈیشن روڈ میپ کی تعمیل کی ہے اور کراس سیکٹر اصلاحات کا اعلان کیا ہے ۔مالی سال 2026-27 کے لئے پبلک کیپٹل خرچہ کو بڑھا کر 12.2لاکھ کروڑ کرنا تھا جوپچھلے سال الاٹ کئے گئے 11.2لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے ۔مرکزی وزیر سیتارمن نے اتوار کو اپنا مسلسل نواں بجٹ لوک سبھا میں جیسے ہی پیش کیا تو بھارتیہ شیئر بازاردھڑام سے گر گئے اور شیئروں کے داموں میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی ۔وزیر موصوفہ وعدہ اور وکلپ شیئروں پر لین دین میں اضافہ کا اعلان کیا جس سے سبھی س...

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ وکمی کی وجہ ؟

Image
کلاسک مارکیٹ عروج پر ہے۔ یہاں کنفیوژن اور غیر یقینی صورتحال ہے۔ ہر کوئی وضاحت کی تلاش میں ہے۔یہ الفاظ ہیں دھاتوں کی قیمتوں کے اُتار چڑھاؤ پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار ٹام پرائس کے جو ’فنانشل ٹائمز‘ سے گفتگو میں سونے، چاندی اور دیگر دھاتوں کی قیمتوں میں اچانک گراوٹ پر خود حیران ہیں۔سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جمعے کو ایک بڑی گراوٹ کے ساتھ رک گیا۔30 جنوری کو سونے کی قیمت میں 12 فیصد، چاندی کی قیمت میں 26 فیصد جبکہ پلاٹینم کی قیمت میں 18 فیصد کی کمی ہوئی۔اس سے پہلے حالیہ مہینوں کے دوران دونوں دھاتوں کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہوا تھا۔ایم کے ایس پیپمس کے تجزیہ کار نکی شیلز نے کہا کہ جمعرات اور جمعے کو اختتام پر اس میں زیادہ اتار چڑھاؤ آئے جسے ’قیمتی دھاتوں کی تاریخ کا سب سے زیادہ اتار چڑھاؤ والا مہینہ‘ کہا جا سکتا ہے۔پاکستان میں جمعرات اور جمعے کے روز سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بہت بڑا اضافہ اور پھر کمی ریکارڈ کی گئی۔مقامی مارکیٹ میں جمعرات کے روز سونے کی قیمت میں 21 ہزار 200 روپے فی تولہ کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جس کے بعد اس کی قیمت پانچ لاکھ 72 ہزار 862 روپے فی ت...

ہندوستان کا اگلا بجٹ: اصلاحات میں تیزی یا طویل مدتی اشارے ؟

Image
جینت رائے چودھری   جب وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اتوار کو پارلیمنٹ میں ہندوستان کا مالیاتی بجٹ 27-2026 پیش کرنے کے لیے کھڑی ہوں گی، تو ان کی تقریر ایک انتہائی نازک موڑ پر سامنے آئے گی۔ عالمی سطح پر جاری منفی حالات کے پیش نظر، انہیں ہندوستان کی ترقی کی کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے 'اسمارٹ' اصلاحات میں تیزی لانے کی ضرورت ہوگی۔ تاہم، بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں کا مطلب یہ ہے کہ سیتا رمن کو ملک کے مسلسل بڑھتے ہوئے اخراجات کو کنٹرول کرنے (بجٹ کے استحکام) کا ارادہ بھی ظاہر کرنا ہوگا۔سیاسی طور پر، اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا یہ شاید بہترین وقت ہے ۔ این ڈی اے (این ڈی اے ) حکومت کو پارلیمانی انتخابات کے ذریعے دوبارہ اقتدار میں آئے دو سال ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ان دو ریاستوں، مغربی بنگال اور تمل ناڈو، جہاں بی جے پی کی انتخابی مشینری تاحال کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہے ، وہاں کے آئندہ انتخابات کے پیش نظر عوامی مقبولیت برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ، لیکن اصلاحات کے ساتھ خطرہ مول لینے کا بھی یہی بہترین وقت ہے ، کیونکہ اگلے عام انتخابات میں ابھی تین سال باقی ہیں۔اصلاحات میں تیزی اس لیے بھی ناگزیر ہے کی...

