خطرہ میں اردو زبان کی خوشبو و عطردان سا لہجہ

 اردو میں درخواست نہیں لکھ سکتے، پارٹیکا نہیں لکھ سکتے، رجسٹر اور اسکول رکارڈس بھی اب اردو میں محفوظ نہیں اور اب تو اردو میں ہونے والی تمام سرگرمیاں موقوف ہو چکی ہیں 

محمد رفیع 

وہ عطردان سا لہجہ میرے بزرگوں کا

رچی بسی ہوئی اردو زبان کی خوشبو

(بشیر بدر) 

بڑا المیہ ہے کہ اردو زبان کے فروغ کے لئے حکومت بہار کوشاں ہے اور محبان اردو بھی متمنی ہیں، لیکن نتیجہ؟ وہیں ایک جانب حکومت اردو زبان کے فروغ کے لئے عملی اقدامات کرتی ہے تو دوسری جانب سرکاری افسران اس کے فروغ میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ ہم بخوبی واقف ہیں کہ اردو زبان کا وجود مدارس و مکاتب سے ہی باقی ہے۔ شعری و ادبی محفلیں بھی اردو زبان سے ہی آراستہ و پیراستہ ہوتی ہیں۔ علمی و ادبی ذوق رکھنے والے حضرات بھی تبھی نظر آئیں گے جب ہمارے مدارس و مکاتب کا وجود قائم رہے گا۔‌ لیکن افسوس صد افسوس کہ روز بہ روز اردو زبان کے وجود کو ختم کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ ابھی میں نے مظفر پور اردو زبان سیل کی سالانہ تقریب فروغ اردو سیمینار و مشاعرہ میں مجلس سے گفتگو کے دوران چند سوالات اٹھائے تھے- میں نے اردو زبان کی موجودہ صورتحال پر اختر شاہجہان پوری کے شعر 

ابھی تہذیب کا  نوحہ نہ  لکھنا

ابھی کچھ لوگ اردو بولتے ہیں

سے اپنی گفتگو کا آغاز کیا، میں نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ معزز وزیر اعلی بہار جناب نتیش کمار نے اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لئے کوئی کسر نہیں رکھ چھوڑی ہے۔ اردو زبان کی ترقی کے لئے انہوں نے بڑی تعداد میں اردو، فارسی اور عربی زبان کے اساتذہ بحال کئے ہیں۔ وہیں تمام بلاک و ضلع ہیڈ کوارٹرز میں اردو مترجم و معاون مترجم بھی بحال کئے ہیں۔ ایسا انہوں نے اردو زبان کے فروغ کے لئے ہی کیا ہے لیکن حقیقت کیا ہے؟ استاد جس کے بغیر اردو زبان کا فروغ ناممکن ہے کی شان میں ایک شعر 

رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ یہ غم خوار ہمارے

استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے

میں نے سیمینار میں چند سوالات کئے تھے 

1. آپ اساتذہ کے بغیر کیا اردو زبان کا فروغ ممکن ہے ؟

2. اردو اسکولوں میں اردو زبان کے جاننے والے ہیڈ ٹیچر یا ماسٹر نہ ہوں تو اردو کا فروغ ممکن ہے؟

3. اردو اسکولوں میں اردو جاننے والے ٹیچر نہ ہوں اور ذریعہ تعلیم (medium of education) اردو نہ ہو تو اردو زبان کا فروغ ممکن ہے ؟

4. اردو کی تعلیم پرائمری سطح پر نہ ہو تو اردو زبان کا فروغ ممکن ہے؟

5. اردو اداروں (اسکول و مدارس) کے بغیر اردو زبان کا فروغ ممکن ہے ؟

6. اسکول کی روٹین میں اردو شامل نہ ہو تو اردو زبان کا فروغ ممکن ہے ؟

7. اردو کے استاد موجود ہوں اور اسے اردو کا کلاس نہ ملے تو اردو زبان کا فروغ ممکن ہے؟

8. اردو کی کتابیں بچوں کو نہ ملے، سوالات نہ ملیں تو اردو زبان کا فروغ ممکن ہے؟ قومی زبان (راشٹر بھاشا) ہندی کے سوال اعلی درجات کا ملے تو کیا ہوگا؟

9. پرائمری سطح پر بچے اردو میں تعلیم حاصل کریں لیکن سیکنڈری و سینیئر سیکنڈری سطح تک اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے ادارے نہ ہوں تو اردو زبان کا فروغ ممکن ہے؟

10. ہم اردو میں درخواست نہ لکھیں، اردو کے اخبارات و رسایل خرید کر نہ پڑھیں تو اردو زبان کا فروغ ممکن ہے؟


         نہیں! کسی بھی قیمت پر ایسی صورتحال میں اردو زبان کا فروغ نہیں ہو سکتا۔ میں نے بتایا کہ صرف مظفر پور کے 141 اردو پرائمری اسکول میں سے 126 میں غیر اردو داں ہیڈ ٹیچر بحال ہو گئے ہیں۔ اور زیادہ تر اردو پرائمری و مڈل اسکولوں میں غیر اردو داں اساتذہ کی تعداد 50 فیصد سے زائد ہو گئی ہیں تو بھلا ایسے میں اردو زبان کیسے فروغ پائے گا۔ یہ باتیں میں نے ضلع مجسٹریٹ جناب سبرت کمار سین کو اسٹیج پر ہی روک کر انہیں خصوصی طور پر کہا تو انہوں نے ضلع اقلیتی فلاح افسر جناب راجیو رنجن جی کو بلا کر یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ مجھ سے تفصیلات لے کر ان کے سامنے فائل پیش کریں۔ میں قومی اساتذہ تنظیم بہار کے سیکریٹری جناب محمد تاج الدین، ریاستی مجلس عاملہ کے رکن محمد رضوان، نسیم اختر اور محمد اکرام کے ساتھ جناب راجیو رنجن سے ملاقات کر پوری تفصیلات پیش کیا، انہوں نے وعدہ کیا اور کہا کہ ضلع مجسٹریٹ سے اس سلسلے میں ملاقات کر بہتر رزلٹ دینے کی کوشش کروں گا۔ فروغ اردو سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے میں نے یہ بھی کہا کہ لوگوں سے ہم یہ اپیل کرتے ہیں کہ اردو میں درخواست لکھ کر بلاک اور ضلع میں دیں کیونکہ اردو زبان کے مترجم وہاں بحال ہیں لیکن ستم ظریفی یہ کہ اب اپنے اسکول میں ہی ہم اردو میں درخواست نہیں لکھ سکتے ہیں، اردو میں سبق کی منصوبہ بندی (پاٹھ ٹیکا)  لکھنا بھی مشکل ہے کہ غیر اردو داں ہیڈ ماسٹر نہ درخواست قبول کرتے ہیں اور نہ ہی پاٹھ ٹیکا (lesson plan) پر ہی دستخط کرتے ہیں، یہ صورتحال اردو اسکولوں کی ہے۔ اتنا ہی نہیں اب تو ٹیچر اور بچوں کے رجسٹر بھی اردو میں محفوظ نہیں اور نہ ہی دوسرے ریکارڈس اردو میں محفوظ ہیں۔ یعنی اردو اسکولوں میں لگ بھگ اردو زبان کی تمام سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں، ایسے میں اردو زبان کا فروغ کیسے ممکن ہے؟ ہندی اسکولوں میں جو اردو ٹیچرس بحال ہیں انہیں اردو کا کلاس نہیں دیا جا رہا ہے۔ ہماری اردو معلمہ کو زیادہ ذلیل کیا جاتا ہے۔ ایسی شکایتیں مجھے مظفر پور، ویشالی، سمستی پور اور گوپال گنج ضلعے سے موصول ہو رہی ہیں۔ 

میں اپنے اس مضمون کے ذریعہ اپیل کرتا ہوں کہ ان تمام باتوں کا نوٹس خود اقلیتی کمیشن بہار و اردو ڈائیریکٹوریٹ وغیرہ محکمے لیں۔ اس سلسلے میں اردو مشاورت کمیٹی بہار بھی محکمۂ تعلیم و حکومت کو اردو زبان کے فروغ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا مشورہ دیں، انہیں وجوہات بتائیں، نہیں تو شیریں و خوبصورت ترین زبان اردو جو آج ہماری شناخت ہی نہیں ہماری تہذیب و تمدن بھی ہے دم توڑ دیگی۔ 

اردو فروغ سیمینار کے موقع پر میں نے اردو زبان سیل مظفر پور کی انچارج افسر محترمہ عشرت جہاں کو مشورہ دیا کہ

1. شکچھا بھون، ٹریننگ کالج، بلاک ہیڈ کوارٹرز، ضلع ہیڈ کوارٹرز، کمشنری و کارپوریشن وغیرہ پر اردو زبان میں بھی بورڈ لگانے کے لئے مکتوب لکھیں۔

2. ضلع تعلیمی افسر کو پروگرام میں ضرور شامل کریں تاکہ ہمارے کچھ مسائل حل ہو سکیں۔

3. اساتذہ کو سیمینار میں بلایا جاتا ہے تو اسے کام کا انعام و اعزازات سے نوازا جائے، انہیں اردو کے تعلق سے کاموں کی ذمہ داری دی جائے۔ زمینی سطح پر اردو زبان کے فروغ کے لئے وہ کیا کرے اس کے لئے ایک ہدایت نامہ، کتابچہ کی شکل میں دی جائے۔

4. مذکورہ بالا سوالات کے حل کے لئے اردو زبان سیل ضلع مجسٹریٹ سے ایک خط حاصل کر لے اور ان کا وفد اسکولوں، کالجوں و دوسرے اداروں کا دورہ کرے۔

5. ان تمام چیزوں کو بہتر بنانے کے لئے اردو زبان سیل ایک مجلس مشاورت قائم کر لے۔ کمیٹی میں سبھی شعبوں کے محبان اردو کی شمولیت کو یقینی بنائیں۔ کمیٹی کے اراکین آپ سے نہ تنخواہ لیں گے، نہ ہی کوئی معاوضہ وغیرہ، وہ آپ کے سچے معاون ثابت ہوں گے اور آپ کا کام بہت آسان ہو جائے گا۔ اپنی گفتگو کو میں نے مندرجہ ذیل شعر پر مکمل کیا 

مدرسہ میرا  میری  ذات  میں  ہے

خود معلم ہوں خود کتاب ہوں میں

فروغ اردو سیمینار کے ذریعہ مسائل سے افسران، اساتذہ و اردو آبادی کو آگاہ کرنے کے علاوہ میں نے اردو زبان، اردو اسکولوں اور اردو زبان کے اساتذہ کے مسائل سے ترہت گریجویٹ حلقہ ایم ایل سی جناب بنشی دھر برجواسی کو بھی واقف کرایا ہے اور مانگوں کا ایک لیٹر بھی انہیں دیا کہ وہ بہار قانون ساز کونسل میں ان مسائل کو اٹھائیں۔ ہندی بولنے والے اسکولوں میں ہندی بولنے والے اساتذہ، ہیڈ ٹیچرس، اور ہیڈ ماسٹرس اور اردو بولنے والے اسکولوں میں اردو بولنے والے اساتذہ کی تعیناتی، چھٹیوں کے شیڈول میں بہتری، جمعہ کی چھٹیوں کا معاوضہ وغیرہ اہم مسائل ہیں۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ اردو اسکول، اردو اساتذہ، اور اردو بولنے والے طلباء اس وقت مختلف مسائل کا شکار ہیں۔ نتیجتاً اسکولوں میں تعلیمی ماحول متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ آپ کے ذریعے، ہم حکومت اور محکمہ کو درج ذیل مسائل سے آگاہ کرانا چاہتے ہیں:

1. BPSC-TRE-1 سے کی گئی تمام بحالی اور تبادلوں میں، اردو - ہندی اسکولوں کے درمیان کا فرق مٹ گیا ہے، جس کے نتیجے میں اردو اسکولوں میں اردو داں اساتذہ کی تعداد نہ کے برابر رہ گئی ہے۔ اردو مڈل اسکول، پکی سرائے بوائز کے 13 اساتذہ میں سے، آٹھ غیر اردو بولنے والے ہیں، اور صرف پانچ اردو بولنے والے ہیں۔ اردو پرائمری اسکول برہمپورہ، مظفر پور میں کل 7 اساتذہ ہیں لیکن ان میں ایک بھی اردو ٹیچر نہیں ہے، جب کہ یہ اسکول قصاب محلہ میں ہے۔ اردو مڈل اسکول چندوارا مقری گرلس میں 14 میں 9، اردو مڈل اسکول چندوارا مقری بوائز 15 میں 8، اردو پرائمری اسکول مقری 14 میں 8 اور اردو مڈل اسکول چک عبدالواحد 6 میں 4 اساتذہ غیر اردو داں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہار کے تقریباً تمام اردو اسکولوں کی یہی صورتحال ہے۔

2. بدتر صورتحال ہیڈ ٹیچرز کی تقرری کی وجہ سے بھی پیدا ہوئی ہے۔ تقریباً 80 سے 90 فیصد اردو اسکولوں میں غیر اردو داں ہیڈ ٹیچرز کی بحالی ہوئی ہے۔ مظفر پور ضلع میں 141 اردو پرائمری اسکولوں میں سے 126، ویشالی کے 75 اردو پرائمری اسکولوں میں سے 66، شیوہر کے 14 اردو پرائمری اسکولوں میں سے 11 اور سیتامڑھی کے 68 اردو پرائمری اسکولوں میں سے 64 میں غیر اردو داں ہیڈ ٹیچرس بحال ہوئے ہیں، جب کہ بڑی تعداد میں اردو داں ہیڈ ٹیچرز کو ہندی اسکولوں میں بحال کر دیا گیا ہے۔ ریاست بھر کے اردو اسکولوں کی یہی صورتحال ہے۔ ارول، کھگڑیا، کشن گنج، بیگو سرائے، منگیر اور پورنیہ میں، 100 فیصد اردو اسکولوں میں غیر اردو داں ہیڈ ٹیچرس بحال ہوئے ہیں وہیں ارریہ: 51 میں 41، بانکا: 28 میں 26، بھاگلپور:  33 میں 30، بھوجپور:  98 میں 92، بکسر: 28 میں 26، دربھنگہ:  75 میں 66، مشرقی چمپارن: 147 میں 128، مغربی چمپارن:  85 میں 77، گیا جی:  63 میں 55، گوپال گنج:  22 میں 19، جموئی:  5 میں 4، جہان آباد:  25 میں 22، کیمور:  26 میں 19، کٹیہار:  12 میں 11، لکھی سرائے:  10 میں 9، مدھے پورا:  29 میں 25، مدھوبنی: 25 میں 23، نالندہ: 57 میں 54، نوادہ: 63 میں 54، پٹنہ: 98 میں 85، روہتاس: 39 میں 35، سہرسہ: 21 میں 18، سمستی پور: 51 میں 45، سارن (جھپرا): 139 میں 122، سیوان: 38 میں 34، سوپول: 36 میں 35‌ غیر اردو داں ہیڈ ٹیچرس اردو اسکولوں میں بحال ہوئے ہیں، جو کافی تشویشناک ہے، ایک جھٹکے میں ہماری مادری زبان اردو کے ساتھ ہماری تہذیب بھی چھیننے کی سازش رچ دی گئی اور ہمارے رہنما خاموش تماشائی بنے ہیں۔ اس بحالی سے ہیڈ ٹیچرز اور اساتذہ بھی پریشان ہیں کیونکہ غیر معمولی، غیر روایتی طور پر وہ اپنی خدمات دینے کو مجبور ہیں اور تعلیمی ماحول شدید متاثر ہو رہا ہے۔ پورنیہ، ارریہ، کشن گنج اور کٹیہار جیسے اضلاع کا یہ المیہ ہے کے بہت سارے اردو اسکولوں میں اردو نہیں لکھا ہے جس کی وجہ سے ایسے اسکولوں کو اردو اسکول تسلیم بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ اس سے قوم کا بڑا نقصان ہے۔ 

