ہندوستان کی پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی کم نمائندگی کے اسباب
فہیم احمد
ہندوستان دنیا کی بڑی جمہوریتوں میں سے ایک ہے ، جہاں عوام اپنی پسند کے رہنما کا انتخاب کرتے ہیں ۔ہمارا ملک پارلیمانی جمہوریت کی ایک بہترین مثال ہے کیونکہ اس میں امیر ،غریب ،مرد،عورت ،تعلیم یافتہ اور ناخواندہ ،اعلی اور نچلی ذات کی قیدنہیں ہے ۔ کوئی بھی ہندوستانی شہری انتخاب لڑسکتاہے اور ووٹ دے سکتاہے ۔ لیکن اس مضبوط جمہوری ملک کی پارلیمنٹ میں مسلم ارکان کی کم نمائندگی ایک ایسا موضوع ہے ، جس پر سیاسی حلقوں اور سماجی ماہرین کے درمیان طویل عرصے سے بحث جاری ہے ۔ ہندوستان کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب تقریباً 14.2فیصدہے ، لیکن پارلیمنٹ (لوک سبھا) میں ان کی نمائندگی عموماً 4 سے 5فیصدکے درمیان سمٹ کر رہ جاتی ہے ۔
ہندوستان کی آزادی (1947) کے بعد سے پارلیمنٹ، خاص طور پرایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب سے مسلسل کم رہی ہے ۔ مردم شماری (2011) کے مطابق مسلمان تقریباً 14.2فیصد ہیں (حالیہ تخمینوں میں 14-15فیصد یا اس سے زیادہ)، لیکن لوک سبھا میں ان کی نمائندگی حالیہ ادوار میں 4-5 فیصد کے آس پاس رہتی ہے ۔ 2024 کے انتخابات میں صرف 24 مسلمان اراکین منتخب ہوئے ، جو چھ دہائیوں میں سب سے کم تناسب ہے ۔ یہ خلا صرف اعدادوشمار کا معاملہ نہیں بلکہ ہندوستانی جمہوریت میں اقلیتوں کی سیاسی شمولیت کے تعلق سے گہری تشویش کا باعث ہے ۔اس کم نمائندگی کے متعدد اہم اسباب ہیں، جو تاریخی، سیاسی اور سماجی عوامل کا مجموعہ ہیں۔
مسلمانوں کی آبادی ملک کے 543 حلقوں میں منتشر ہے ۔ صرف چند حلقوں میں وہ اکثریت یا فیصلہ کن تعداد میں ہیں۔ اس کے علاوہ، مسلمانوں میں ذات پات (اشراف، پسماندہ، دلت مسلمان) اور فرقوں (سنی، شیعہ) کی تقسیم بھی سیاسی اتحاد کو کمزور کرتی ہے ۔ اس سے ایک مضبوط قومی سطح پر مسلمان سیاسی پلیٹ فارم بنانا مشکل ہو جاتا ہے ۔
ہندوستان میں انتخابی نظام کا ڈھانچہ اس طرح کا ہے جس سے جغرافیائی طور پر مرتکز گروپوں کو فائدہ ہوتا ہے ، جبکہ منتشر اقلیتی گروپوں کو نقصان ہوتاہے ۔ مسلم آبادی زیادہ تر ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہے اور صرف چند ریاستوں (جیسے اتر پردیش، مغربی بنگال، بہار، آندھرا پردیش) میں مرتکز ہیں۔ زیادہ تر حلقوں میں وہ اقلیت ہیں، جس کی وجہ سے ان کا ووٹ بینک ایک پارٹی کو واضح برتری نہیں دلا پاتا۔ نتیجے کے طورپر بڑی پارٹیاں مسلمان امیدواروں کو ٹکٹ دینے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ جیتنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے ۔
1990 کی دہائی سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے عروج نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے ۔ بی جے پی ہندو ووٹ بینک کو مضبوط کرنے پر توجہ دیتی ہے ، اس کے نتیجے میں دیگر پارٹیاں بھی مسلمانوں کو ٹکٹ دینے سے ہچکچاتی ہیں، کیونکہ بی جے پی ان پر مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کا الزام لگا کر ہندو ووٹروں کو صف آرا کر سکتی ہے ۔ نتیجتاً، مسلمان امیدواروں کی تعداد کم ہو جاتی ہے ۔
کانگریس، سماج وادی پارٹی، ٹی ایم سی جیسی خود کوسیکولر کہنے والی پارٹیاں بھی مسلمانوں کو ٹکٹ دینے میں محتاط رہتی ہیں۔ 2019 میں غیر بی جے پی پارٹیوں نے 115 مسلمان امیدوار کھڑے کیے تھے ، لیکن 2024 میں انڈیا اتحاد نے صرف 78 ٹکٹ دیے ۔ کئی ریاستوں (جیسے مہاراشٹر) میں کوئی ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ وجہ یہ ہے کہ پارٹیاں خوفزدہ ہیں کہ مسلمان امیدوار کھڑا کرنے سے ہندو ووٹ تقسیم ہو جائیں گے یا بی جے پی کو فائدہ پہنچے گا۔ اس کے نتیجے میں مسلمان ووٹ خودکار طور پر اپوزیشن کو ملتے ہیں، لیکن نمائندگی نہیں بڑھتی۔
تاریخی اور نفسیاتی عوامل کی بات کریں تو تقسیم ہند (1947) کے بعد مسلمانوں پر''وطن پرستی'' کے شبہات ظاہرکیے جاتے رہے ، جس سے سیاسی اشرافیہ نے مسلمانوں کی الگ سیاسی آواز کو خطرہ سمجھا۔ اس کے نتیجے میں، مسلمانوں کے سیاسی دعوے کو ''فرقہ وارانہ'' قرار دے کر دبادیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ، سماجی-معاشی پسماندگی (تعلیم، روزگار میں کم حصہ) بھی سیاسی قوت پیدا کرنے میں رکاوٹ ہے ۔یہ کم نمائندگی صرف اتفاقی نہیں بلکہ ساختی اور سیاسی عمل کا نتیجہ ہے ۔ یہ ہندوستانی جمہوریت کے لیے اچھی بات نہیں کیونکہ ایک بڑی آبادی کی آواز پارلیمنٹ میں کمزور رہنے سے ان کے مسائل (جیسے تعلیم، روزگار، تحفظ) نظر انداز ہو سکتے ہیں۔اس کے حل کے لیے ممکنہ اقدامات میں انتخابی اصلاحات (جیسے تناسب پر مبنی نمائندگی کا جزوی نظام)، پارٹیوں کی طرف سے زیادہ ٹکٹ اور مسلمانوں کی اندرونی سیاسی تنظیم شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم، یہ تبدیلی صرف سیاسی ارادے اور سماجی ہم آہنگی سے ممکن ہے ۔
آزادی کے بعد اگرانتخابات میں مسلمانوں کی نمائندگی کا بغورجائزہ لیں تو 1952 کی پہلی لوک سبھامیں تقریبا 11مسلمان ارکان پارلیمان تھے جوایوان کے مجموعی ممبران پارلیمنٹ کا 2-4فیصدہے ۔1957سے 1971 تک رفتہ رفتہ اس میں اضافہ ہوا اور یہ شرح 4-6 فیصد تک پہنچ گئی ۔اگر تاریخ پر نظرڈالیں تو 1977سے 1989 کادورعروج کادورتھا جب 1980میں ساتویں لوک سبھا میں سب سے زیادہ49مسلمان ارکان پارلیمان (9سے 10فیصد) جیت کرآئے ،اسی طرح سے 1984 میں آٹھویں لوک سبھامیں 42-45 (8فیصد) مسلم ارکان پارلیمان نے کامیابی حاصل کی ۔
1990کی دہائی سے آگے یعنی بی جے پی کے عروج اور سیاسی تبدیلیوں کے بعد اس میں تیزی سے کمی واقع ہوئی اور 1990-2000 کی دہائیوں میں 5-6فیصد کے قریب رہا۔2004-2009 چودہویں لوک سبھا میں تقریباً 7فیصد ۔2014 سولہویں لوک سبھا میں 23 مسلم ارکان پارلیمان تھے جو 1952 کے بعد سب سے کم تعداد تھی ۔2019 میں سترہویں لوک سبھا میں 26مسلم ارکان پارلیمان جیت کر آئے جو 4.8سے 5فیصدبنتے ہیں ۔2024 کی اٹھارہویں لوک سبھا میں موجودہ 24ارکان پارلیمان (4.4فیصد)جوچھ دہائیوں میں سب سے کم تناسب ہے ،حالانکہ مسلمانوں کی آبادی تقریبا 15فیصدہے ۔آبادی کے تناسب (14-15فیصد) اور پارلیمانی نمائندگی (حالیہ دہائیوں میں 4-5فیصد) کے درمیان یہ خلا ہندوستان کی جمہوریت میں اقلیتی سیاسی شمولیت کے بارے میں جاری تشویش کو اجاگر کرتا ہے ۔
اس اہم مسئلے کے پیچھے چند بنیادی سیاسی اور سماجی اسباب ہیں ،تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کئی ایسے حلقے جہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے ، انہیں ''محفوظ حلقہ '' قرار دے دیا گیا ہے یا پھر ان کی حدود اس طرح طے کی گئی ہیں کہ مسلم ووٹ مختلف حلقوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ اس سے ان کی سیاسی قوت منتشر جاتی ہے ۔مسلم ووٹ اکثر مختلف سیکولر جماعتوں کے درمیان تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ایک ہی حلقے سے متعدد مسلم امیدواروں کے میدان میں ہونے کی وجہ سے ووٹ کٹ جاتے ہیں، جس کا براہ راست فائدہ مخالف امیدوار کو ہوتا ہے ۔حالیہ برسوں میں ہندوستانی سیاست میں ایسا رجحان بھی دیکھا گیا ہے جہاں بعض سیاسی گروہ مسلمانوں کی نمائندگی کے بغیر ہی انتخابات جیتنے کی حکمت عملی اپناتے ہیں۔ اس سے مسلمانوں کی سیاسی اہمیت اور آواز ایوانوں میں کمزور پڑ گئی ہے ۔قوم کے اندر نچلی سطح پر ایسی مضبوط سیاسی قیادت کی کمی ہے جو تمام طبقوں کو ساتھ لے کر چل سکے ۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی اور تعلیمی پسماندگی بھی انہیں فعال سیاست کے مرکزی دھارے سے دور رکھتی ہے ۔
پارلیمنٹ میں مناسب نمائندگی محض ایک عددی مسئلہ نہیں بلکہ یہ جمہوریت کے '' سب کی شمولیت ''کے تصور پر بھی سوالیہ نشان ہے ۔ اس صورتحال کو بدلنے کے لیے جہاں مسلم دانشورں ،سیاست دانوں اور تنظیموں کو عقل و دانش سے کام لیتے ہوئے اس صورتحال پر قابو پانے کی سنجیدگی سے کوشش کرنے بلکہ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔

Comments
Post a Comment