عبدالعلیم کے متبنیٰ کی کہانی جو رشتوں کے لیے امتحان بن گئی !

مفتی اشفاق قاضی

زندگی کے بڑے جھگڑے دلوں میں پنپتےہیں اور جب یہ جھگڑے دلوں سے نکل کر کاغذوں، فائلوں اور وکیلوں کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں تو سالہا سال گزر جاتے ہیں اسے فیصل ہونے میں، مگر پھر بھی سکون ہاتھ نہیں آتا، فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر میں آنے والے اکثر معاملات ایسے ہی ہوتے ہیں،جہاں مسئلہ صرف قانون کا نہیں، رشتوں کا بھی ہوتا ہے، اور فیصلہ صرف عدالت کو نہیں، ضمیر کو بھی کرنے ہوتے ہیں، فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر میں جہاں ازدواجی زندگی کے الجھے ہوئے معاملات سلجھائے جاتے ہیں، وہیں مالی اور خاندانی تنازعات،خصوصاً میراث، وصیت اور ہبہ جیسے حساس مسائل—بھی ہمارے سامنے آتے ہیں، انہی میں سے ایک دل دہلا دینے والا قضیہ کچھ یوں پیش آیا کہ ایک صاحب، دنیاوی اعتبار سے نہایت کامیاب، اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر بنے، اللہ تعالیٰ نے خوب مال و دولت سے بھی نوازا، زندگی میں عیش و آرام تھا، عمر ہوئی، نکاح کیا، گھر بسایا، مگر اولاد کی نعمت سے محرومی مقدر بن گئی، برسوں علاج و معالجہ، دعائیں اور امیدیں،مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا، ان کے دو بھائی اور دو بہنیں تھیں، اُن ہی بہنوں میں سے ایک کے بچے کو انہوں نے اپنی گود میں لے لیا، یوں وہ بچہ ان کی آغوشِ میں پلا، تعلیم پائی، محبت ملی، اور عملاً وہی ان کی دنیا بن گیا،گویا یہ ان کا متبنّیٰ (لے پالک) بیٹا حقیقی اولاد کی حیثیت ہی قرار پایا، زندگی کے دوران اکثر جائیدادیں ڈاکٹر محمد عبدالعلیم انصاری (فرضی نام) کے نام رہیں، کچھ املاک انہوں نے باقاعدہ طور پر اپنے لے پالک بیٹے کے نام منتقل بھی کر دیں، بھائیوں اور بہنوں کو بھی حسبِ استطاعت نوازتے رہے، مگر ایک کمی رہ گئی،اپنے بعد کے انتظام کو مکمل، واضح اور شرعی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے طے نہ کر سکے، اور ایسا کرنے والے ڈاکٹر صاحب کوئی پہلے نہیں ہیں، یہ ہمارے معاشرے میں لمحۂ فکر ہے، جس پر عموماً اس وقت توجہ نہیں دی جاتی جب سب کچھ بظاہر پُرسکون نظر آ رہا ہوتا ہے،  ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جو حضرات صاحبِ اولاد نہیں، یا کسی بچے کو گود لے کر اپنی شفقت، محبت اور قربانیوں کے سائے میں پروان چڑھاتے ہیں، انہیں یہ حقیقت دل سے تسلیم کر لینی چاہیے کہ شریعتِ مطہرہ میں صرف پرورش، تعلیم، خرچ اور جذباتی وابستگی وراثت کا قائم مقام نہیں بنتی، متبنّیٰ یا لے پالک اولاد سے محبت کرنا، اسے بیٹے یا بیٹی کی طرح رکھنا، نہ صرف جائز بلکہ باعثِ اجر و ثواب ہے، مگر وراثت کا باب محبت پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ضابطوں