الیکٹرک گاڑیاں: کیا واقعی سرسبز مستقبل کی ضامن ہیں؟
ممتاز احمد
موجودہ عہد کے ماحولیاتی چیلنجوں سے نبرد آزما ہوتے ہوئے الیکٹرک وہیکلز (ای وی) کی طرف منتقلی کی ضرورت تیزی سے بڑھتی جارہی ہے ۔ ماحولیاتی تبدیلی، فضائی آلودگی اورقدرتی ایندھن کے کم ہوتے ذخائر کے تئیں بڑھتی تشویش نے نقل و حمل کے صاف و شفاف اور زیادہ پائیدار ذرائع کی ضرورت پر زیادہ زور دیا ہے ۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ قدرتی ایندھن کے محدود وسائل ہیں اور ان کے نکالنے اور استعمال کے شدید ماحولیاتی اثرات ہوتے ہیں۔ چوں کہ ای وی بجلی پرمنحصر ہوتی ہے ، جو قابل تجدید ذرائع جیسے شمسی، ہوا اور پن بجلی سے پیدا کی جاسکتی ہے اور وہ طویل مدتی پائیداری کو فروغ دیتی ہے ۔ بیٹری ٹیکنالوجی اور الیکٹرک ڈرائیو ٹرین کے شعبے میں تیزی سے ترقی نے الیکٹرک وہیکل کی کارکردگی، رینج اور قابل استطاعت میں بہتری پیدا کی ہے جو انہیں روایتی گاڑیوں کا قابل عمل متبادل بناتی ہیں۔الیکٹرک گاڑیاں صفر کاربن اخراج کے سبب بڑی اہمیت کی حامل ہیں، جوسرسبز اور پائیدار مستقبل کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ہندوستان میں بھی اب الیکٹرک گاڑیوں کے اپنانے میں اضافہ کا رجحان تیزی سے نظر ٖآرہا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2070 تک ملک کو کاربن سے پاک بنانے کا وژن دیا ہے ۔ اس کے پیش نظر حکومت ملک میں صاف ستھری اور ماحول دوست گاڑیوں کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے ۔حکومت نے ماحولیاتی اور اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ای وی کی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئے متعدد پالیسیاں اور اقدامات نافذ کیے ہیں جس کا مقصد برقی نقل و حمل اپنانے کو فروغ دینا ہے ۔
اس میں سے ایک فیم انڈیا اسکیم ہے ، یہ اسکیم ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کو بسرعت اپنانے اور مصنوعات سازی (فیم انڈیا) اسکیم الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کے لیے مالی مراعات فراہم کرتی ہے ۔ یہ ای وی کی خریداری پر رعایت دیتی ہے اور چارجنگ انفرااسٹرکچر کی ترقی میں معاونت کرتی ہے ۔الیکٹرک گاڑیوں کی پسندیدگی میں کئی عوامل کارفرما ہیں، جس میں ماحولیاتی اثرات شامل ہیں۔روایتی انٹرنل کمبسٹن انجن کی گاڑیاں فضائی آلودگی اور گرین ہاؤس گیس کے اخراجات میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔ اس کے برعکس الیکٹرک گاڑیاں صفر کاربن اخراج کرتی ہیں، جس سے وہ شہری فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کو کم کرنے میں کلیدی رول ادا کرتی ہیں۔انٹرنل کمبسٹن انجن سے الیکٹرک موٹروں میں تبدیلی نے ڈیزائن میں نئے امکانات کو وسیع کر دیا ہے ۔الیکٹرک گاڑیاں زیادہ پرسکون، مزید موثر اور روایتی انجن کے اجزاء پر کم منحصر ہوتی ہیں۔سب سے بڑی بات کفایتی ہونے کے ساتھ الیکٹرک پاورگاڑیاں پٹرول انجن کے مقابلے کم جگہ گھیرتی ہیں، جس سے ڈیزائنروں کو کاروں کی ڈیزائن کے لیے زیادہ جگہ مل جاتی ہے ۔ تجربات کی آزادی کے ساتھ ڈیزائنر ایرو ڈائنامکس، پائیداری اور صارف دوست خصوصیات پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں، جو پہلے ناقابل تصور تھے ۔ الیکٹرک گاڑیوں میں جمالیاتی رجحانات بھی پائے جاتے ہیں، جوصارفین کو زیادہ پسند آتے ہیں۔ یہ گاڑیاں خوبصورتی کے لحاظ سے اتنی ہی حسین ہوتی ہیں، جتنی کارکردگی کے لحاظ سے وہ عمدہ ہیں۔ کار ڈیزائن کا جمالیاتی پہلو لوگوں کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے ۔ اس میں جمالیات کو فعالیت کے ساتھ ارتباط شامل ہوتاہے ، جس سے یہ بات کو یقینی ہوجاتی ہے کہ گاڑیاں نہ صرف دیکھنے میں دلکش ہوں بلکہ کارکردگی، تحفظ اور ایرگونومکس کے معیارات پر بھی پوری اتریں۔ ڈیزائن انجینئر گاڑی کی مجموعی شکل و صورت کو بہتر بنانے پر کام کرتے ہیں، جس میں بیرونی اسٹائل، اندرونی ترتیب اور یوزر انٹرفیس شامل ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ سب کچھ پائیدار نقل و حمل کے مستقبل میں معاون بھی ہے ۔الیکٹرک گاڑیوں کا شعبہ وہ مقام ہے ، جہاں فن سائنس سے ملتا ہے ، جو مختلف شعبوں میں جدت کے مواقع پیدا کرتا ہے ۔تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ ہندوستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ 2030 تک 40 فی صد سے زیادہ کی مجموعی سالانہ شرح نمو (سی اے جی آر) سے بڑھے گی، جس میں بیٹری کی طلب 150 گیگا واٹ گھنٹے (جی ڈبلیو ایچ) سالانہ تک پہنچ جائے گی۔بعد ازاں،مسافر کاریں اور عوامی نقل و حمل، الیکٹرک گاڑیوں کے مینوفیکچررز اور آٹوموٹو او ای ایم کی بڑھتی ہوئی تعداد الیکٹرک گاڑیوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔اگر اس کے اقتصادی فوائد کی بات کی جائے تو الیکٹرک گاڑوں پرمنتقل ہونے سے درآمد شدہ تیل پر انحصار کم ہو سکتا ہے ۔ توانائی کی بچت ہوتی ہے اور صاف ستھری توانائی اور جدید مصنوعات سازی کے شعبوں میں نئے اقتصادی مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے ایک صاف ستھرے اور سرسبز مستقبل کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔اس سلسلے میں عوامی نقل و حمل کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ حکومت الیکٹرک بسوں کو بڑے پیمانے پر اپنانے کی حوصلہ افزائی کرنے نیز ای بس آپریٹروں کے درمیان اعتماد کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔ حکومت نے ماحولیاتی اور اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ای وی کی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئے متعدد پالیسیاں اور اقدامات نافذ کی ہیں، جس کا مقصد برقی نقل و حمل اپنانے کو فروغ دینا ہے ۔ دہلی سمیت کئی ریاستوں میں اب الیکٹرک بسیں اچھی تعداد میں چلائی جارہی ہیں۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو تقویت ملے گی اور وہ ماحول دوست اور توانائی کی بچت کرنے والے سفر کو فروغ دے گا۔لیکن الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر توجہ دینے کے ساتھ اس بات پر بھی توجہ دینی چاہئے کہ ان گاڑیوں کی مستعمل بیٹریوں اور دیگر کل پرزوں کو کس طرح ضائع کیا جائے کیوں کہ فی الحال بڑی تعداد میں بیکار موبائل اور لیپ ٹاپ کے کچرے کو ٹھکانے لگانے میں دشواری پیش آرہی ہے ۔ مزید برآں، الیکٹرک گاڑیوں کے فضلات بھی ایک بڑا مسئلہ بن جائیں گے کیوں کہ ان گاڑیوں کی بیٹریاں موبائل لیپ ٹاپ کی بیٹریوں کے مقابلے کہیں بھاری ہوں گی۔ خیال کیاجاتا ہے کہ ان کے نقصانات بھی زیادہ ہوں گے ۔ لہذا الیکٹرک گاڑیوں سے مستقبل میں ہونے والے نقصانات کو مدنظر رکھ کرکوئی لائحہ عمل بھی مرتب کرنا چاہئے ۔

Comments
Post a Comment