پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟



 اسد مرزا

اسرائیل پر حماس کے 2023 میں حملے کے دو سال سے زیادہ کے وقفے کے بعد ایک پرانئ   کہاوت کے مطابق  ’بلی‘ اب واقعی ’تھیلے سے باہر‘  ا ٓگئی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے گزشتہ ہفتے کے اواخر میں مبینہ ’پروجیکٹ سن رائز‘ کی تفصیلات شیئر کیں۔ مجوزہ تجویز یہ ہے کہ جنگ زدہ غزہ کو اگلی دو دہائیوں میں ایک ہائی ٹیک، پرتعیش ساحلی مقام کے طور پر دوبارہ تعمیر کیا جائے اور اسے ممکنہ عطیہ دہندگان اور سرمایہ کار ممالک کے لیے پیش کیا  جائے تاکہ وہ اس میں سرمایہ کاری کرسکیں۔

بظاہر، پہلے 10 سالوں میں 112 بلین ڈالر کی لاگت والے اس منصوبے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے امریکی سفیر اسٹیو وٹ کوف کی سربراہی میں گزشتہ 45 دنوں کے دوران ایک ٹیم نے تیار کیا، وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا۔ رپورٹ کے مطابق، ابتدائی طور پر، امریکہ 60 بلین ڈالر فراہم کر کے پروگرام  مضبوط  کرنے کا عہد کرے گا، اور   ساتھ ہی  یہ بھی یقینی بنائے گا کہ غزہ اس تجویز کے کچھ حصوں کے لیے فنڈز خود فراہم کر سکے گا۔۳۲صفحات پر مشتمل پاورپوائنٹ سلائیڈز پر "حساس لیکن غیر درجہ بند" کا لیبل لگایا گیا ہے اور ملبے کو صاف کرنے، غزہ کی پٹی کی تعمیر نو، اور غزہ کے باشندوں کو غربت سے نکالنے کے لیے چار مراحل پر مشتمل وژن کی تفصیل دی گئی ہے، اور اسے امیر خلیجی ممالک، ترکی اور مصر کو دکھایا گیا ہے، ڈبلیو ایس جے نے رپورٹ کیا ہے۔

دریں اثنا، اتوار (21 دسمبر) کو امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بیورو آف نیئر ایسٹرن افیئرز نے ان خبروں پر سخت ردِ عمل ظاہر کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنگ زدہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے 112 بلین ڈالر کے منصوبےکا نصف سے زیادہ کے  امریکہ ادا کرے گا۔اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بیورو آف نیئر ایسٹرن افیئرز نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ایکس پر پوسٹ کیا، "یہ جعلی خبر ہے۔ منصوبے میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ امریکہ 60 بلین ڈالر ادا کرے گا۔"

بظاہر، اس سال کے شروع میں، ٹرمپ نے "مشرق وسطی کا رویرا" بنانے کے لیے غزہ کی پٹی پر قبضہ کرنے اور اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا ایک خیال پیش کیاتھا، جب کہ فلسطینی باشندوں کو مستقل طور پر منتقل کر دیا  جاےگا۔ فروری میں ان کے اعلان کی کئی ممالک نے سرزنش کی لیکن اسرائیل کی حکومت نے اس کا خیرمقدم کیا۔ اس کے بعد ٹرمپ نے غزہ کے باشندوں کو مستقل طور پر ہٹانے کی شق کو واپس لے لیا تھا۔اس منصوبے میں ملبہ، نہ پھٹنے والے بموں اور حماس کی سرنگوں کو صاف کرنا شامل ہے جبکہ غزہ کے باشندوں کے لیے عارضی پناہ گاہ اور طبی مراکز قائم کیے جانے ہیں - حالانکہ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ وہ اس تعمیر نو کے دوران کہاں رہیں گے، ڈبلیو ایس جے کے مطابق۔

اس کے بعد، مستقل رہائش گاہوں، عوامی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق، ضروری کام مکمل ہونے کے بعد، لگژری پینٹ ہاؤس رہائش گاہوں کی تعمیر، "چمکدار رویرا" کے ساتھ ساتھ ہائی ٹیک ریل ٹرانسپورٹ کے حصے کے طور پر شروع ہو جائے گی۔جرنل کی طرف سے دیکھی گئی سلائیڈوں میں سے ایک کا عنوان 'نیو رفح' ہے، جس میں اس شہر کو غزہ کی پٹی کے لیے 'گورننس کی نشست کے طور پر تصور کیا گیا ہے۔ "وہ ایسے شہر میں رہیں گے جس میں 100,000 سے زیادہ ہاؤسنگ یونٹ ہوں گے، 200 یا اس سے زیادہ اسکول ہوں گے، اور 75 سے زیادہ طبی سہولیات اور 180 مساجد اور ثقافتی مراکز ہوں گے،" ڈبلیو ایس جے نے رپورٹ کیا۔

بظاہر، رپورٹ کردہ منصوبے میں، جرات مندانہ ز میں، حماس کو "تمام ہتھیاروں اور سرنگوں کو غیر فوجی اور ناکارہ بنانے" کی ضرورت پرزوردیا گیاہے، جس کا مطالبہ حماس نے اب تک مسترد کر دیا ہے۔اسرائیل اور امریکہ دونوں نے اصرار کیا ہے کہ غزہ کی بحالی سے قبل حماس کو غیر مسلح کرنا چاہیے۔ ٹرمپ حکام نے جرنل کو بتایا کہ اگر سیکیورٹی حالات اجازت دیتے ہیں تو یہ منصوبہ دو ماہ کے اندر شروع ہو سکتا ہے۔

