سورج کنڈ میلہ میں دردناک واقعہ!

سلطان صدیقی

فرید آباد کے سورج کنڈ میلہ جو آج سے 33 سال پہلے شروع ہوا تھا اس کا مقصد ہریانہ کی تہذیب اور دیگر ریاستوں کی کرافٹ سے متعلق دیش اور بدیش کے لوگوں کو متعارف کرایاجاتا ہے ۔اس مرتبہ میلے کی تھیم لوکل ٹو گلوبل اور آتم نربھرتا رکھی گئی ہے جس کا مقصد ہندوستانی کاریگروں میں ختم ہورہی کرافٹ فنکاری و بین الاقوامی اسٹیج فراہم کرنا ہے ۔اس مرتبہ اتر پردیش، میگھالیہ تھیم ریاستیں ہیں جو اپنی وراثت کو پیش کررہی ہیں اس مرتبہ میلے میں ساجھیدار دیش مصر ہے ۔اس سب کے بیچ سنیچروار کی شام جھولاگرنے سے ایک پولیس انسپکٹر سمیت دو لوگوں کی موت ہو گئی ۔ہریانہ سرکار نے اس پولیس انسپکٹر کو شہید کو درجہ دے کر اس کے خاندان کو ایک کروڑ روپیہ دینے کا اعلان کیا اور جانچ کے نام پر خانہ پوری کرکے جھولالگادیا گیا اور میٹ بچھا دی گئی اور حسب معمول لوگ جھولے کا آنند لینے لگے۔لیکن اس دردناک واردات کے پیچھے ایک بڑی لاپرواہی سامنے آئی ہے ۔ایک نیوز چینل کو ملی ایف آئی آر کی کاپی سے پتہ چلتا ہے جس میں لکھا ہے جھولاچلانے والے نے لاپرواہی برتی ہے۔اور اس نے سیکورٹی ضابطوں کی تعمیل نہیں کی ہے جس سے لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈالا گیا ہے اسی کے چلتے اچانک جھولا پولیس انسپکٹر جگدیپ پرساد کے اوپر آگرا اور وہ شدید زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا ۔

سورج کنڈ کرافٹ میلہ فرید آباد میں لگے ہماچل فن فیئر کمپنی کا جھولا گراؤنڈ میں کھڑے لوگ جھولے کا مزہ لے رہے تھے اسی دوران ایک جھولاٹوٹ کر گر گیا ۔اس حادثہ پر ہریانہ کے وزیراعلیٰ نائب سینی اور مقامی وزیر نے حادثہ پر دکھ کا اظہار کیا وہیں میلے کے ناڈل افسر ہروندر یادو نے کہا کہ حادثہ کی جانچ جاری ہے ۔قصورواروں کو سزا دی جائے گی اور اسی کے بعد جھولامالک کو حراست میں لیا گیا لیکن کچھ دیر کے بعد معاملہ طے ہونے پر چھوڑ دیا ۔وہیں ہریانہ سے عآپ نیتا انوراگ ڈھانڈا نے ہریانہ وزیراعلیٰ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے حادثہ کے پیچھے سرکار کی لاپرواہی کو ذمہ دار بتایا اور انہوں نے میلہ انتظامیہ کے افسران پر کاروائی کی مانگ کی ہے ۔ اس دردناک حادثہ نے پورے علاقہ میں ایک مرتبہ تو سنسنی پیدا کر دی۔ لوگوں میں ڈر کا ماحول ہوا لوگ جانے لگے لیکن میلہ انتظامیہ نے لاؤڈ اسپیکر سے اعلان کیا کہ میلہ چھوڑ کر نہ جائیں یہ اتفاقی حادثہ تھا اور ہم نے جھولاکمپلیکس بند کر دیا ہے اور ایس آئی ٹی بناد ی ۔بہرحال حادثہ تو ہو گیا اور جانی نقصان ہوا اس کی بھرپائی کرنا مشکل ہے ۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے حادثوں کے پیچھے میلوں میں برتی جارہی لاپرواہی ظاہر کرتی ہے ریاستی انتظامیہ ہریانہ کو ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔لوگ میلوں میں اس لئے آتے ہیں تاکہ چٹھی کے دن اپنے پریوار والوں کو تفریح کا موقع ملے لیکن وہ تفریح کے چکر میں ان کے ساتھ حادثات پیش آئیں تو یہ میلے پر ایک طرح سے سوالیہ نشان ہے اس لئے اس کا کوئی مستقل حل نکالنا چاہیے تاکہ اس طرح کے حادثے دوبارہ نہ ہو سکیں ۔کل ملا کر ایس آئی ٹی جانچ سے کیا نکلنا تھا وہ بھی فطری حادثہ بتا کر رپورٹ دے دے گی اور معاملہ کچھ وقت بعد ٹھنڈا ہوجائے گا ۔سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ سورج کنڈ میں پہلے بھی جھولے گرنے کے واقعات ہو چکے ہیں ہر بار یہی کہا جاتا ہے کہ احتیاط برتی جائے گی لیکن معاملہ ڈھاک کے تین پات ۔اور میلہ انتظامیہ نے سبق نہیں لیا اگر اس طرح کے حادثے ہوتے رہے تو لوگ میلوں میں جانے سے قطرائیں گے ۔ہاں ایسا ہی کچھ سورج کنڈ انٹرنیشنل کرافٹ میلے سے متعلق لوگوں میں سوال کھڑے ہوں گے اور وہ وہاں جانے سے بچیں گے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ریاستی سرکار کو اس میلے سے ہونے والی ٹیکس آمدنی سے محروم ہونا پڑے گا کیوں کہ ہریانہ کی معیشت میں ٹورازم کا اہم اچھا خاصہ رول ہے اور اس کو محصول ملتا ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ آئندہ لگنے والے میلوں میں امکانی حادثوں سے نمٹنے کے لئے سرکار قدم اٹھائے گی۔ہم حادثے میں مرے پولیس انسپکٹر سمیت دیگر افراد کی موت پر اظہار دکھ کرتے ہیں اور ریاستی سرکار سے امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے یہاں اس طرح کے میلے میں کوئی حادثہ نہ ہواس پر پہلے سے احتیاطی تدابیر کرے گی تاکہ سیاحوں کے من میں ڈر کا احساس نہ ہو ۔بہرحال حادثہ ہو گیا بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے اور افسران کو ہدایت دی جائے کہ وہ ایسے موقع پر الرٹ رہیں ۔


Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

عبدالعلیم کے متبنیٰ کی کہانی جو رشتوں کے لیے امتحان بن گئی !

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

لنگی میں

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد