سابق فوجی چیف جنرل نروانے کی کتاب پر تنازعہ!
سلطان صدیقی
چین اور ڈوکلام معاملے میں چین کی کرتوت اور ہماری سرکار کی حکمت عملی کو لے کر سابق فوجی چیف جنرل نروانے نے اپنی کتاب میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔ اور ان حالات کو بتایا ہے کہ چین کی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور جو افسر بھارت اور چین کی فوجوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی ہیں وہ اچانک نہیں بلکہ وہ پہلے سے طے سرکار کا نتیجہ ہوتی ہیں اسی کو لے کر راہل گاندھی نے اس کتاب کا حوالہ دیا لیکن سرکار کی جب پول کھلنے لگی تو وہ بچاؤ کی شکل میں آگئی ہے ۔اس کتاب کا نام ہے فور اسٹارس آف ڈسٹنی یعنی قسمت کے چار ستارے اسی کو لے کر کئی دن سے پارلیمنٹ ٹھپ پڑی ہے ۔کانگریس کے لیڈر و اپوزیشن نیتا راہل گاندھی کے ذریعے اشو اٹھایا گیا تو سرکار بوکھلا گئی اور اس نے بڑ بولے ایم پی نشی کانت دوبے کو پیچھے لگایا اور ان کے ذریعے راہل گاندھی کے خلاف لوک سبھا میں تحریک مراعات شکنی کی تیاری شروع کر دی ہے ۔اگر یہ لوک سبھا میں پاس ہوتی ہے تو ان کی ایم پی شپ جاسکتی ہے لیکن پارٹی اتنی کمزور نہیں اس کے پاس بھی بہت سی حکمت عملی اور سرکار کے اس قدم کے توڑ کی کارگر داؤ پیچ ہیں ۔بہرحال اس وقت سرکار اس کتاب کو لے کر بحث کرانے سے کترارہی ہے جس وجہ سے ہاؤس کا پارا چڑھا ہوا ہے ۔وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ کتاب چھپی نہیں ہے اس لئے اس کا ہاؤس میں یا باہر حوالہ نہیں دیاجاسکتا ہے ۔بتایاجاتا ہے یہ کتاب 2023 سے منظوری کے لئے التوامیں پڑھی ہوئی ہے ۔اس تنازعہ پر نروانے نے کوئی بیان نہیں دیا۔ انہوں نے پہلے بھی اس کتاب کے بارے میں بات کی لیکن اس کی کلیئرنس میں تاخیر قابل افسوس ہے ۔اس کتاب لکھنے کے پیچھے کی کہانی ہے یہ کتاب انہوں نے اس لئے لکھنے کا فیصلہ کیا تھا کہ سرکار چین کے معاملے میں کیوں بچاؤ کے رول میں رہتی ہے ۔
کتاب کو لے کر راہل گاندھی نے سنسد کی ٹیبل پر جب یہ کتاب رکھتے ہوئے اپنی بات رکھی تو حکمراں اور اپوزیشن ممبران میں ٹکراؤ کا ماحول سامنے آیا جو دیکھنے لائق تھا کس طرح دیش کے پارلیمنٹ کے ٹاپ لیڈر اور ان کی آپس میں نوک جھونک ہوئی ہے اور تو تو میں میں بھی ہے ۔اب سرکار پریشان ہو چکی ہے کہ ہاؤس کیسے چلے اس لئے اب وہ اپوزیشن سے کسی طرح کے سمجھوتہ کے موڈ میں نہیں لگتی ہے۔بہرحال اس کتاب میں ایسا کیا لکھا ہے جو چار ستارے یعنی اس کا مطلب ہوتا ہے کہ جو فوج کے جنر ل ہوتے ہیں ان کی نیت اور حکمت عملی سرحدی معاملو ں میں کیا ہوتی ہے ۔کتاب میں کئی نکتوں پر انگلی اٹھائی گئی ہے ۔سابق جنرل نروانے کی سوانح حیات 4اسٹارس آف ڈسٹنی کیا یہ ریلیز ہو پائے گی اور کیوں اس کتاب کو شائع ہونے سے روکا جارہا ہے ۔اس کا جواب وزارت دفاع کی طرف سے ابھی تک نہیں آیا ہے اور نہ ہی فوج نے اس کے بارے میں کوئی وضاحت رکھی ہے کہ اس کو اس کتاب پر اعتراض ہے یا نہیں ۔ایک فوجی افسر نے بتایا ہر سرکاری ملازم اپنے فرائض سے بندھا ہوتا ہے خاص کر راز سے متعلق جو ہوتے ہیں۔ریٹائر ہونے کے بعد بھی فوج کے حکمت عملی او ر راز کو پوشیدہ رکھنے کی تعمیل کرنی ہوتی ہے ۔لیکن جنرل نروانے نے کتاب میں فوج اور سرکار کی حکمت عملی کے بارے میں جو بات رکھی ہے وہ ایک طرح سے سچائی لگتی ہے اسی وجہ سے پارہ چڑھا ہوا ہے ۔جنرل نروانے نے کہا چین اور ڈوکلام میں دونوں ملکوں کی فوجیں آمنے سامنے تھیں اور ان میں چٹھ پٹ ٹکراؤ دیکھنے کو ملا ان کی تفصیلی حقیقت بیان کرنے کے لئے سرکار سے منظوری نہیں لی اور انہوں نے حق گوئی سے کام لیا اسی وجہ سے یہ کتاب شائع ہونے سے روکی جارہی ہے ۔نروانے نے اپنی کتاب میں اپنے عہدے کے دوران فیصلے لینے میں اپنی لاچاری اور سرکار کی طرف سے ہدایات کی وجہ سے وہ کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کرپارہے تھے ۔کہنا بھی چاہتے تھے تو وزارت دفاع سے فون آگیا ۔ٹاپ لیڈر شپ کی طرف سے ایک لائن کی ہدایت ملی تھی جس کے بارے میں بتایاجاتا ہے کہ ان کو اپنی زبان بند رکھنے کی صلاح دی گئی تھی ۔کتاب کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگست 2020 میں گلوان میں کوئی اچانک جھڑپ یا غیر متوقع واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ چین کی طرف سے کئی ہفتوں سے بڑھتی سرگرمیوں اور جارحیت کا نتیجہ تھا جس کے نتیجے میں ہماری فوج نے اس کی حرکت کو ناکام بنانے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ ہماری فوج کی جھڑپیں ہوئیں جس میں ہمارے کئی جوان شہید ہوئے تھے۔ بہرحال کانگریس نیتا راہل گاندھی نے نروانے کی کتاب میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس کو لے کر سرکار سے جواب مانگا اور اس کی کوتاہیوں اور ٹال مٹولی اور سچائی بتانے نہ بتانے کے مسئلے پر کٹھگرے میں کھڑا کیا ۔بہرحال ہاؤس میں اس معاملے پر بحث ابھی تک نہیں ہو پائی ہے اس لئے اس کتاب کی اشاعت کا معاملہ کب بند ہوگا اس بارے میں سرکار دیش کو بتائے گی یا ہنگامہ آرائی کرکے مسئلے کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنے کی کوشش کرے گی ۔بہرحال یہ دیش کی سرکشا کا معاملہ ہے سرکار کو کانگریس نیتا راہل گاندھی کو ان کے الزامات کا جواب دینا چاہیے تاکہ جنتا جان سکے کون سچ ہے اور کون غلط ۔

Comments
Post a Comment