جرنل کے مطابق، اس منصوبے کو امریکی حکام میں ملی جلی رائے ملی ہے، جس میں کچھ شکوک و شبہات ہیں کہ حماس اپنے ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائے گی، اس طرح اس عظیم منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی اجازت دی جائے گی، اگر ممکنہ عطیہ دینے والے ممالک اس تجویز کے لیے فنڈز فراہم کریں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوسری طرف، کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ یہ غزہ کے ممکنہ مستقبل کے لیے ابھی تک "سب سے زیادہ تفصیلی اور پر امید" منصوبہ ہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وِٹکوف گزشتہ جمعہ کو میامی میں غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر بات کرنے کے لیے سینئر قطری، مصری اور ترک حکام کے ساتھ ملاقات کرنے والے تھے۔ رپورٹ کے مطابق، چاروں ممالک کا خیال ہے کہ اسرائیل اور حماس دونوں معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد سے بچنے کے لیے  ہچکچاہٹ دکھا رہے ہیں، اور  امريکا دونوں فریقوں کو آگے بڑھنے کے لیے مشترکہ نقطہ نظر کا فیصلہ کرنے کے لیے بے چین ہے۔

دوسرے مرحلے کے تحت، اسرائیل کو غزہ میں اپنی پوزیشنوں سے دستبردار ہونا ہے، ایک عبوری اتھارٹی کوحماس کے بجائے علاقے پر حکومت کرنا ہے، اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کو تعینات کیا جانا شامل ہے۔

لیکن معاہدے کے اس مرحلے کی طرف بڑھنے میں پیش رفت اب تک سست رہی ہے، جب کہ دونوں فریقین کی جانب سے خلاف ورزیوں کے الزامات کے ساتھ جنگ بندی کمزور ہورہی  ہے۔ اسرائیل نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں غزہ میں حماس کے سینیئر کمانڈر رائد سعد کو ہلاک کر دیا تھا، جس نے مبینہ طور پر ٹرمپ کو جنگ بندی کو خطرے میں ڈالنے کی تنبیہ کرنے کے لیے جنم دیا تھا۔ 

ٹرمپ انتظامیہ اب  سب سےزیادہ مشکل دوسرے مرحلے کی طرف بڑھنے کا  خواہشمند ہے، جس میں حماس کے لیے ہتھیار ڈالنے کی فراہمی ایک خاص نقطہ ہے۔ تیسرے مرحلے میں جنگ کے دوران غزہ کے وسیع علاقوں کی تعمیر نو شامل ہے، جو اکتوبر 2023 میں حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے سے شروع ہوئی تھی۔

تاہم بین الاقوامی مذمتوں کے باوجود گزشتہ دو برسوں کے دوران جس طرح غزہ اور فلسطین کے دیگر مقامات کا وسیع علاقہ اسرائیلی افواج نے تباہ کیا اور اب غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کی تفصیلات سامنے آرہی ہیں  تو اس سے حیرت ہوتی ہے کہ کیا اس پورے ڈرامے کا مقصد صرف اس علاقے کو خالی کروانا تھا  ی ااس کے جائز م شہریوں کو  ان کا حق ادا کرانا تھا۔ یا شروع سے ہی منصوبہ یہ تھا کہ غزہ کو فلسطینیوں سے آزاد کرایا جائے، تاکہ اسے AI اور جدید ٹیکنالوجی سےلیس کرکے صحرا میں’ ریویرا یا ‘یا سنگاپور کے طور پر دوبارہ تیار کیا جا سکے۔

اگر ہم تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو یہ واضح  ہوجائے گا  کہ  مختلف وسطی ایشیائی ماہرین، عسکری ماہرین اور ایک عام مسلمان بھی مسلسل سمجھتا اور کہتا چلا آیا تھا کہ دراصل۱۹۴۸ میں  اسرائیل کے قیام کے وقت سے ہی  مغربی ممالک کا اصل پلان یہی تھا اس طریقے سے وہ فلسطین کے علاقے کو مستقل انتشار کا شکار بناکر وہاں قتل و غار ت گری کا بازار گرم کرسکیں۔  دراصل مغربی ممالک صلیبی جنگوں میں اپنی شکست کا بدلہ ہر حالت میں لینا چاہتے تھے۔ اس کے لئے انہوں نے ۱۹۴۰ کے بعد مختلف عرب ممالک کو آزاد ریاستوں کے طور پر یا یوں کہیں کہ اپنی کٹھ پتلی حکومتوں  کے طور پر قائم کیا تھا۔ مزید ان کا  وسیع ترمنصوبہ یہی تھا کہ جب تک ہوسکے وسطی ایشیا کے عرب ممالک کے قدرتی وسائل  خاص طور پر خام تیل پر ان کا قبضہ جاری رہے۔ 


اس پورے منصوبے میں صرف ایک ملک یعنی کہ ایران ان کے لئے خطرہ بن کر ابھرا، لیکن جب ہم ’پروجیکٹ سن رائز‘ کا تجزیہ کریں تو کیا اس سے  یہ ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ اسرائیل پر حملہ کرکے ایران نواز حماس نے مغربی ممالک کو ان کا اصل مقصد حاصل کرنے میں مدد مہا کرائی ہے؟ تو کیا ان دونوں کو بھی ہم اس سازش کا حصہ سمجھیں؟ خیر یہ حقیقت تو وقت آنے پر مستقبل میں واضح ہوجائے گی لیکن اس درمیان امریکہ اپنا اور اس کے دیگر ہم نوا ممالک اپنا اصل مقصد حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے اور وہ دن بھی دور نہیں جب  صلیبی پرچم یروشلم پر لہرائے گا  ، تب بھی مسلم ممالک بدستور خاموش ہی اختیار کریں گے۔ 



Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

لنگی میں

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

عبدالعلیم کے متبنیٰ کی کہانی جو رشتوں کے لیے امتحان بن گئی !

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