3. اردو مڈل اسکول، اردو مڈل اسکولوں سے اپ گریڈ ہوئے سیکنڈری و سینیئر سیکنڈری اسکولوں میں بھی غیر اردو داں اساتذہ بھر گئے ہیں۔ بچے پرائمری سطح سے ہی اردو میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اب انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس لئے اردو مڈل اور اردو ہائر سیکنڈری اسکولوں کا وجود برقرار رہنا چاہئے۔ اس سے اردو بولنے والے بچوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا حق اور اردو زبان، تہذیب و ثقافت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ موجودہ صورتحال میں اردو اسکولوں میں تعلیم اور سیکھنے سکھانے کے ساتھ مختلف سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ 

یہاں میں ایک واقعہ کا ذکر کر دوں کہ اردو اپگریڈیڈ سیکنڈری و سینیئر سیکنڈری اسکول بلاک سطح پر بمشکل ایک یا دو ہیں۔ کئی اسکولوں کے نام میں اردو نہیں لکھا جاتا ہے اور جس میں اردو لکھا جاتا ہے یو ڈائس سے اسے ہٹایا جا رہا ہے اور میڈیم آف ایجوکیشن بھی تبدیل کر اردو کی جگہ ہندی کر دیا جا رہا ہے۔ اردو ہائر سیکنڈری اسکول مورنصف، کڈھنی، مظفر پور میں وہاں کے غیر اردو داں ہیڈ ماسٹر نے اسکول کو جمعہ کے دن کھولنے کا نوٹس جاری کیا، ترانہ بدل دیا، یو ڈائس میں نام بدل دیا تو گاؤں کے لوگ مشتعل ہو گئے۔ میری موجودگی میں وہاں کے مکھیا افسانہ خاتون کے گھر پر بڑی نشست منعقد ہوئی جس میں قومی اساتذہ تنظیم بہار کے صدر جناب تاج العارفین نے ہیڈ ماسٹر کا زبردست کلاس لیا، ماسٹر شاہ عالم، مکھیا کے شوہر جناب فیض الدین اور عبد الوارث سابق ضلع پارشد نے بھی ناراضگی جتائی تو ہیڈ ماسٹر بیک فٹ پر آتے ہوئے اردو نظام کو باقی رکھنے کا وعدہ کیا اور جمعہ کو اسکول بند کرنے کا نوٹس جاری کیا۔ لیکن ایسا کتنی جگہ ممکن ہے۔ بیشتر اضلاع کے ضلع تعلیمی افسران اردو سیکنڈری و سینیئر سیکنڈری اسکولوں کو اردو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور امتحان کی رازداری فاش ہونے کا بہانا بنا کر جمعہ کے دن اسکول کھولنے اور اتوار کو ہفتہ کی چھٹی کرنے کے لئے مکتوب جاری کر دیا ہے۔ 

4. میں نے یہ بھی کہا ہے کہ جہاں کہیں بھی ہندی اسکولوں میں اردو بولنے والے طلباء نہیں ہیں، اور اردو داں اساتذہ بحال ہیں تو فوری طور پر ان اساتذہ کو اردو اسکولوں میں منتقل کیا جانا چاہئے جہاں اردو زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء موجود ہیں۔

5. اردو جاننے والے ہندی اسکولوں میں تعینات ہیڈ ٹیچرز کو فوری طور پر اردو اسکولوں میں ٹرانسفر کیا جائے، اور اردو اسکولوں میں غیر اردو بولنے والے ہیڈ ٹیچرز اور ہیڈ ماسٹرز کو فوری طور پر ہندی اسکولوں میں تعینات کیا جائے، اسکولوں میں ہم آہنگی کا ماحول قائم کیا جائے تاکہ اسکول سیاست سے پاک رہے اور معیاری تعلیم کا ہدف حاصل کیا جاسکے۔

6. اردو بولنے والے طلباء کو دستیاب نصابی کتابوں میں، ہندی اسکولوں میں اردو بولنے والے طلباء اردو میڈیم کی نصابی کتابیں حاصل کر رہے ہیں۔ انہیں صرف اردو زبان کی کتاب اردو میں، انگریزی اور دیگر تمام مضامین کی کتابیں ہندی زبان میں ملنی چاہئے۔ دریں اثنا، اردو اسکولوں میں اردو میڈیم طلباء کو ہندی زبان ہندی میں، انگریزی اور دیگر تمام مضامین اردو میں ملنی چاہئے۔ لیکن اس کے برعکس عمل ہو رہا ہے جو ایک بڑی سازش معلوم ہوتی ہے۔ 

7. یہ حیرت کی بات ہے کہ اردو زبان کے طلباء قومی زبان راشٹر بھاشا ہندی کے امتحان میں سوالنامہ حاصل کرتے ہیں، لیکن اس پرچے میں سوالات قومی زبان کی نصابی کتاب سے نہیں ہوتے، یعنی دو کلاس نیچے کی کتاب کے سوال نہ ہو کر اسی کلاس کے ہندی بولنے والے طلباء کی ہندی نصابی کتاب سے سوالات ہوتے ہیں۔ اس سے اردو زبان کے طلباء کو قومی زبان راشٹر بھاشا ہندی کا امتحان دینا مشکل ہو جاتا ہے، یعنی جس کتاب کا مطالعہ نہیں کیا سوال اسی کے ملے۔ 

8. اردو اسکولوں میں جمعہ کو ہفتہ وار چھٹی ہوتی ہے۔ اردو اسکولوں کے اساتذہ اکثر اس دن تربیت، امتحانات اور دیگر سرگرمیوں کے لئے تعینات کئے جاتے ہیں، لیکن انھیں اس چھٹی کا معاوضہ نہیں دیا جاتا ہے۔ جس کے باعث انہیں جمعہ اور اتوار دونوں دن کام کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے یہ گزٹ ہونا چاہئے کہ ہفتہ کی چھٹی جمعہ کے دن کام کرنے پر چھٹی کا معاوضہ دیا جائے۔

9. مسلمانوں کے صرف دو بڑے تہوار ہیں، عیدالفطر اور عیدالاضحی ان تہواروں میں تعطیلات کی تعداد کم کرنا ناانصافی ہے۔ اسکولوں میں دونوں تہواروں عیدالفطر و عیدالاضحیٰ کے لئے تین - تین دنوں کی چھٹی ہونی چاہئے۔ رمضان المبارک کا آخری جمعہ 20 مارچ کو ہے تاہم اس کے لئے 13 مارچ کو تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ جو غیر معقول ہے۔ تعطیل نامہ 2026 کی فہرست میں جمعہ کے دن جو تہوار کی چھٹی ہے اسے 65 تعطیلات کی فہرست سے گھٹایا نہیں گیا ہے۔

آخر میں یہ مانگ بھی کی ہے کہ 

10. اردو بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے۔ اسے ہندی کے بعد ترجیح دی جائے، دفاتر اور اسکولوں میں نیم پلیٹ، نوٹس، بورڈز وغیرہ پر ہندی کے ساتھ اردو رسم الخط میں بھی لکھا جائے، جیسا کہ ریاستی حکومت کا واضح حکم نامہ موجود ہے۔لہذا، میں عاجزانہ طور پر تمام اراکین اسمبلی و قانون ساز کونسل سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ موجودہ اجلاس میں مزکورہ بالا سوالات اٹھائیں۔ حکومت اور محکمہ تعلیم کو ہمارے مسائل سے آگاہ کریں۔ خصوصی طور پر میں بہار کے تمام مسلم اراکین اسمبلی و قانون ساز کونسل کا دھیان مبذول کرانا چاہوں گا کہ وہ بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور مسائل کو حل کرنے کی سمت میں قدم بڑھائیں۔ اردو زبان کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کا استعمال اردو زبان سے محبت کرنے والے بھی کرتے ہیں اور اس کے دشمن بھی۔ یہ ایسی زبان ہے جس میں تمام زبانوں کا رس شامل ہے۔ 


Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

لنگی میں

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

عبدالعلیم کے متبنیٰ کی کہانی جو رشتوں کے لیے امتحان بن گئی !

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

ٹرمپ مودی تعلقات کے پگھلنے کے دو طرفہ اور عالمی مضمرات

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد