وکست بھارت اور بے روزگاری !
سلطان صدیقی
وکست بھارت یعنی ڈولپ انڈیا 2047 یعنی آزادی کے 100 سال پورے ہونے تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کا سرکار کا ویژن ہے جو اقتصادی خوشحالی سماجی ترقی ،ماحولیاتی توازن اور گڈ گورننس پر مبنی ہونا چاہیے ۔جس میں نوجوانوں کو وکست بھارت -2047 نوجوانوں کے آواز کے تحت نئے خیالات اور مختلف اسکیموں کے ذریعے ہر شہری کی زندگی کو بہتر بنانے پر زور دیا جاتا ہےتاکہ بھارت ایک مضبوط اور خود کفیل عالمی طاقت بن سکے ۔وکست بھارت ایک وسیع نظریہ ہے جو بھارت کو صرف اقتصادی ترقی کا ویژن ہے ۔بھلے ہی ہم خوشحالی اور شہری کے طبقہ کو باروزگار بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن سچائی یہ ہے ملک میں کچھ برسوں سے بے روزگاری ایک اہم اشو بنا ہوا ہے ۔اس سے بڑی سطح پر یوتھ پاور کا استعمال نہیں ہو پارہا ہے اور یہ ملکی مکمل ترقی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔کوئی بھی معاشی نظام کو تواژن تبھی ماناجاتا ہے جب جب اس میں اقتصادی ترقی کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی نکلیں گے ۔دیہاتی اور شہری علاقوں میں کل ورکنگ فورس آبادی کے لحاظ سے بھارت دنیا کا سب سے بڑا دیش ہے ۔جہاں نوجوانوں کی آبادی دیگر ممالک سے زیادہ ہے ۔مگر اس ورکنگ فورس کو وسیع طور پر ملک کی تعمیر میں ساجھیداری کے یکساں مواقع نہیں مل رہے ہیں ۔اس کا تجزیہ سنٹرل اسٹیٹکس و پروگرامنگ عمل وزارت کی جانب سے جمعرات کو جاری کی گئی رپورٹ سے کیا جاسکتا ہے ۔اس میں کہا گیا ہے کہ دیش میں 15 برس اور اس سے زیادہ عمر کے لڑکوں میں بے روزگاری شرح پچھلے دسمبر میں بڑھ کر 4.8 فیصد پر آگئی جبکہ ماہ نومبر میں یہ ٹیلی 4.7 تک تھی ۔شہری علاقہ میں بے روزگاری کا اثر زیادہ رہا جہاں کی شرح نومبر میں 6.5 فیصد سے بڑھ کر 6.7 فیصد ہو گئی ۔اس سے صاف ہے کہ سرکار اور پرائیویٹ سیکٹر و غیر منظم سیکٹروں میں روزگار کے مواقع مسلسل گھٹ رہے ہیں ۔
غور طلب ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے آتم نربھر بھارت اور اسکل انڈیا جیسی لوک لبھاون اسکیموں کی شروعات کی گئی لیکن ان کا اثر مختلف سیکٹروں میں الگ الگ رہا جس وجہ سے نوجوان اور لیبر طبقہ اپنے ٹیلنٹ کو ڈولپ کرنے کے لئے ٹریننگ حاصل کررہا ہے ۔اس کے باوجود انہیں روزگار کے مواقع میسر نہیں ہوپارہے ہیں ۔مرکزی سرکار کو چاہیے کہ وہ ان ٹیلنٹ یافتہ لڑکوں کو روزگار میں لگانے کے لئے غیر ملکی کمپنیوں کے لئے دروازے کھولے کیوں کہ دیش میں روزگار کے محدود سورس ہیں ۔انڈین ٹیکنالوجی اینڈ ڈیجیٹلائزیشن کے سبب بھی روزگار میں کمی آئی ہے ۔حالانکہ ڈیجیٹل سیکٹر میں روزگار کے نئے مواقع پیدا تو ضرور ہو رہے ہیں لیکن اس کے حساب سے ٹیلنٹڈ لڑکے نہیں ہیں اس لئے جو ہیں ان میں بھی خصوصی ٹیلنٹ کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر کسی کے پاس نہیں ہے ۔اس میں دورائے نہیں کہ روزگار کی مانگ کے تناسب کے حساب سے سرکاری نوکریوں میں اضافہ نہیں ہوپارہا ہے ۔اس کے علاوہ سرکاری بھرتی پروسیس میں بھی دیری اور امتحان سسٹم میں کوتاہیاں کے اشو بھی روزگار کے حصول کو متاثر کرتی ہیں حالانکہ اعداد شمار کے حساب سے دیکھیں تو شہروں کے مقابلے میں د یہی علاقوں میں راحت کی بات یہ ہے کہ وہاں پچھلے برس نومبر سے دسمبر کے درمیان بے روزگاری نہ بڑھی اور نہ گھٹھی ہے ایسے میں سرکار کو چاہیے کہ بے روزگاری شرح میں کمی لانے کے لئے ایجوکیشن کو ٹیلنٹ اور ڈولپ سے جوڑ نے کو ترجیح دی جائے اور جس سے ینگ نسل کو ٹیکنالوجی کی ٹریننگ مل سے اور اسی وجہ سے سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر میں روزگار کے مواقع پیدا کئے جانے چاہیے تبھی بھارت صحیح معنی میں دنیا میں ایک وکست دیش بننے کی راہ میں آگے بڑھ پائے گا۔

nice
ReplyDelete