مسلمان دیگر اقلیتوں کے مقابلے میں پسماندہ کیوں ؟

Image
فہیم احمد  جس طرح کسی انسان کوصحت مند رہنے کےلیے اسکے  جسم کے ہراعضا کا  تندرست وصحت مندہونا ضروری ہے، اسی طرح ملک وسماج کی ترقی  کےلیے  اس کے ہرطبقے کی ترقی وخوشحالی لازمی ہے ۔ دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ ملک ہیں،  انھوں نے  اپنے ہرطبقے کی  یکساں ترقی کو یقینی بنایاہے ۔ تاریخ سے معلوم ہوتاہے کہ سماج میں تقسیم وانتشار ملک کو پیچھے لے جاتے ہیں اور یہی چیز ترقی یافتہ ملک  کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ  ثابت ہوتی ہے ۔ ہندوستان میں دیگر اقلیتوں (جیسے عیسائی، سکھ، جین وغیرہ) کے مقابلے میں مسلمانوں کی پسماندگی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، جو تاریخی، سماجی، معاشی اور سیاسی عوامل پر مبنی ہے۔ یہ پسماندگی تعلیم، روزگار، آمدنی اور سیاسی نمائندگی جیسے شعبوں میں واضح  نظر آتی ہے۔  اس تعلق سے اگر تاریخ پرنظر ڈالی  جائے تو1947کی تقسیم ہند کے وقت بہت سے تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر مضبوط مسلمان پاکستان ہجرت کر گئے، جس سے ہندوستان میں باقی رہنے والے مسلمانوں کی اکثریت غریب اور کم پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔ یہی بنیادی وجہ رہی جس نے ابتدائی...

تشدد کے دور میں گاندھی کے اصولوں کی اہمیت

Image
 یوگیش کمار گوئل 2 اکتوبر 1869 کو پوربندر میں پیدا ہوئے، مہاتما گاندھی زندگی بھر اپنے ہم وطنوں کے لیے رول ماڈل رہے۔ ملک کی جدوجہد آزادی میں ان کی ناقابل فراموش شراکت کو دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ آج مہاتما گاندھی کی 78 ویں یوم شہادت منائی جارہی ہے، جو ہندوستان کی جدوجہد آزادی کی اہم شخصیات میں سے ایک ہیں، جنہیں 30 جنوری 1948 کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ عدم تشدد کے راستے پر چلتے ہوئے، گاندھی جی نے ہندوستان کو برطانوی راج سے آزاد کرایا اور اپنے نظریات سے پوری دنیا کو متاثر کیا۔ اپنے تجربات کی بنیاد پر، اس نے بے شمار کتابیں لکھیں جو آج بھی زندگی میں ہماری رہنمائی کرتی ہیں، کیونکہ یہ تجربات اور ان کے خیالات آج بھی اتنے ہی متعلقہ ہیں جتنے اس وقت تھے۔ صحیح معنوں میں بابائے قوم مہاتما گاندھی ملک بھر کے لاکھوں نوجوانوں کے لیے ایک رہنما کی روشنی ہیں۔ ان کی زندگی کے تین اہم اصول تھے: پہلا، سماجی گندگی کو دور کرنے کے لیے جھاڑو کا استعمال۔ دوسرا، اجتماعی دعا پر زور، ذات پات اور مذہبی رکاوٹوں سے بالاتر۔ تیسرا، چرخہ، جو بعد میں خود انحصاری اور اتحاد کی علامت بن گیا۔گاندھی جی اکثر کہ...

عبدالعلیم کے متبنیٰ کی کہانی جو رشتوں کے لیے امتحان بن گئی !

Image
مفتی اشفاق قاضی زندگی کے بڑے جھگڑے دلوں میں پنپتےہیں اور جب یہ جھگڑے دلوں سے نکل کر کاغذوں، فائلوں اور وکیلوں کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں تو سالہا سال گزر جاتے ہیں اسے فیصل ہونے میں، مگر پھر بھی سکون ہاتھ نہیں آتا، فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر میں آنے والے اکثر معاملات ایسے ہی ہوتے ہیں،جہاں مسئلہ صرف قانون کا نہیں، رشتوں کا بھی ہوتا ہے، اور فیصلہ صرف عدالت کو نہیں، ضمیر کو بھی کرنے ہوتے ہیں، فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر میں جہاں ازدواجی زندگی کے الجھے ہوئے معاملات سلجھائے جاتے ہیں، وہیں مالی اور خاندانی تنازعات،خصوصاً میراث، وصیت اور ہبہ جیسے حساس مسائل—بھی ہمارے سامنے آتے ہیں، انہی میں سے ایک دل دہلا دینے والا قضیہ کچھ یوں پیش آیا کہ ایک صاحب، دنیاوی اعتبار سے نہایت کامیاب، اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر بنے، اللہ تعالیٰ نے خوب مال و دولت سے بھی نوازا، زندگی میں عیش و آرام تھا، عمر ہوئی، نکاح کیا، گھر بسایا، مگر اولاد کی نعمت سے محرومی مقدر بن گئی، برسوں علاج و معالجہ، دعائیں اور امیدیں،مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا، ان کے دو بھائی اور دو بہنیں تھیں، اُن ہی بہنوں میں سے ایک کے بچے کو انہوں ن...

اجیت پوار: سیاست کےدادا جو الزامات سے اوپر اٹھے!

Image
 للت گرگ یہ خبر صرف ایک فرد کے انتقال کی نہیں ہے، بلکہ مہاراشٹر کی سیاست میں ایک پورے دور کا اچانک خاتمہ ہے۔ 28 جنوری 2026 کی صبح جب نائب وزیر اعلیٰ اجیت اننت راؤ پوار کی بارامتی میں ہوائی جہاز کے حادثے میں بے وقت موت کی تصدیق ہوئی، یہ نہ صرف پوار خاندان کے لیے بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے پورے سیاسی منظر نامے کے لیے گہرے غم اور صدمے کا لمحہ تھا۔ بڑے پیمانے پر اختیار، تجربے اور فیصلہ کنیت کی علامت سمجھے جانے والے لیڈر کی اچانک رخصتی نے اقتدار، انتظامیہ اور سیاسی توازن میں ایک بہت بڑا خلا چھوڑ دیا ہے۔ مہاراشٹر کی سیاست اور قومی خیالات کا سفر، جو ایک بار وعدوں سے بھرا ہوا تھا، رک گیا ہے۔ ان کا انتقال ایک گہرا دھچکا ہے، ایک ناقابل تلافی نقصان، نہ صرف مہاراشٹر اور ہندوستان کے قوم پرست نظریے کے لیے، بلکہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی قوم پرست سیاست کے لیے بھی۔ ان کے انتقال سے کوآپریٹو تحریک کو بھی شدید دھچکا لگا ہے۔اجیت پوار کی زندگی شاہی وراثت کی سادہ سی کہانی نہیں تھی۔ 22 جولائی 1959 کو احمد نگر ضلع کے دیولی پروارا علاقے میں پیدا ہوئے اجیت پوار نے زندگی کی جدوجہد کو قریب سے دیکھا۔ ان کے والد...

پانی کے عالمی بحران کی طرف بڑھتی دنیا!

Image
 للت گرگ پانی زندگی ہے۔ یہ لکیر صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کی ایک ابدی سچائی ہے۔ پانی کے بغیر زندگی ناقابل تصور ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پانی جسے ہم زندگی کی بنیاد سمجھتے ہیں، آج سب سے نایاب ذریعہ بن چکا ہے۔ ملک اور دنیا بھر میں پانی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور یہ بحران اب صرف قدرتی نہیں ہے بلکہ انسانی غفلت، بدعنوانی اور بے وقعت طرز حکمرانی کا نتیجہ ہے۔ عالمی سطح پر، تقریباً 25 ممالک پانی کے شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ چار ارب سے زائد افراد کو سال میں کم از کم ایک ماہ تک پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا جیسے خطے اس بحران میں سب سے آگے ہیں۔ بھارت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ 600 ملین سے زیادہ لوگ ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں پانی کا دباؤ زیادہ ہے۔ راجستھان، مہاراشٹر، پنجاب، ہریانہ اور تمل ناڈو جیسی ریاستیں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں، جب کہ چنئی، بنگلورو اور دہلی جیسے میٹروپولیٹن شہروں میں پانی کی قلت روز کا مسئلہ بن گئی ہے۔درحقیقت، پانی کا بحران اب "پانی کے دباؤ" سے آگے بڑھ کر "عالمی پانی دیوالیہ پن" تک جا ...

