لوک سبھا اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک !

سلطان صدیقی

پارلیمنٹ کے اجلاس میں لوک سبھا اسپیکر شری اوم برلا کے ذریعے کانگریس لیڈر شری راہل گاندھی و دیگر اپوزیشن ممبران کو سرکار سے کچھ سوالوں کا جواب مانگنے کے لئے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں اس کو لے کر ہاؤس میں مسلسل ہنگامہ جاری ہے ۔اپوزیشن کا الزام ہے کہ وہ ایک پارٹی کے تئیں جانبدارانہ رویہ اپنا رہے ہیں ۔آج اپوزیشن نے اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس دے دیا ہے اس نوٹس پر 118 ممبران کے دستخط ہیں ۔یہ پرستاؤ باقاعدہ لوک سبھا سیکریٹریٹ کو سونپا گیا ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس نوٹس پر کیا جواب دیتا ہے ۔اپوزیشن نے سرکار سے 4 اشوز پر اعتراض جتایا ہے ان میں ایک ایوان میں اپنی بات رکھنے کے لئے کانگریس لیڈر کو بولنے کا موقع نہیں دیاجارہا ہے ۔نمبر 2 نیشنل سیکورٹی اشوز پر اپنی بات رکھنے کےلئے ٹوکاجارہا ہے ۔لوک سبھا اسپیکر کا یہ رویہ امتیازی ہے ۔اپوزیشن ممبران کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپوزیشن کو اپنی بات رکھنے پر پابندی ہی لگا دی ہے ۔معاملہ یہی ہوا جو اسپیکر کہیں وہ صحیح جو ہم کہیں وہ غلط بہرحال ان کے اس تاناشاہی رویہ پر ہاؤس میں مسلسل ہنگامہ چل رہا ہے دوسری طرف سرکار بجٹ بحث سے پہلے ایجنڈے میں ہیر پھیر کر چکی ہے ان مسئلوں کو لے کر اپوزیشن سرکار پر دبا ؤ ڈال رہی ہے ۔اسی سب کے چلتے ہاؤس میں تعطل بنا ہوا ہے ۔سوال یہ کھڑا ہے کہ اس کو کیسے ختم کر مسئلے کا حل تلاش کیاجائے ابھی تک اس بجٹ سیشن کے باقی جتنے دن گزرے ہیں ان میں کوئی کام نہیں ہوسکا ۔اپوزیشن لیڈر کو بولنے کا موقع نہیں دیاجاتا حالانکہ وہ 9 فروری سوموار کو ایک بار ایسا لگا تھا کہ شاید مسئلے کا کوئی حل نکل آئے جب اپوزیشن لیڈر اور اسپیکر اوم برلاکے درمیان ملاقات ہوئی ۔ایسا لگا تھا کہ مسئلے کا کوئی حل نکل آئے گا لیکن بعد میں پینچ اس وقت پھنس گیا جب اسپیکر نے یہ کہہ ڈالاکہ راہل گاندھی مالی بجٹ پر بحث میں بو ل سکتے ہیں کسی اور موضوع پر نہیں بول سکتے ۔ہاؤس چلانے کے لئے جتنے قواعد ضروری ہیں اتنی اہمیت پارلیمانی روایتوں کی بھی ہے اور جمہوریت کی روایت رہی ہے کہ سبھی کو اپنی بات رکھنے کا موقع ملے لیکن اپوزیشن کے من میں یہ بات گھر کررہی ہے کہ چیئر اسپیکر ان کے تئیں کوئی احترام نہیں برت رہے ہیں اور سرکار کے پاس اپنی بات رکھنے کی اسٹیج اور مواقع ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن اپنی بات نہیں رکھ پارہی ہے ۔درپردہ طور پر کہیں تو اس ہنگامہ میں حکمراں پارٹی کی شہ شامل ہوسکتی ہے کیوں کہ معاملہ لمبا چلے گا تو کاروائی ٹھپ رہے گی اور دن گزرنے کے قریب کچھ معمولی مسئلے پر بحث کر ہاؤس کو ملتوی کر دیاجانا ہے ۔اپوزیشن کے لئے اپنی بات رکھنے کا ہاؤس ایک بڑا اسٹیج ہوتا ہے وہ سرکار سے سوال پوچھ سکتی ہے ۔