فرقہ واریت کی تپش میں تپتے پہاڑی صوبے
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
ہماچل پردیش، منی پور ، آسام اور اتراکھنڈجیسی ریاستیں نفرت ، فرقہ واریت کی تپش سے مستقل جھلس رہی ہیں ۔ ہماچل میں شملہ کے سنجولی کی قدیم مسجد پر تنازعہ کھڑا کر پورے علاقے میں فرقہ وارانہ ماحول بگاڑنے کی کوشش کی گئی ۔ منی پور میں کوکی اور میتی ایک سال سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود ایک دوسرے کے علاقہ میں آ جا نہیں سکتے ۔ آسام سے نفرت اور فرقہ واریت کی کوئی نہ کوئی خبر روز آتی رہتی ہے ۔ اتراکھنڈ میں یہ سلسلہ مستقل جاری ہے جس سے اس کے تیزی سے ہندوتوا کی تجربہ گاہ بننے کا احساس ہوتا ہے، یہ واقعات مذہب کے نام پر فساد کرنے والوں کو کہیں نہ کہیں سے سرپرستی حاصل ہونے کا اشارہ ہے اور قانون و نظم برقرار رکھنے والے محض رسمی کارروائی میں مصروف ہیں۔
حالیہ واقعات نے پورے ملک کو اتراکھنڈ کی فرقہ واریت کی طرف متوجہ کیا ہے ۔ پہلے تریپورہ کے طالب علم اینجل چکما کو دہرادون میں اتنا پیٹا گیا کہ اس کی موت ہو گئی ۔ دوسرا واقعہ عین اس وقت پیش آیا جب ملک جمہوریت کے قیام کے 78ویں سال کی جانب قدم بڑھا رہا تھا، اتراکھنڈ، جسے دیوبھومی کہا جاتا ہے، وہاں ایک صدی سے زائد قدیم ورثے پر بھدّی گالیوں اور “جے شری رام” اور “بجرنگ بلی کی جے” جیسے جارحانہ نعروں کے ساتھ ہتھوڑے اور سَبّل برسائے گئے۔ وہاں رکھی مذہبی کتب کو نقصان پہنچایا گیا اور مذہبی جنون بھڑکانے کی کوشش کی گئی۔تیسرے کوٹ دوار میں بابا نام کی دوکان اور اس کے مالک مسلم بزرگ پر بجرنگ دل نے حملہ کرنے کی کوشش کی جنہیں دیپک کمار نام کے ایک نوجوان نے روکا ۔ پولس نے ہندو وادی بجرنگ دل کے لوگوں پر کاروائی کرنے کے بجائے دیپک پر ایف آئی آر درج کی ہے ۔
درحقیقت ہتھوڑے اور سبل مسوری کے ایک مشنری اسکول کی نجی زمین پر واقع بابا بلھے شاہ کی مزار پربرسا کر اکثریتی غنڈوں نے اسے زمیں دوز کر دیا ۔ اس کے ساتھ موجود دو دیگر مزارات کو بھی مسمار کر دیا گیا، جبکہ دان پیٹی توڑ کر نقدی لوٹ لی گئی۔ بھائی چارے اور ہم آہنگی کی علامت رہی بلھے شاہ کی مزار کے احاطے میں اتوار کی شام مٹھی بھر ہندوتوا عناصر جوتوں سمیت گھسے اور اپنے مذموم عزائم کو عملی جامہ پہنایا۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا۔ مسوری پولیس نے تین نامزد ملزمان سمیت 25-30 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ اسی دوران ہندو رکشا دل کے صدر بھوپیندر عرف پنکی چودھری نے اپنے کارکنوں کے ذریعے اس توڑ پھوڑ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ پولیس کب اور کیسے اس دعوے کا نوٹس لیتی ہے، یہ دیکھنا ہوگا۔ تاہم اس سارے معاملے میں اطمینان کی بات یہ رہی کہ پولیس میں شکایت درج کرانے والوں میں صرف مسلم تنظیمیں ہی نہیں بلکہ دیگر برادریوں کے لوگ بھی شامل تھے۔
بابا بلھے شاہ جنہیں بلّھیا کہہ کر بھی پکارا جاتا ہے۔ ایک انقلابی فلسفی، سماجی مصلح، قومی یکجہتی کے مبلغ اور شاعر تھے۔ انہیں پنجابی زبان کے عظیم ترین شاعروں میں شمار کیا جاتا ہے اور “پنجابی نشاۃِ ثانیہ کے بانی” کے طور پر عزت دی جاتی ہے۔ ان کا اصل نام سید عبداللہ شاہ قادری تھا اور انہیں حضرت محمد ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کی نسل سے مانا جاتا ہے۔ ان کے والد شاہ محمد عربی، فارسی اور قرآنِ مجید کے عالم تھے۔ والد کی نیک سیرت کا اثر بلھے شاہ پر بھی پڑا اور شاید اسی لیے انہوں نے ‘سید’ یعنی اونچی ذات سے تعلق رکھنے کے باوجود نچلی ذات ’آرائیں‘کے شاہ عنایت کو اپنا پیر ومرشد بنایا۔
ہندی اور پنجابی میں بے شمار گیت بلھے شاہ کی تخلیقات پر مبنی ہیں یا ان کا حوالہ دیتے ہیں۔ 1970 کی دہائی میں نریندر چنچل کا گایا ہوا گیت ’’بے شک مندر مسجد توڑو، بلھے شاہ یہ کہتا
پر پیار بھرا دل کبھی نہ توڑو، جس دل میں دلبر رہتا‘‘
ہر نوجوان کی زبان پر تھا۔ تقریباً دو دہائیاں قبل مشہور پنجابی گلوکار ربی شیرگل نے “بلّا کی جاناں میں کون” گا کر شہرت حاصل کی، جبکہ ایک دہائی قبل رنبیر کپور پر فلمایا گیا “یار بُلّھیا” بھی خاصا مقبول ہوا۔ “دمادم مست قلندر” تو بابا بلھے شاہ کی لازوال تخلیق ہے ہی۔
لیکن مذہب کا یک رُخا اور بے سُرا راگ الاپنے والے نادان لوگ کیا جانیں کہ شاعری کیا ہوتی ہے اور اسے موسیقی میں کیسے پرویا جاتا ہے؛ بلھے شاہ کی تعلیمات اور فکر کو سمجھنا تو بہت دور کی بات ہے۔ ہندی روزنامہ ’’دیش بندھو‘‘ میں شائع مضمون کے مطابق اس امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بلھے شاہ کی مزار پر حملہ منصوبہ بند طریقے سے کیا گیا ہو۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ایک ہندوتوا تنظیم کھلے عام اس حملے کی ذمہ داری لے رہی ہے، مگر پولیس کو اس کی بھنک تک نہیں لگی۔ کیا یہ پولیس کے نگرانی اور خفیہ اطلاعاتی نظام کی ناکامی نہیں؟ کیا پولیس صرف خانہ پوری کر رہی ہے ؟
‘سبرنگ انڈیا’ ویب سائٹ نے اس پہاڑی ریاست میں پیش آنے والے فرقہ وارانہ واقعات پر شہری حقوق کے تحفظ کے لیے قائم تنظیم (اے پی سی آر) کی تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں 2021 سے 2025 کے درمیان اتراکھنڈ کے مختلف اضلاع میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی فرقہ وارانہ تشدد، دھمکیوں، بے دخلی، نقل مکانی اور عبادت گاہوں پر حملوں کی ایک طویل فہرست دستاویزی شکل میں پیش کی گئی ہے۔ ’’مسترد، نشانہ بنائے گئے اور بے دخل : اتراکھنڈ میں فرقہ وارانہ بیانیے اور تشدد‘‘ کے عنوان سے یہ رپورٹ زمینی تحقیقات، متاثرین کے بیانات، پولیس ریکارڈ، عدالتی دستاویزات، سرکاری نوٹسوں اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے۔
اے پی سی آر نے دسمبر 2021 کی ہریدوار دھرم سنسد کو ایک اہم واقعہ قرار دیا ہے، جہاں تین روزہ اجلاس میں کئی ہندوتوا مذہبی رہنماؤں نے مسلمانوں کے خلاف تشدد، ہندو راشٹر کے قیام اور اسلام و عیسائیت کے خاتمے کی کھلی اپیلیں کیں۔ 2023 میں اتراکھنڈ حکومت نے سرکاری زمین پر بنے ‘غیر قانونی ڈھانچوں’ کی شناخت اور انہیں ہٹانے کے لیے ریاست گیر مہم شروع کی۔ مئی 2024 تک وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے دعویٰ کیا کہ 5 ہزار ایکڑ زمین واگزار کرائی جا چکی ہے۔اسی سال اتراکاشی ضلع کے پورولا میں ایک مسلم اور ایک ہندو نوجوان پر ایک نابالغ ہندو لڑکی کے مبینہ اغوا کا الزام لگا، جس نے بعد میں عدالت میں بیان دیا کہ اس کا اغوا نہیں ہوا تھا بلکہ پولیس نے اس سے زبردستی بیان لیا تھا۔
سوامی درشن بھارتی کی قیادت میں 24اکتوبر 2024 کو ایک ریلی نے اتراکاشی مسجدکو گرانے کا مطالبہ کیا۔ ریلی پرتشدد ہو گئی، پانچ پولیس اہلکار اور 30 سے زائد شہری زخمی ہوئے۔ مسلم دکانداروں کی دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی۔ اس کے باوجود یکم دسمبر 2024 کو ہندوتوا مہاپنچایت کی اجازت دی گئی، جہاں تلنگانہ کے بی جے پی ایم ایل اے ٹی راجہ سمیت مقررین نے مسجد پر بلڈوزر چلانے جیسی دھمکیاں دیں۔ اے پی سی آر کے مطابق یہ ہائی کورٹ کی ہدایات کی روح کے خلاف تھا۔ اسی طرح نینی تال میں عصمت دری کے معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر وہاں مسلمانوں کی دوکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ پاٹ کی گئی ۔ مسجد پر بھی حملہ کرنے کی کوشش کی گئی ۔اس میں کئی لوگ زخمی بھی ہوئے تھے ۔ حالانکہ ملزم کو پولس گرفتار کر چکی تھی اور مسجد کمیٹی نے گناہ گار کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔
ٹہری کے سری نگر میں ‘لو جہاد’ کے الزامات کے بعد کم از کم 15 مسلم دکانداروں کو نجیب آباد واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔ 15 اکتوبر 2024 کو چمولی کے گوچر میں پارکنگ کے تنازع نے فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کر لی، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 مسلم دکاندار بے دخل کر دیے گئے۔ اس سے قبل نندا گھاٹ میں ایک مسلم نائی پر چھیڑ چھاڑ کے الزام کے بعد ہونے والے احتجاج نے توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی صورت اختیار کر لی، گاڑیاں ندی میں پھینک دی گئیں اور ایک عارضی مسجد کو منہدم کر دیا گیا۔
انڈیا ہیٹ لیب کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق اتراکھنڈ ان پانچ ریاستوں میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ نفرت انگیز تقاریر ریکارڈ کی گئیں۔ یہی وہ ریاست ہے جہاں سب سے پہلے یکساں سول کوڈ نافذ کیا گیا اور مذہب تبدیل کرنے پر عمر قید تک کی سزا کا قانون بنایا گیا۔ مدرسہ بورڈ ایکٹ کو منسوخ کر کے تمام مدارس کو اسکول ایجوکیشن بورڈ سے منسلک کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
دو مرتبہ وزیر اعلیٰ بن کر طویل ترین مدت تک اقتدار میں رہنے والے پشکر سنگھ دھامی اپنے صوبے کو سیاحت اور فلم سازی کا مرکز بنانے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں، مگر انہیں یہ بتانا چاہیے کہ قدرتی طور پر ٹھنڈی مگر فرقہ وارانہ طور پر گرم رکھی گئی اس دیوبھومی میں آخر کون آنا چاہے گا۔ ملک کی حفاظت کے لحاظ سے پہاڑی ریاستیوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔ سرحد پر بسے اتراکھنڈ کے گاؤں سہولیات کی کمی ، بے روزگاری اور مشکل زندگی کی وجہ سے خالی ہو رہے ہیں ۔اس طرف توجہ دینے کے بجائے ریاست کو نفرت اور فرقہ واریت کی تپش میں جھلسایا جا رہا ہے ۔

Comments
Post a Comment