سوشل میڈیا کا بالی ووڈ میں اہم و کثیرجہتی رول

محمد جاوید سوشل میڈیا نے بالی ووڈ کی دنیا کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے ۔ جہاں کبھی فلموں کی تشہیر، صرف اخبارات، پوسٹرز اور ٹی وی ٹریلرز تک محدود تھی، آج انسٹاگرام، ایکس ، فیس بک اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے فلمی صنعت کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے ۔ سوشل میڈیا ،اب صرف تشہیر کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ بالی ووڈ کے تخلیقی، تجارتی اور سماجی ڈھانچے کا لازمی حصہ بن چکا ہے ۔ فلموں کی تشہیر اور مارکیٹنگ میں سب سے پہلے سوشل میڈیا کا کردار نمایاں ہے ۔ فلم کے پوسٹر، ٹیزر، ٹریلر، گانے اور یہاں تک کہ شوٹنگ کے دوران کی جھلکیاں بھی براہِ راست ناظرین تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس سے تشہیری لاگت بھی کم ہوئی ہے ۔ فلم ریلیز سے پہلے ہی عوام میں تجسس اور گفتگو کے موضوع پیدا ہو جاتے ہیں۔ بالی ووڈ اسٹارز کے لیے سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے ،کیونکہ سوشل میڈیا نے بالی ووڈ اسٹارز اور اس کے مداحوں کے درمیان فاصلے تقریباً ختم کر دیئے ہیں۔ اب اداکار، کسی میڈیا کا سہارا لئے بغیر اپنے خیالات، روزمرہ کی زندگی، آنے والے پراجیکٹس اور فلموں کی تشہیر براہِ راست سوشل میڈیا کے ذریعہ کر سکتے ہیں۔ انسٹاگرام اور ایکس جیسے پلیٹ فارم...

بھارت کا بدلتا سیاسی منظر نامہ

Image
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی ترقی کے وعدے پر سوار ہو کر اقتدار میں آئی بی جے نے مستقل ووٹ بنک بنانے کے منصوبہ پر عمل کیا ۔ تاکہ لمبے وقت تک وہ حکومت میں رہ کر سنگھ کے منصوبہ پر عمل کر سکے ۔ اس کے لئے اپوزیشن کو کمزور اور ان کی منتخب ریاستی سرکاروں پر قبضہ کیا گیا ۔ دوسری طرف ہندو مسلمانوں کے درمیان تفریق، نفرت پیدا کی گئی اور اکثریت پسندی کو فروغ دیا گیا ۔ برسراقتدار جماعت کی یہ منشاء نیچے سے اوپر تک تمام سرکاری ایجنسیوں اور آئینی اداروں کو معلوم ہو گئی ۔ اتر پردیش ہائی کورٹ کے جج نے تو اسٹیج سے اس کا اظہار بھی کر دیا کہ ملک آئین سے نہیں اکثریت کی مرضی سے چلے گا ۔ اس کا نتیجہ ہے کہ پولس، انتظامیہ کی موجودگی میں ہجومی تشدد، مسجد، درگاہ اور قبرستانوں پر حملے کے واقعات  ہوئے اور وہ تماشائی بنے رہے ۔ انتظامیہ نے شر پسندوں کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے الٹے متاثرین پر ہی مقدمات قائم کئے اور ان کے گھروں پر بلڈوزر چلائے ۔ حکومت کے رویہ اور آئینی عہدوں پر فائز وزراء، وزیر اعلیٰ یہاں تک کہ وزیر داخلہ، وزیر اعظم کے نفرتی بیانوں سے شر پسندوں کو اور تقویت ملی ان کی ہمت اتنی بڑھ گئی کہ مسجد، مقبرہ...