جو سرکارکی جوابدہی اور پالیسیوں میں توازن بنائے رکھنے کے لئے ضروری ہے ۔ہاؤس کے چیئر افسر ایوان کے محافظ کے رول میں ہوتے ہیں اس لئے ان سے غیر جانبداری اور منصفانہ رویہ کی امید کی جاتی ہے ۔اپوزیشن ممبران کو ان پر بھروسہ ہوتا ہے کہ وہ ان کو بولنے کا موقع دیں گے لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ بھروسہ اب ٹوٹ رہا ہے ۔ادھر کانگریس کی خواتین ایم پیز کی جانب سے اسپیکر کو خط لکھا گیا جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ رولنگ پارٹی کے ذریعے ان کے خلاف نازیب الفاظ استعمال کئے گئے ہیں یہ سب باتیں اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لئے بنیاد بن رہی ہیں اگر ایسا ہوتا ہے مگر بھلے ہی اپوزیشن کے پاس اسپیکر کو ہٹانے کے لئے نمبروں کی تعداد نہیں ہے لیکن اپوزیشن کے پروٹیسٹ اور قدم کا ایک سیاسی پیغام جنتا میں جائے گا اور یہ جمہوریت کے لئے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔جمہوریت میں اپوزیشن کو سرکار سے اس کے کاموں کے بارے میں پوچھنے کا حق ہے لیکن صورتحال حقیقت میں اس وقت بہت تکلیف دہ ہے چونکہ اس سے لگتا ہے کہ ہماری لوک سبھا ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے جس میں اپوزیشن اور حکمراں جماعت کے درمیان کسی طرح کی بات چیت نہیں ہوسکتی ۔بنیادی سوال یہ ہے کہ ایسی صورتحال کیوں بنی ؟ اسکے بارے میں سرکار اگر مثبت رویہ اپناتی تو شاید ایوان میں تعطل پیدا نہ ہوتا اور کام بھی خوش اسلوبی سے چلتا رہتا تھا لیکن اس سلسلے میں پرانی پارلیمانی روایت کو بھی دیکھنا ہوگا جو پارلیمانی قواعد پر مبنی ہیں ۔لوک سبھا کی ہیلدی روایت کے مطابق ان پر تعمیل ہونی چاہیے اور پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو طے بولنے کے حق کا حصہ دیاجاناچاہیے اس لئے بہتر یہی ہے کہ مسئلے کو نپٹانے کے لئے اسپیکر آل پارٹی میٹ بلائیں اور اس میں اس مسئلے کا حق نکلے ۔اور باقاعدہ کوئی پرپوزل پاس کیاجانا چاہیے اس لئے سیشن میں ابھی تک منفی وجوہات کے چلتے کوئی کام نہیں ہوسکا اور آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ ہر منٹ کا خرچ لاکھوں روپے کا ہے اس لئے 19 دن تک کوئی کام نہ ہونا کروڑوں روپے کا نقصان ہے جو آپ کی ہی جیب سے پورا ہوتا ہے ۔یہ سب جنتا دیکھ رہی ہے کیوں کہ ان کے ذریعے چنے گئے نمائندے اپنی ذمہ داری نہہیں نبھا پاتے ہیں تو ان کی نظر میں ایمیج خراب ہوگی اس لئے سرکار اپوزیشن کی جانب سے جو ڈیڈ لاک جاری ہے اسے ختم کرکے ہاؤس کو ٹھیک ٹھاک چلایاجائے اور حکمراں جماعت کو بھی اپنی ضد کو چھوڑنا ہوگا ۔


Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

عبدالعلیم کے متبنیٰ کی کہانی جو رشتوں کے لیے امتحان بن گئی !

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

لنگی میں

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد