ہندوستان میں بلٹ ٹرین اور ماحولیاتی نقصان

ظفراقبال

جدید دور میں تیز رفتار نقل و حمل کو ترقی، معاشی استحکام اور شہری سہولتوں کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ دنیا بھر میں بلٹ ٹرین یا ہائی اسپیڈ ریل کے منصوبے اسی سوچ کا نتیجہ ہیں۔ ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بلٹ ٹرین کو ایک تاریخی قدم قرار دیا گیا ہے ، جس کا مقصد بڑے شہروں کے درمیان سفر کے وقت کو کم کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور عالمی سطح پر تکنیکی ترقی کا مظاہرہ کرنا ہے ۔ تاہم اس منصوبے کے ساتھ جڑے ماحولیاتی مسائل، خصوصاً درختوں کی بے تحاشہ کٹائی، ایک سنجیدہ اور تشویشناک پہلو ہیں۔ جنگلات اور سبزہ کسی بھی ملک کے ماحولیاتی توازن میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اور ان کی بڑے پیمانے پر تباہی نہ صرف قدرتی نظام کو متاثر کرتی ہے بلکہ انسانی زندگی کے لیے بھی خطرات پیدا کرتی ہے ۔ ہندوستان میں بلٹ ٹرین کا سب سے نمایاں منصوبہ ممبئی اور احمد آباد کے درمیان شروع کیا گیا، جو جاپان کے اشتراک سے تعمیر ہو رہا ہے ۔ اس منصوبے کو جدید ٹیکنالوجی، تیز رفتار سفر اور اقتصادی ترقی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ حکومت کے مطابق اس منصوبے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ، شہروں کے درمیان رابطہ بہتر ہوگا اور طویل المدتی بنیادوں پر معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔ لیکن اس منصوبے کے لیے زمین کے حصول، جنگلات کی صفائی اور شہری و دیہی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تعمیراتی سرگرمیوں کی ضرورت پیش آئی، جس کے نتیجے میں لاکھوں درختوں کو کاٹا گیا یا کاٹنے کی اجازت دی گئی۔

درخت قدرتی ماحول کا لازمی جزو ہیں۔ یہ نہ صرف آکسیجن فراہم کرتے ہیں بلکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے فضا کو صاف رکھتے ہیں۔ درخت مٹی کے کٹاؤ کو روکتے ہیں، زیر زمین پانی کے ذخائر کو برقرار رکھتے ہیں اور حیاتیاتی تنوع کے لیے پناہ گاہ فراہم کرتے ہیں۔ جنگلات بارش کے نظام کو متوازن رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی ہوتی ہے تو یہ تمام قدرتی خدمات متاثر ہوتی ہیں، جس کا اثر مقامی ہی نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر بھی محسوس کیا جاتا ہے ۔

بلٹ ٹرین منصوبے کے تحت ہزاروں ایکڑ زمین کو صاف کیا گیا، جس میں شہری علاقوں کے درخت، دیہی خطوں کے جنگلات اور ساحلی پٹیوں کی سبزہ زاریاں شامل ہیں۔ کئی مقامات پر ایسے درخت بھی کاٹے گئے جو دہائیوں بلکہ صدیوں پرانے تھے ۔ یہ درخت نہ صرف ماحولیاتی لحاظ سے قیمتی تھے بلکہ مقامی آبادی کی ثقافت، تاریخ اور روزمرہ زندگی کا حصہ بھی تھے ۔ درختوں کی اس بے دریغ کٹائی نے ماحولیاتی ماہرین، سماجی کارکنوں اور مقامی لوگوں میں شدید تشویش پیدا کی۔

درخت فضا سے آلودہ ذرات اور زہریلی گیسوں کو جذب کرنے کی قدرتی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب درختوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے تو فضائی آلودگی میں اضافہ ہونا ایک فطری نتیجہ ہے ۔ بلٹ ٹرین منصوبے کے لیے درختوں کی کٹائی سے شہروں اور آس پاس کے علاقوں میں فضائی معیار متاثر ہوا۔ تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران گرد و غبار، شور اور کیمیائی آلودگی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔ اس کا براہ راست اثر انسانی صحت پر پڑا، جس میں سانس کی بیماریاں، الرجی اور دیگر طبی مسائل شامل ہیں۔

عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے ، اور جنگلات کی کٹائی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے ۔ درخت کاربن سنک کے طور پر کام کرتے ہیں، یعنی وہ فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے زمین کے درجہ حرارت کو قابو میں رکھتے ہیں۔ بلٹ ٹرین منصوبے کے لیے بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی سے کاربن کے اخراج میں اضافہ ہوا، جس نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو تیز کیا۔ شدید گرمی، بے وقت بارشیں اور موسمی بے ترتیبی ایسے نتائج ہیں جو جنگلات کی کمی سے جڑے ہوئے ہیں۔

ہندوستان حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے دنیا کے اہم ممالک میں شمار ہوتا ہے ۔ یہاں جنگلات، ساحلی علاقے اور دیہی خطے بے شمار جانوروں، پرندوں اور پودوں کی انواع کا مسکن ہیں۔ بلٹ ٹرین منصوبے کے لیے درختوں اور جنگلات کی کٹائی نے ان قدرتی مساکن کو شدید نقصان پہنچایا۔ کئی جانور اور پرندے بے گھر ہو گئے ، جبکہ بعض نایاب انواع کے معدوم ہونے کا خطرہ بڑھ گیا۔ حیاتیاتی تنوع میں کمی ماحولیاتی نظام کے توازن کو بگاڑ دیتی ہے ، جس کے اثرات طویل المدتی اور ناقابل تلافی ہو سکتے ہیں۔

درخت پانی کے قدرتی نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ بارش کے پانی کو زمین میں جذب ہونے میں مدد دیتے ہیں اور زیر زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھتے ہیں۔ درختوں کی کٹائی سے پانی کا بہاؤ بے قابو ہو جاتا ہے ، جس کے نتیجے میں سیلاب اور خشک سالی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ بلٹ ٹرین منصوبے کے راستے میں آنے والے علاقوں میں کئی مقامات پر زیر زمین پانی کی سطح میں کمی دیکھی گئی، جس نے زراعت اور پینے کے پانی کے وسائل کو متاثر کیا۔

درختوں اور جنگلات کی کٹائی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی ہے ۔ بہت سے دیہی اور قبائلی علاقوں میں لوگ اپنی روزی روٹی کے لیے جنگلات پر انحصار کرتے ہیں۔ لکڑی، پھل، جڑی بوٹیاں اور دیگر قدرتی وسائل ان کی معیشت کا حصہ ہوتے ہیں۔ بلٹ ٹرین منصوبے کے لیے درختوں کی کٹائی سے ان لوگوں کا ذریعہ معاش متاثر ہوا، جس کے نتیجے میں بے روزگاری، نقل مکانی اور سماجی بے چینی میں اضافہ ہوا۔

شہری علاقوں میں درخت گرمی کو کم کرنے ، شور کو جذب کرنے اور خوبصورتی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بلٹ ٹرین منصوبے کے تحت شہروں میں درختوں کی کٹائی سے شہری درجہ حرارت میں اضافہ ہو۔ اس کے نتیجے میں بجلی کی کھپت بڑھی، کیونکہ لوگ ٹھنڈک کے لیے زیادہ ایئر کنڈیشنر استعمال کرنے لگے ۔ یوں ماحولیاتی نقصان ایک دائرے کی صورت میں مزید بڑھتا چلا گیا۔

ہندوستان میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے مختلف قوانین اور ضوابط موجود ہیں، جن کا مقصد جنگلات اور قدرتی وسائل کا تحفظ ہے ۔ تاہم بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اکثر خصوصی اجازتیں دے دی جاتی ہیں، جن کے نتیجے میں ماحولیاتی اصولوں پر سمجھوتہ کیا جاتا ہے ۔ بلٹ ٹرین منصوبے کے معاملے میں بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی، جہاں ترقی کو ماحولیاتی تحفظ پر فوقیت دی گئی۔ ماہرین کے مطابق اگر قوانین پر سختی سے عمل کیا جاتا اور متبادل راستے اختیار کیے جاتے تو درختوں کی کٹائی کو کم کیا جا سکتا تھا۔

ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کو ایک دوسرے کی ضد سمجھنا درست نہیں۔ پائیدار ترقی کا تصور اس بات پر زور دیتا ہے کہ ترقیاتی منصوبے اس طرح بنائے جائیں کہ وہ موجودہ ضروریات کو پورا کریں لیکن مستقبل کی نسلوں کے وسائل کو نقصان نہ پہنچائیں۔ بلٹ ٹرین جیسے منصوبوں میں متبادل راستوں کا انتخاب، زیر زمین ٹریکس، یا جدید تعمیراتی تکنیکوں کے ذریعے درختوں کی کٹائی کو کم کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ جتنے درخت کاٹے جائیں، ان سے کئی گنا زیادہ درخت لگانے کا عملی اور مؤثر منصوبہ بھی ہونا چاہیے ۔

بلٹ ٹرین منصوبے کے خلاف کئی مقامات پر عوامی احتجاج اور ماحولیاتی تحریکیں دیکھنے میں آئیں۔ سماجی کارکنوں، طلبہ اور مقامی لوگوں نے درختوں کی کٹائی کے خلاف آواز اٹھائی اور حکومت سے شفافیت اور جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ یہ مزاحمت اس بات کی علامت ہے کہ عوام اب ماحولیاتی مسائل کے بارے میں زیادہ باشعور ہو رہے ہیں اور ترقی کے نام پر قدرتی وسائل کی تباہی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

میڈیا اور سول سوسائٹی نے بلٹ ٹرین منصوبے سے جڑے ماحولیاتی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ رپورٹس، مباحثوں اور تحقیقی مضامین کے ذریعے درختوں کی کٹائی کے نقصانات کو عوام کے سامنے لایا گیا۔ اس دباؤ کے نتیجے میں بعض مقامات پر حکومت کو اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنا پڑی اور متبادل اقدامات پر غور کیا گیا، اگرچہ یہ اقدامات اکثر ناکافی ثابت ہوئے ۔

درختوں کی بے تحاشہ کٹائی کے اثرات فوری طور پر مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوتے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ مٹی کی زرخیزی میں کمی، پانی کی قلت، درجہ حرارت میں اضافہ اور حیاتیاتی تنوع کی تباہی ایسے مسائل ہیں جو آنے والی نسلوں کو درپیش ہوں گے ۔ بلٹ ٹرین منصوبہ وقتی طور پر سہولت فراہم کر سکتا ہے ، لیکن اگر اس کی قیمت ماحولیاتی تباہی کی صورت میں ادا کرنی پڑے تو یہ ایک مہنگا سودا ثابت ہو سکتا ہے ۔

ہندوستان میں بلٹ ٹرین منصوبہ جدید ترقی کی علامت ضرور ہے ، لیکن اس کے ساتھ جڑی درختوں کی بے تحاشہ کٹائی نے سنگین ماحولیاتی سوالات کو جنم دیا ہے ۔ ترقی کی دوڑ میں اگر قدرتی وسائل کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف ماحول بلکہ انسانی معاشرے کے لیے بھی نقصان دہ ہوں گے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کو ماحولیاتی ذمہ داری کے ساتھ جوڑا جائے ، قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے ۔ صرف اسی صورت میں ہم ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جہاں ترقی اور قدرتی ماحول ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں۔

Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

عبدالعلیم کے متبنیٰ کی کہانی جو رشتوں کے لیے امتحان بن گئی !

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

لنگی میں

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد