تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

عبدالغفارصدیقی

9897565066

حضرت آدم ؑ کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے زمین کے لیے کی تھی جیسا کہ قرآن مجید میں اس کی وضاحت کی گئی ہے۔إِنِّی جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیفَۃً (البقرہ۔ 30)”میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔“اس آیت میں دو باتیں صاف ہیں۔ایک یہ کہ حضرت آدم ؑ کی حیثیت خلیفہ کی ہوگی اوردوسری یہ کہ وہ زمین پر رہیں گے۔

لفظ ”خلیفہ“ عربی زبان سے ماخوذ ہے جس کا مادّہ ”خ ل ف“ ہے، اور اس کے اصل معنی ہیں ”پیچھے آنے والا، جانشین، نائب اور نمائندہ“۔ یعنی وہ شخص جو کسی کے بعد اس کی جگہ ذمہ داری سنبھالے یا اس کی طرف سے کوئی کام انجام دے۔ان معانی کی روشنی میں حضرت آدم ؑ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ اس کے نمائندے تھے،اللہ کے احکامات کے پابند تھے اور اس کے سامنے جواب دہ تھے۔جو ذات کسی اتھارٹی کی خلیفہ ہوتی ہے،اس ذات کے اور اس اتھارٹی کے درمیان کوئی شئی حائل نہیں ہوتی۔وہ کلی طورپر سپریم اتھارٹی کے احکامات اور مرضی کی پابند ہوتا ہے اور اپنے تمام کاموں کے تئیں اسی کو جواب دہ ہوتا ہے۔ حضرت آدم ؑ کی اس حیثیت اور مقام کا یہ مفہوم بھی ہے کہ اللہ کے بعد انھیں کا مقام و مرتبہ ہے۔اللہ کی دیگر مخلوق آدمؑ کے بعد ہیں،خواہ وہ فرشتہ ہوں یا کوئی اور۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعہ سجدہ کراکے بھی یہی پیغام دیا ہے کہ فرشتوں کا مقام حضرت آدم ؑ کے بعد ہے۔حضرت آدم ؑ کی اس عظیم الشان حیثیت کی بنا پر انسانیت کا مقام تمام مخلوقات سے بلند ترہے۔انسان اشرف المخلوق ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر حضرت آدم ؑ جنت میں ممنوعہ درخت کا پھل نہ کھاتے تو ہمیشہ جنت میں ہی رہتے۔ان کا یہ خیال سرے سے لغو ار غلط ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو پید اکرنے سے پہلے یہ بات بتادی تھی کہ میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں تو پھر ہمیشہ کے لیے انھیں جنت میں رکھنے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔

فرشتوں کا سجدہ اور ابلیس کا انکار سجدہ؟

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کرنے کے بعدفرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم ؑ کو سجدہ کریں،چنانچہ سب نے سجدہ کیا۔لیکن ابلیس نے سجدہ نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے معلوم کیا کہ تم نے سجدہ کیوں نہیں کیا؟تواس نے کہا کہ میں آدم سے اشرف ہوں۔آپ نے اسے مٹی سے بنایا ہے اور مجھے آگ سے بنایا ہے۔ اس کے اس جواب پر اللہ تعالیٰ نے اسے دھتکار دیا۔اس نے کہا کہ آپ جس کی وجہ سے دھتکار رہے ہیں،میں اسے آپ کا نافرمان بناؤں گا۔آپ مجھے اک مقررہ مدت تک اس کی مہلت دیجیے ۔اللہ تعالیٰ نے اسے یہ مہلت دے دی۔اللہ اور ابلیس کے درمیان یہ مکالمہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔سورہ نحل کی آیات کا ترجمہ ملاحظہ کیجیے:۔

