فرقہ وارانہ نفرت اور تشدد آئین کو چیلنج

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

بی جے پی نے اپنے آفیشیل ہینڈل پر  آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا سرما  کا  ایک ویڈیو پوسٹ کیا  جسے شدید مخالفت کی وجہ سے بعد میں ہٹا دیا گیا ۔ اس میں وہ امریکی فلموں کے کاؤ بائے کی طرح مختلف قسم کی بندوقوں اور پسٹل سےاقلیتی طبقہ کے  بزرگ اور ایک نوجوان  پر گولیاں داغتے ہوئے دکھائی دیئے ۔ پنجاب کے کئی گلو کاروں کو اپنے گانے بندوقوں کے ساتھ فلمانے کی وجہ سے تشدد کو بڑھاوا دینے والی دفعات کے تحت کاروائی کا سامنا کرنا پڑا ۔ گن کلچر کو ملک میں سنگین خطرے کی طرح دیکھا جاتا رہا ہے ۔ سپریم کورٹ نے شاہین عبداللہ بنام یونین 2022معاملہ میں ہیٹ اسپیچ کے خلاف سخت جاری کی تھیں ۔ عدالت نے تمام ریاستوں ؍مرکز کے زیر انتظام صوبوں کو خود نوٹس لے کر شکایت کا انتظار کئے بغیر مجرموں کے خلاف  موجودہ آئی پی سی کی دفعہ 153a,153b, 295a اور 505کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا ۔

مسلمانوں کے خلاف قتل کے کھلے اعلان کا ویڈیو اس وقت سامنے آیا جبوزیر اعظم نریندر مودی   65 فیصد  سے زیادہ  مسلم آبادی والے اسلامی ملک ملیشیاءکی  مہمان نوازی   سے  لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ وہاں کے مسلم لیڈران  کو گلے سے لگا رہے تھے اور بھارت میں ان کی ڈبل انجن کی سرکار کا آسام کا ڈبہ مسلمان کی پہچان کر پائنٹ بلینک سے فائر کر رہا تھا ۔ مذمت کی آواز وں کو اپنے اندازے سے زیادہ تیز ہوتے  اور اپنے ووٹروں تک ویڈیو کی پہنچ کو دیکھ آسام بھاجپا نے اپنے ہینڈل سے اسے ہٹا دیا ۔ شاید ہیمنتا بسوا سرما گجرات ماڈل کی وجہ سے مطمئن  ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوگی ۔ 2002 کے فسادات کے بعد سوال اٹھا تھا کہ ہم نازی جرمنی کے دور میں پہنچ رہے ہیں لیکن تب یہ صرف ایک ریاست تک محدود تھا ۔ مگر اب اس کا دائرہ بڑھ کر ملک گیر ہو گیا ہے ۔ ایکا دکا  ریاست کو چھوڑ کر فرقہ وارانہ نفرت گھن کی طرح پورے  نظام کے اندر  پیر جما چکا ہے ۔

مذہب کے نام پر کسی شہری یا شہریوں کو ستائے جانے کی خبریں ہر  روز آتی ہیں ۔ پوائنٹ بلینک شاٹ اور کوئی رحم نہیں جیسے بیان بھی سنائی دیتے ہیں ۔ انڈیا ہیٹ لیب کی رپورٹ کے مظابق 2025 میں نفرت انگیز تقریروں کے 1318 واقعات رونما ہوئے جن میں 98 فیصد مسلمانوں کے خلاف تھے ۔ ایسا لگتا ہے کہ  بی جے پی اقتدار والی ریاستوں  چھتیس گڑھ ، بہار، مدھیہ پردیش ، اترپردیش ، اترا کھنڈ وغیرہ کے درمیان   مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ نفرت و تشدد کے معاملہ میں مقابلہ چل رہا ہو ۔ ہر ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں تو اس مسئلہ  پر سوال اٹھا رہی ہیں لیکن جن کے پاس کاروائی کرنے کی طاقت ہے  وہ خاموش ہیں ۔ یہ صورتحال ڈرانے والی ہے کیونکہ آسام والا تجربہ اگر پورے ملک پر کیا گیا تو کیا ہوگا ۔ اس معاملہ میں نریندر مودی ، امت شاہ سے کوئی امید نہیں ہے کہ وہ ہیمنت بسوا سرما کے خلاف کچھ کریں گے ۔ کیونکہ یہ سب ان کی ہی شہ پر ہو رہا ہے ۔ وہ خود اقلیتی طبقہ کو  مذہبی، نسلی، ثقافتی یا سماجی بنیاد پر کمتر، قابلِ نفرت یا بدسلوکی کے لائق قرار دیتے رہے ہیں ۔ ان کے بیانات عوامی جلسوں، سوشل میڈیا، میڈیا نشریات اور سیاسی تقاریر میں سامنے آ تے رہے  ہیں۔تشویش کی بات یہ ہے کہ خود سپریم کورٹ کو اپنا فیصلہ یاد نہیں ہے ۔ اس طرح کے معاملات پر وہ از خود نوٹس لے کر کاروائی نہیں کرتا ۔

آئینِ ہند کی دفعہ 19 (1)a  آزادیِ اظہار کا حق دیتی ہے، لیکن  دفعہ 19(2) اس حق کی حدود بھی مقرر کرتی ہے تاکہ قومی سلامتی، نظم و نسق، اخلاقیات اور عوامی امن کو محفوظ رکھا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ قانونِ ہند (IPC) کی دفعات 153A، 295A اور 505(2)، نفرت انگیز بیانات کے خلاف کارروائی کی گنجائش فراہم کرتی ہیں۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نے مختلف فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کمیونٹی کے خلاف نفرت یا تشدد کو ہو دی جائے ۔ عدالتوں نے ریاستی اداروں کو ایسے بیانات کے خلاف موثر کاروائی کی ہدایت بھی دی ہے۔

 سیاسی مفادات کے لئے بعض سیاسی عناصر ووٹ بینک کو متحرک  کے لیے فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دیتے ہیں۔ جھوٹی معلومات، ایڈیٹڈ ویڈیوز اور افواہوں کو جان بوجھ کر  پھیلایا جاتا ہے تاکہ عوام کو اشتعال دلاکر ان کے ووٹ حاصل کئے جا سکیں ۔کسی خاص سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لئے بعض ٹی وی مباحثے ، خبریں اور  اشتعال انگیز بیانات  بغیر تنقید کے نشر کئے جاتے  ہیں۔ قوانین موجود  ہونے کے باوجود ان پر بروقت غیر جانبدارانہ عملدرآمد نہ ہونے سے ان عناصر کو تقویت ملتی ہے ۔

نفرتی بیان بازی کا پہلا اور سب سے بڑا نقصان سماجی ہم آہنگی کو ہوتا ہے۔ جب کسی کمیونٹی کے خلاف مسلسل منفی بیانیہ بنایا جاتا ہے تو باہمی اعتماد ختم ہونے لگتا ہے۔ محلے، بازار، تعلیمی ادارے اور کام کی جگہیں بھی اس تقسیم سے متاثر ہوتی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کو شہری یا انسان کے بجائے کسی شناخت کے خانے میں دیکھنے لگتے ہیں، جس سے سماجی دوریاں بڑھتی ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اشتعال انگیز بیانات اکثر زمینی سطح پر تشدد کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔ نفرتی تقاریر ہجوم کو بھڑکا کر قانون ہاتھ میں لینے پر اکسا سکتی ہیں۔ اس طرح کے واقعات نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں بلکہ طویل مدتی دشمنیوں کو بھی جنم دیتے ہیں۔کسی کمیونٹی کے خلاف مسلسل نفرت آمیز گفتگو اس کمیونٹی کے افراد میں احساسِ عدم تحفظ، خوف اور ذہنی دباؤ پیدا کرتی ہے۔ خصوصاً نوجوان نسل میں محرومی اور بیگانگی کا احساس جنم لیتا ہے۔ دوسری طرف اکثریتی سماج میں برتری اور تعصب کی سوچ پروان چڑھتی ہے، جو اخلاقی اقدار کو مجروح کرتی ہے۔

جمہوریت کی بنیاد مکالمہ، برداشت اور اختلافِ رائے کے احترام پر ہے۔ نفرتی بیان بازی اس ماحول کو زہر آلود کر دیتی ہے جہاں معقول مکالمہ ممکن نہیں رہتا۔ سیاسی اختلاف دشمنی میں بدل جاتا ہے اور دلیل کی جگہ جذباتی نعروں نے لے لی ہوتی ہےفرقہ وارانہ کشیدگی کا اثر سرمایہ کاری پر بھی پڑتا ہے ۔ اس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں سست ہو جاتی ہیں  اور سیاحت کو نقصان پہنچتا ہے۔ سماجی بے چینی معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔

ڈیجیٹل دور میں نفرتی بیان بازی کا پھیلاؤ انتہائی تیز ہے۔ فرضی ویڈیوز، ایڈیٹ شدہ کلپس اور جھوٹی خبریں لوگوں کو مشتعل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ اگر میڈیا اور پلیٹ فارمز ذمہ دارانہ کردار ادا نہ کریں تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔اس کا تدارک کرنے کے لئے نفرت انگیز بیانات پر فوری اور یکساں کارروائی ہونی چاہئے۔ اشتعال انگیز مباحثوں سے اجتناب کیا جائے۔ عوام کو سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت دی جائے۔ آئینی اقدار، تنوع اور برداشت کی تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ سول سوسائٹی سماج میں   امن ،محبت،اتحاد  اور  بھائی چارے کو فروغ دینے کے لئے  الگ الگ پروگرام منعقد کرے ۔  اس معاملہ میں عدلیہ کا کردار بہت اہم ہے خاص طور پر سپریم کورٹ کا ۔ نفرت انگیزی اور نفرتی بیان بازی سیدھے طور پر آئین کو چیلنج کرتی ہے  ۔ کیونکہ سپریم کورٹ  آئین کا محافظ  ہے اس لئے اسے ان معاملات پر از خود نوٹس لے کر کاروائی کرنی چاہئے  ۔ ہیمنت بسوا سرما کے معاملہ میں سی پی آئی کی درخواست سماعت کے لئے سپریم کورٹ تیار تو ہو گیا ہے لیکن سماعت کب کرے گا یہ ابھی تک واضح نہیں ہے ۔

نفرتی بیان بازی محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ اس کے اثرات گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔ یہ سماجی رشتوں کو کمزور کرتی، جمہوری ڈھانچے کو نقصان پہنچاتی اور قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کرتی ہے۔ بھارت جیسے متنوع ملک میں ضروری ہے کہ آئینی اقدار کو مضبوطی سے تھاما جائے، قانون پر مؤثر عملدرآمد ہو۔ آئین کو بچانے کے لئے عدالت کے ساتھ عوام کو بھی آگے آنا ہوگا تبھی  معاشرے کے ہر طبقے میں برداشت اور احترام کا شعور بیدار ہوگا ۔ اس کے بغیر  ملک کی سلامتی، ترقی اور روشن مستقبل کا خواب محض خواب ہی رہے گا   ہے۔


Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

عبدالعلیم کے متبنیٰ کی کہانی جو رشتوں کے لیے امتحان بن گئی !

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

لنگی میں

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد