ملک وسماج کی ترقی میں مسلمانوں کا سرگرم رول اشد ضروری
فہیم احمد
ہندوستانی سماج کی ترقی میں مسلمانوں کا کردار ایک ایسا موضوع ہے جو نہ صرف تاریخی اہمیت کاحامل ہے بلکہ مستقبل کے حوالے سے بھی انتہائی کلیدی ہے ۔ ہندوستان ایک کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک ہے ، جہاں ہر کمیونٹی کی ترقی مجموعی قومی ترقی سے وابستہ ہے ۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا پہلا زینہ تعلیم ہے ۔ ہندوستانی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جدید علوم، سائنس، ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ میں مہارت حاصل کریں۔ جب نوجوان نسل اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوگی، تو وہ ملک کی معیشت میں بہتر تعاون کر سکے گی۔ صرف ڈگریاں حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ ہنر مندی پر توجہ دینا ضروری ہے تاکہ مسلمان نوجوان صنعت و حرفت کے شعبوں میں قیادت کر سکیں۔
سماج کی تعمیر اور ترقی میں مختلف مذاہب اور اقوام کا اہم کردار رہا ہے ۔ اسلام، جو ایک عالمگیر مذہب ہے ، اپنے پیروکاروں کو سماجی بہتری کی طرف راغب کرتا ہے ۔ مسلمانوں کا کردار سماج کو بہتر بنانے میں تاریخی طور پر نمایاں رہا ہے ، جہاں وہ علم، انصاف، رحم اور اتحاد کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات میں فرد کی ذاتی تربیت کے ساتھ ساتھ سماجی ذمہ داریوں پر زور دیا گیا ہے ۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ مسلمان کس طرح سماج کو بہتر بنانے میں تعاون کرسکتے ہیں، چاہے وہ تعلیم، معاشی انصاف، ماحولیاتی تحفظ یا اخلاقی اقدار کی ترویج کے ذریعے ہو۔
تاریخی پس منظرمیں مسلمانوں کا سماجی بہتری کا سفر آنحضورکی آمد سے شروع ہوتا ہے ۔ آں حضرت نے مدینہ میں ایک ایسا سماج قائم کیا جہاں غلام اور آقا، امیر اور غریب سب برابر تھے ۔ خلافت راشدہ کے دور میں مسلمانوں نے یورپ، افریقہ اور ایشیا میں علوم و فنون کی ترقی کی، جس سے انسانی تہذیب کو نئی جہت ملی۔ مثال کے طور پر، بیت الحکمہ بغداد میں مسلمان سائنس دانوں نے یونانی اور ہندوستانی علوم کا ترجمہ کیا اور طب، ریاضی اور فلکیات میں انقلاب برپا کیا۔ یہ کردار آج بھی جاری ہے ، جہاں مسلمان کمیونٹیز دنیا بھر میں سماجی مسائل کے حل میں سرگرم ہیں۔تعلیم اور علم کی ترویج اسلام میں علم کی اہمیت کو اقرأ (پڑھو) کے پہلے حکم سے واضح کیا گیا ہے ۔
مسلمان سماج کو بہتر بنانے کے لیے تعلیم کو ایک اہم وسیلہ سمجھتے ہیں۔ دنیا بھر میں مسلم ادارے خاص طورسے برصغیرمیں مذہبی اور عصری تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ یہ ادارے مسلم خواتین کی تعلیم پر بھی زور دیتے ہوئے ، سماج میں جہالت اور پسماندگی کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور تعلیم کے ذریعے مسلم سماج میں برابری اور ترقی کو فروغ دیتے ہیں، جس سے جرائم اور غربت کم ہوتی ہے ۔ صدقہ، زکوٰۃ اور فلاحی کام اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہیں ، جو معاشی عدم مساوات کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں ۔
مسلمان سالانہ اپنی دولت کا 2.5 فیصد غریبوں کو دیتے ہیں، جو سماجی بہتری کا ایک منظم نظام ہے ۔ انصاف اور اخلاقی اقدار کی حفاظت مسلم سماج میں انصاف کو قائم رکھنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات عدل" (انصاف) پر مبنی ہیں، جو سماجی ہم آہنگی کی بنیاد ہے ۔ اخلاقی اقدار جیسے ایمانداری، احترام اور خاندانی نظام کی حفاظت کے ذریعے مسلمان سماج کو جرائم اور اخلاقی زوال سے بچاتے ہیں۔ یہ کردار سماج کو ایک محفوظ اور اخلاقی طور پر مضبوط بناتا ہے ۔ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی جدید دور میں مسلم ماحولیاتی مسائل کے حل میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسلام میں زمین کو امانت سمجھا جاتا ہے ، جس کی حفاظت ضروری ہے ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اسلام کی اصل تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے سماجی بہتری میں مزید فعال ہوں۔ تعلیم، ٹیکنالوجی،ملکی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے وہ اپنا کردار مزید موثر بنا سکتے ہیں۔
مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد تجارت اور دستکاری سے وابستہ ہے ۔ اگر ان روایتی کاروباروں کو جدید ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپ کلچر سے جوڑ دیا جائے تو یہ ملکی جی ڈی پی میں بڑا اضافہ کر سکتے ہیں۔ چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروبارکو فروغ دے کر نہ صرف اپنی کمیونٹی بلکہ دیگر ہم وطنوں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھنا سماجی استحکام کے لیے ضروری ہے ۔ مسلمان اپنے اخلاق اور کردار کے ذریعے بین المذاہب مکالمے کو فروغ دے سکتے ہیں۔ سماج کے محروم طبقات کی مدد، انسانی حقوق کی پاسداری اور پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کے ذریعے ایک پرامن اور متحد سماج کی تشکیل میں مسلمان ہراول دستہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
جمہوریت میں فعال شرکت محض ووٹ دینے تک محدود نہیں ہونی چاہیے ۔ ہندوستان میں مسلمان اپنے محلوں کی صفائی و ستھرائی میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں ۔ اسلام میں صفائی کو نہ صرف جسمانی اور روحانی پاکزیگی حتی کہ نصف ایمان قرار دیا گیا ہے ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ شہری مسائل، صفائی ستھرائی کی مہم، ماحولیاتی تحفظ اور قانون کی پاسداری جیسے معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ مسلم محلوں میں رہنے والے لوگ اگر منظم اور اجتماعی طور پر کام کریں تو نہ صرف اپنے محلے کو صاف ستھرا بنا سکتے ہیں بلکہ پورے شہر اور ملک کے لیے ایک بہترین مثال بھی قائم کر سکتے ہیں ۔ مسجد کو مرکز بنائیں ہر جمعہ کے خطبے میں امام یا خطیب صفائی کی اہمیت بتائیں۔
محلہ کمیٹی یا محلہ صفائی گروپ کے نام سے 10-15 نوجوانوں، خواتین اور بزرگ افراد کی ایک چھوٹی ٹیم بناکر ہفتہ میں ایک دن (مثلاً اتوار کی صبح) سب مل کر گلیوں، نالیوں، کھیل کے میدان اور خالی پلاٹس کی صفائی کرسکتے ہیں ۔ گھروں میں بھی کوڑے کا مناسب انتظام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ محلے میں 4-5 بڑے کمیونٹی کوڑے دان لگوائیں اور میونسپل کارپوریشن سے باقاعدہ اٹھانے کا انتظام کروائیں ۔ پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنے کی مہم چلائیں (جس میں کپڑے کے تھیلے استعمال کرنا)۔ سوچھ بھارت مشن سے منسلک ہوں اور اگر محلے میں اب بھی کھلی جگہوں پر گندگی ہو تو میونسپل افسران سے رابطہ کریں اور مطالبہ کریں کہ گندگی اٹھائی جائے اور نالیاں صاف کی جائیں۔ سال میں 2-3 باربچوں کے ساتھ صفائی ریلی نکالی جاسکتی ہے جس میں پلے کارڈز، نعرے اور موسیقی کے ساتھ صفائی کا پیغام دیا جائے ۔ پانی اور نکاسی آب کا خیال رکھیں اور نالیوں میں کوڑا پھنکنے سے سختی سے روکیں۔ اگر مسلم کمیونٹی نے یہ چند اقدامات سنجید گی سے کرلیے تو چند ہی برسوں مں بہت سے مسلم محلے ہندوستان کے ماڈل سوچھ محلے بن سکتے ہیں ۔ یہ نہ صرف صحت اور خوبصورتی بڑھائے گا بلکہ محلے والوں میں اتحاد، ذمہ داری اور باہمی محبت بھی پیدا کرے گا۔
ہندوستانی مسلمان اس ملک کا اٹوٹ حصہ ہیں، ان کی ترقی ہندوستان کی ترقی ہے ۔ اگر وہ تعلیم، معیشت اور اخلاقیات کے میدان میں خود کو مضبوط کر لیں، تو وہ ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے میں سب سے اہم ستون ثابت ہو سکتے ہیں۔
.jpg)
Comments
Post a Comment