”ہم نے انسان کو سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے بنایااور اُس سے پہلے جنوں کو ہم آگ کی لپٹ سے پیدا کر چکے تھے۔پھر یاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ:۔”میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں۔جب میں اُسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا“۔چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔سوائے ابلیس کے۔ اُس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔رب نے پوچھا ''اے ابلیس، تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا؟اس نے کہا ''میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اِس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا ہے''رب نے فرمایا ''اچھا تو نکل جا یہاں سے کیونکہ تو مردود ہے۔اور اب روز جزا تک تجھ پر لعنت ہے''۔اُس نے عرض کیا ''میرے رب، یہ بات ہے تو پھر مجھے اُس روز تک کے لیے مہلت دے جبکہ سب انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے''فرمایا ''اچھا، تجھے مہلت ہے۔اُس دن تک جس کا وقت ہمیں معلوم ہے''۔وہ بولا ''میرے رب، جیسا تو نے مجھے بہکایا اُسی طرح اب میں زمین میں اِن کے لیے دل فریبیاں پیدا کر کے اِن سب کو بہکا دوں گا۔سوائے تیرے اُن بندوں کے جنہیں تو نے اِن میں سے خالص کر لیا ہو''۔فرمایا ''یہ راستہ ہے جو سیدھا مجھ تک پہنچتا ہے۔بے شک، جو میرے حقیقی بندے ہیں ان پر تیرا بس نہ چلے گا تیرا بس تو صرف اُن بہکے ہوئے لوگوں ہی پر چلے گا جو تیری پیروی کریں،اور ان سب کے لیے جہنم کی وعید ہے''(النحل۔26تا43)

اس گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو قیامت تک یہ مہلت دی ہے کہ وہ انسانوں کو بہکائے،ان کو اللہ کی نافرمانی پر ابھارے،برائیوں کو ان کے سامنے خوش نما بنا کر پیش کرے۔البتہ اسے یہ قدرت حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی بھی انسان کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی برائی کی طرف لے جائے۔جیسا کہ درج ذیل آیات سے واضح ہوتا ہے۔

”بیشک شیطان تمہیں تنگ دستی کا خوف دلاتا ہے اور بے حیائی کے کاموں پر ابھارتا ہے“  (سورۃ البقرۃ آیت 268)”اور ہم نے ان کے لیے (شیطان کو) ساتھی بنا دیا تو اس نے ان کے سامنے اور پیچھے کی باتوں کو ان کے لیے خوشنما بنا دیا“ (سورۃ فصلت آیت 25)”وہ اپنے ماننے والوں کو صرف اس لیے بلاتا ہے کہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔“ِ(سورۃ فاطر آیت 6)جب بروز حشرسزایافتہ انسان شیطان کو مورد الزام ٹھہرائیں گے تو وہ کہے گا:۔”اور میرا تم پر کوئی زور نہیں تھا میں نے صرف تمہیں بلایا اور تم نے میری بات مان لی۔“(سورۃ ابراہیم آیت 22)دوسری جگہ فرمایا:۔”اس کا زور ایمان والوں پر نہیں چلتا جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔“ (سورۃ النحل آیت 99)

یہاں یہ بات بھی واضح کرتے چلیں کہ ابلیس کا تعلق فرشتوں سے نہیں تھا بلکہ وہ جنوں میں سے تھا۔جیسا کہ قرآن میں وضاحت کی گئی ہے۔:وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَاءِکَۃِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِیسَ کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّہِ (الکہف: 50)''اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں کیا، وہ جنّات میں سے تھا، سو وہ اپنے رب کے حکم سے نکل گیا۔''

ابلیس کے انکار سجدہ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ جنات بھی انسان کی طرح بااختیار مخلوق ہیں۔ابلیس نے اسی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ کرنے کا حکم فرشتوں کو دیا تھا جنات کو نہیں دیا تھا۔یہ اعتراض آیت اللَّہُ یَقُولُ مَا مَنَعَکَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُکَ”اللہ نے فرمایا تجھے کس چیز نے روکا کہ تو سجدہ نہ کرے جبکہ میں نے تجھے حکم دیا تھا۔“ٍ (الاعراف آیت 12)سے رفع ہوجاتا ہے۔

اس موقع پر یہ سوال بہر حال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ابلیس سجدہ کرلیتا تو پھر دنیا میں شر،فتنہ و فساد کہاں ہوتا؟اور اگر یہ نہیں ہوتا تو پھر انسان کی آزمائش کی کیا صورت حال ہوتی؟اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے وہ کوئی دوسرا طریقہ اپنا لیتا،دوسرا جواب یہ ہے کہ ابلیس کا انکار سجدہ بھی اللہ کی مشیت کے مطابق تھا۔اس نے تخلیق آدم اور خلافت ارضی کا جو منصوبہ بنایا تھا،ابلیس بھی اس کا ایک کردار تھا۔علامہ اقبال کی مجلس شوریٰ میں اپنے اسی کردار کی طرف ابلیس اشارہ کرتے ہوئے،جبریل ؑ سے کہتا ہے:۔

گر کبھی فرصت میسر ہوتو پوچھ اللہ سے

قصہ ئ آدم کو رنگیں کرگیا کس کا لہو

حضرت آدم و حوا جنت میں 

فرشتوں کے سجدہ کرلینے اور ابلیس کے سجدہ نہ کرنے نیز ابلیس کے اللہ تعالیٰ سے بحث کرنے سے یہ واضح ہوگیا کہ ابلیس آدم ؑ اور ان کی اولاد کا دشمن ہے۔اسی موقع پر اللہ نے حضرت آدم ؑ سے ان کا جوڑا حوا کی شکل میں پیدا کیا۔اس کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح کیا گیا ہے:۔”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا۔“(النساء: 1)

اب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ و حوا کوجنت میں رکھا اور کہا کہ ”فلاں درخت کا پھل نہ کھانا۔“یہ واقعہ بھی کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے مگر سورہ طٰہ میں ایک ساتھ آیا ہے ۔ہم طوالت سے بچتے ہوئے صرف ترجمہ پر اکتفا کرتے ہیں:۔

”یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو وہ سب تو سجدہ کر گئے، مگر ایک ابلیس تھا کہ انکار کر بیٹھااس پر ہم نے آدمؑ سے کہا کہ ''دیکھو، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے، ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکلوا دے اور تم مصیبت میں پڑ جاؤ۔یہاں تو تمہیں یہ آسائشیں حاصل ہیں کہ نہ بھوکے ننگے رہتے ہونہ پیاس اور دھوپ تمہیں ستاتی ہے''لیکن شیطان نے اس کو پھُسلایا کہنے لگا ''آدم، بتاؤں تمہیں وہ درخت جس سے ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے؟''آخرکار وہ دونوں (میاں بیوی) اُس درخت کا پھل کھا گئے نتیجہ یہ ہُوا کہ فوراً ہی ان کے ستر ایک دوسرے کے آگے کھُل گئے اور لگے دونوں اپنے آپ کو جنّت کے پتّوں سے ڈھانکنے لگے۔ آدمؑ نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہِ راست سے بھٹک گیاپھر اُس کے رب نے اُسے برگزیدہ کیا اور اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے ہدایت بخشی اور فرمایا ''تم دونوں (فریق، یعنی انسان اور شیطان) یہاں سے اتر جاؤ تم ایک دُوسرے کے دشمن رہو گے اب اگر میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری اُس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بد بختی میں مبتلا ہو گا۔(سورہ طہٰ آیت 117تا123)یہ گویا آدم ؑ کا ابلیس سے مکمل اور عملی تعارف تھا۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ:

اس موقع پر ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے۔دنیا کے تمام مذاہب اور اسرائیلی روایات میں حضرت آدم ؑ کو جنت سے نکلوانے کا مجرم عورت کو قراردیاگیا ہے۔اسی مفروضہ کی بنا پر عورت کو گنہ گار اور ذلیل و کم تر سمجھاگیا۔بعض مذاہب میں عورت کی صورت دیکھنے تک کو پاپ اور گناہ قرار دے دیا گیا۔یہ اسلام کا عورتوں پر احسان ہے کہ اس نے ان پر سے یہ الزام ہٹایا اور بتایا کہ شیطان نے صرف حوا کو ہی نہیں بہکایا بلکہ دونوں کو بہکایا،دونوں کو گمراہ کیا،دونوں نے ہی اس پھل کو کھایا اور دونوں کے ستر اتر گئے۔اس پر مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ سے معافی صرف حضرت آدم ؑ نے ہی مانگی۔یہاں بھی عورت کو عزت عطا کی گئی اور اس سے معافی نہیں منگوائی گئی۔اس لئے کہ حضرت حوا کے شوہر ہونے کی حیثیت سے حضر ت آدم ؑ کو سربراہی کا مقام حاصل تھا۔نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو حوا پرعلمی برتری عطا فرمائی تھی، اور شیطان سے ان کا ایک بار سابقہ پڑچکا تھا،اس کے باوجود وہ شیطان کے بہکائے میں آگئے،اس لیے حضرت حوا کے مقابلہ ان کی جواب دہی زیادہ تھی۔یہی وجہ ہے کہ حضرت آدم ؑ نے ہی اللہ سے معافی مانگی۔قرآن مجید میں جہاں بھی اس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے دونوں کو ہی مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔مثال کے طور پر:

”پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور انہیں اس نعمت والی حالت سے نکال باہر کیا۔“(سورہ البقرہ آیت 36)اور سورہ اعراف میں شیطان کے اسی کردار کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:”شیطان نے دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کے ستر ظاہر کر دے جو ان سے چھپے ہوئے تھے۔“(الاعراف: 20)”پس شیطان نے دونوں کو بہکا دیا۔پس ان دونوں نے درخت کو چکھ لیا“ (الاعراف: 22)۔سورہ طہٰ میں غلطی کی نسبت صرف آدم ؑ کی طرف کی گئی ہے۔”تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا، پس ان کے ستر ظاہر ہوگئے اور وہ جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے، اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی، چنانچہ وہ بھٹک گیا۔“(طہٰ: 121)

کیا حضرت آدم ؑ نے حضرت محمد ؐ کا نام لے کر اللہ سے معافی طلب کی؟

عام طور یہ بات مشہور ہے اور بعض کتابوں میں بھی یہ بات درج ہے کہ حضرت آدم ؑ نے اپنی معافی کے لیے حضرت محمد ﷺ کا حوالہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے تعجب سے پوچھا کہ تمہیں یہ نام کیسے معلوم ہوا؟تو انھوں نے کہا کہ عرش پر آپ کے نام کے ساتھ لکھا دیکھ کر اندازہ لگایا کہ یہ آپ کے کسی محبوب کا نام ہے۔لیکن قرآن مجید اس کی تائید نہیں کرتا۔چنانچہ یہ واقعہ غیر مستند اور فرضی ہے۔یہ اس لیے بھی ناقابل قبول ہے کہ حضرت محمد ﷺ بھی ایک بشر ہیں اور حضرت آدم ؑ کی اولاد میں سے ہیں۔ایک عظیم باپ جس کو اللہ نے پہلا انسان اور پہلا نبی ہونے،فرشتوں سے سجدہ کرانے،علم عطافرماکر عزت و فضیلت بخشنے کا شرف عطافرمایا ہو،وہ کیوں کر اپنی اولاد میں سے سب سے آخر میں آنے والے نبی کا وسیلہ دے گا۔مگر ہمارے یہاں اس طرح کے غیر مستند اور فرضی قصے کہانیوں کی بھرمار ہے۔اللہ محفوظ رکھے۔جب اللہ تعالیٰ کسی واقعہ کا ذکر قرآن میں تفصیل سے کرہی رہا تھا تو نبی اکرم ﷺ کے نام لینے میں کیا چیز مانع تھی؟اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کی توبہ کا ذکر درج ذیل الفاظ میں فرمایا ہے۔

فَتَلَقَّیٰ آدَمُ مِنْ رَبِّہِ کَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَیْہ إِنَّہُ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ (البقرہ: 37)

”پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے اور اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی، بے شک وہی بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے۔“وہ چند کلمات کیا تھے اس کی بھی وضاحت کی گئی ہے:۔

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا  وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ(الأعراف: 23)

''اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔''

یعنی حضرت آدم ؑکو توبہ اور معافی کے الفاظ بھی اللہ تعالیٰ نے سکھائے۔ان الفاظ میں حضرت محمد ﷺ کا نام کہاں ہے؟جس بارے قرآن وضاحت کردے، پھر اس کے بعد کسی اور کتاب کے حوالہ کی ضرورت نہیں رہتی،اگر کوئی اس کے بالمقابل دوسری کتابوں کے حوالہ دیتا ہے تو وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتا ہے۔

Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

لنگی میں

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

عبدالعلیم کے متبنیٰ کی کہانی جو رشتوں کے لیے امتحان بن گئی !

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