پر قائم ہے، اسی مقام پر اکثر لوگ ایک خطرناک غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ہم سب ایک ہیں، ہمارے بعد کوئی جھگڑا نہیں ہوگا، سب مل بیٹھ کر معاملہ سنبھال لیں گے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے، انسان کی وفات کے بعد وہ خود موجود نہیں ہوتا کہ اختلاف کو سلجھا سکے، پھر جائیداد، مال، مکان اور دکانیں بولنے لگتی ہیں اور خاموش دلوں میں چھپے سوال زبان پر آ جاتے ہیں، وہ رشتے جو زندگی میں احترام اور محبت کے ساتھ جڑے رہتے ہیں، اچانک شرعی حصوں، قانونی دعوؤں اور باہمی بدگمانیوں میں الجھ جاتے ہیں، اسی لیے ایسے تمام حضرات کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ زندگی ہی میں،صحت اور ہوش و حواس کی حالت میں علماء، اربابِ افتاء اور ملکی قوانین کے ماہرین کے ساتھ بیٹھ کر اپنی جائیداد کا ایسا واضح، تحریری اور قابلِ عمل نظام مرتب کر لیں جو مکمل طور پر شرعی اصولوں کے مطابق بھی ہو اور ملکی قانون کی روشنی میں بھی مضبوط ہو کہ اپنی وراثت کا کچھ حصہ کہاں ہبہ کرنا ہے، کہاں وصیت کی گنجائش ہے، اور کہاں وراثت کے حصے خود بخود لاگو ہوں گے،ان سب امور کو پہلے ہی واضح کر دینا دراصل اپنے بعد والوں کے لیے رحمت کا انتظام کرنا ہے، نہ کہ ان پر ایک نیا فتنہ چھوڑ جانا، بہرحال ڈاکٹر صاحب دنیا سے رخصت ہو گئے، وفات کے بعد حقیقت پوری شدت سے سامنے آئی، متبنّیٰ بیٹا شرعی اعتبار سے حقیقی اولاد نہ ہونے کی بناء وراثت کا حقدار نہیں تھا، اس لیے زوجہ کو ۲۵فیصد حصہ ملا، باقی ۷۵فیصد دو بھائیوں اور دو بہنوں میں دوہرے اور اکہرے کے اصول پرتقسیم ہونا تھا، مسئلہ یہ تھا کہ مکان، دکان اور دیگر املاک پر عملاً لے پالک بیٹے کا قبضہ تھا، یہیں سے اختلاف کی آگ بھڑک اٹھی،خالہ، پھوپھیاں اور چچا سب محترم رشتے آمنے سامنے آ گئے، اگر یہ معاملہ عدالت چلا جاتا تو برسوں کی دوڑ دھوپ، پیسوں کا ضیاع اور رشتوں کی مکمل بربادی یقینی تھی، اسی نازک موڑ پر خاندان کے ایک صاحب خرد نے تجویز دی کہ عدالت جانے کے بجائے مفتی صاحب کے ساتھ بیٹھ کر بات سمجھ لی جائے، چنانچہ سب کو فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر میں بٹھایا گیا، سب سے پہلے مرحوم کی تمام جائیدادوں کی فہرست بنائی گئی، دیکھا گیا کہ کن املاک میں شرعی ہبہ پایا جاتا ہے اور قانونی دستاویزات مکمل ہیں، وہاں معاملہ صاف تھا، جہاں کاغذات نہیں تھے مگر قبضہ موجود تھا، وہاں شرعی حصوں کی روشنی میں تقسیم کا خاکہ تیار کیا گیا، بیوہ کے ۲۵فیصد نکالنے کے بعد باقی ۷۵فیصد کو چھ حصوں میں تقسیم کر کے، دو دو حصے دونوں بھائیوں کو اور ایک ایک حصہ دونوں بہنوں کو متعین کیا گیا، پھر ان حصوں کی مالیت کا اندازہ لگایا گیا، اس کے بعد سب سے پہلے لے پالک بیٹے سے بات کی گئی، اسے اللہ اور رسول ﷺ کی تعلیمات، تقدیر کے نظام اور حقوق العباد کی سنگینی یاد دلائی گئی، صاف کہا گیا کہ اگر چچا اور پھوپھیاں خوش دلی سے اپنا حصہ چھوڑ دیں تو وہ اس کے لیے رحمت ہوگی، لیکن اگر آپ زبردستی یا ناانصافی پر ڈٹے رہے تو یہ مال دنیا و آخرت دونوں میں آپ کے لئے وبال جان بنے گا، پھر چچا اور پھوپھیوں کو بلایاگیا، ان سے بات چیت کی گئی، انہیں بھی سمجھایا گیا ، ان سے کہا گیا کہ ذرا سوچیں اگر مرحوم کوایک بھی حقیقی بیٹا ہوتا تو آپ کو وراثت میں ایک روپیہ بھی نہ ملتا، یہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو حصہ ملا، مگر اسی خاندان کے ایک بچے کو انہوں نے بیٹے کی طرح پالا، اگر وہ اپنی زندگی ہی میں ساری جائیداد قانونی و شرعی طور پر اس کے نام کر دیتے تو آپ کے لیے کوئی گنجائش نہ رہتی، اب اگرچہ شرعاً آپ کا حصہ بنتا ہے، مگر یہ لازم نہیں کہ آپ اسے لے کر ہی رہیں، عدالت کا راستہ اختیار کرنے کی صورت میں وقت، مال اور رشتے،سب ہی داؤ پر لگ جاتے ہیں اور فیصلہ آجانے کے بعد بھی دل مطمئن نہیں ہوتا، بلکہ ایک مستقل کڑواہٹ باقی رہ جاتی ہے، اور یہ کڑواہٹ خوشی و غم کے موقع پر وبال جان بنتی ہیں، آخرکار ان لوگوں کو سمجھانے کے دوران یہ تجویز سامنے آئی کہ رہائشی مکان،جس میں لے پالک بیٹا اپنی بیوی، بچوں اور مرحوم کی بیوہ (لڑکے کی منہ بولی ماں) کے ساتھ رہتا ہے، خالہ، پھوپھیاں و دیگر رشتہ دار اس سے دستبرداری اختیار کرلیں، اور دکان و نقدی وغیرہ میں باہمی رضامندی سے کچھ کمی بیشی کے ساتھ تقسیم پر اتفاق کر لیا جائے، دو تین نشستوں میں انہیں سمجھانے کے بعد ان کے دل نرم ہو گئے، انا ختم ہوئی، نفرت دور ہوئی اور محبت کے جیتنے کے ساتھ ہی الجھا ہوا مسئلہ حل ہو گیا، وہ جھگڑا جو برسوں عدالتوں میں گھسٹ سکتا تھا، الحمدللہ فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے کیبن میں بیٹھ کر سلجھ گیا۔

فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر محض ایک ادارہ نہیں، بلکہ امید کی ایک شمع ہے، الحمدللہ قلیل مدت میں یہ سینٹر سینکڑوں خاندانوں کے درمیان خوشیوں کی واپسی کا ذریعہ بنا ہے،خواہ وہ ازدواجی زندگی کے بگڑے ہوئے رشتے ہوں، بھائیوں کے درمیان جائیدادی تنازعات، یا ننھے معصوم بچوں کی نشے کی لت سے نجات کے دردناک قصے،یہاں فیصلے فائلوں پر نہیں، قرآن و سنت کی روشنی میں حل کیے جاتے ہیں،جو دیرپا اور باعث سکون ہوتے ہیں، آپ کے اطراف و اکناف بھی کوئی ان مسائل سے دوچار ہوں تو انہیں بھی فیملی فرسٹ کی راہ دکھائیں ہوسکتا ہے ان کی زندگی میں بھی محبت وسکون لوٹ کر آجائے۔

(مضمون نگار معروف عالم دین، مشہور کالم نگار، صدر مفتی دارالافتاء والارشاد جامع مسجد بمبئی اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے بانی وڈائریکٹر ہیں)


Comments