پٹری پر آگیا بھارت -امریکہ ٹریڈ معاہدہ!

سلطان صدیقی

بھارت اور امریکہ کے مابین ٹریڈ ڈیل کی خبر سے کئی ہندوستانی صنعتوں کو صاف طور پر راحت ملنے کی امید ہے لیکن ساتھ ہی کچھ مسلسل اور ضروری سوال بھی ابھی باقی ہیں جن کے جواب بھارت کے وزیر تجارت پیوش گوئل کو دینے ہیں جو انہوں نے پریس بیان کے باوجود نہیں دیے ہیں۔سوشل میڈیا کے ذریعے شروعاتی اعلان بھلے ہی وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انداز کے مطابق تھا لیکن بھارت کے وزیراعظم کے لئے ایک نیا قدم بھی ہے ۔پچھلے تمام تجارتی معاہدوں کے اعلان زیادہ تر ٹی وی چینلوں کی معرفت ہوا کرتے تھے ۔ہندوستانی سامان کی برآمدات پر امریکی موجودہ ٹیرف کو 50 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کرنے کا اعلان یقینی طور پر قابل خیر مقدم ہے ۔اس کٹوتی کو عمل میں لائے جانے کے وقت کو لے کر ابھی تصویریں صاف نہیں ہوئی ہیں ۔کب یہ فیصلہ لاگو ہونا ہے ۔جہاں تک ٹرمپ نے کٹوتی کو فوراً نافذ کرنے کی بات کہی ہے وہیں بھارت کے وزیر تجارت پیوش گوئل نےکہا ٹریڈ ڈیل کی تفصیلات جلد ہی دیش کو شیئر کی جائیں گی۔اس بات کو لے کر ابھی معاملات شش وپنج میں ہیں ۔یہ ایک باہمی ٹریڈ معاہدے کی پہلی قسط یا منی ڈیل ہے یا صرف ٹیرف کو متاثر کرنے والاایک محدود معاہدہ یا پھر ان دونوں ملکوں کے درمیان کچھ اور ہے ۔مودی کے روس سے تیل خریدنا بند کرنے کے لئے راضی ہونے سے متعلق ٹرمپ کے ایک دعوے پر بھی حکومت ہند کو جلد سے جلد جواب دینا چاہیے ۔کیوں کہ وزیر تجارت پیوش گوئل نے اس بارے میں میڈیا کے سامنے کوئی بات نہیں رکھی ہے ۔روس کے تیل کو پوری طرح بند کرنے سے نہ صرف بھارت کو اپنے تیل درآمدات کا تقریباً 1 تہائی حصے کے لئے دوسرے متبادل ڈھونڈنے ہوں گے بلکہ روس کے ساتھ اس کے رشتوں پر بھی اثر پڑے گا اگر وہ تیل خریدنا بند کرتا ہے ۔روس ہمارا بہت پرانا دوست ہے اور ہم اس کی دفاعی ساز وسامان کی خریداری کا ایک اہم سپلائر ہیں ۔اگر روس سے سامان یا تیل خریدنا بند کرتے ہیں تو یہ قدم بھارت کے لئے ایک بہت بڑی تبدیلی کا اشارہ دے گا اور اس لئے اس مسلے پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے جہاں اس ڈیل کے بارے میں صحیح تصویر رکھی جائے ۔اس طرح بینزویلا سے زیادہ تیل کی خریداری کی بھی اپنی ریفائننگ متعلق چیلنج بھی ہے ۔

امریکی صدر کی جانب سے بھارت پر لگائے گئے ٹیرف کو گھٹانا اور اس کا ہندوستانی وزیراعظم کی جانب سے خیر مقدم کیے جانے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ آخر کار ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ بھارت ان کے نامناسب دباؤ میں آنے والانہیں ہے لیکن ٹرمپ نے بھارت کو دباؤ میں لینے کے لئے ہر ہتھکنڈے اپنائے لیکن وہ اس میں ناکام رہے ہیں اس لئے بھارت نے امریکہ سے الجھنے کے بجائے صبر اور عزم کا ثبوت دیا ہے بھارت سے منگائے جانے والے سامان پر 18 فیصد لگانے سے امریکہ میں ہندوستانی سامان سستا ملے گااور وہاں اس کی مانگ بھی بڑھے گی کیوں کہ ہر کوئی شخص سستے مال کی طرف بھاگتا ہے ایسے ہی ٹرمپ کے روسی تیل خریدنے پر جرمانہ کے طور پر 25 فیصد ٹیرف لگایا اور پھر باقی 25 فیصد اس وعدے پر ہٹایا کہ بھارت اب وینزویلا سے تیل خریدے گا اور روسی تیل بند کر دے گا ۔اس اعلان سے پہلے ہندوستانی وزیراعظم کی وینزویلا کے صدر سے بات ہوئی تھی شاید اس کے بعد ہی امریکی ٹریڈ ڈیل پر بگڑی بات بنی ۔اگر بھارت کو مناسب دام پر وینزویلا سے تیل ملتا ہے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے ۔آخر وہ پہلے بھی اس کے ساتھ ساتھ ایران سے تیل خریدتا رہا ہے ۔بھارت کےلئے یہ ممکن نہیں کہ وہ روس سے تیل خریدکا متبادل ملے بغیر اس سے تیل لینا بند کردے۔

 دیکھنا یہ ہے کہ بھارت کو اتنا تیل وینزویلا سے مل پائے گا یا نہیں جتنا وہ روس سے لیتا تھا؟ اس کے ساتھ یہ بھی سوال بنا ہوا ہے کیا بھارت کو امریکی چیزوں پر ٹیرف زیرو کرنا ہوگا ؟ کیا امریکہ سے 500 ارب ڈالر کی خریداری کرنی ہوگی ۔ دراصل یہ کئی سوال سامنے آئیں گے اب ٹریڈ ڈدیل پر جب دستخط ہوں گے ، لیکن اتنا تو طے ہے امریکہ سے تجارت کا جو دروازہ بند ہوگیا تھا وہ کھل جائے گا ۔بھارت کی تیز ترقی کا راستہ بھی ہموار ہو گیا ہے اس سے دیش میں کاروبار میں جو مندی دیکھنے کو مل رہی ہے اس میں رونق بڑھے گی اور مال کی کھپت ہوگی ۔ایسے ہی شیئر مارکیٹ نے بھی اس کے اشارے دینے شروع کر دئیے ہیں کیوں کہ ٹریڈ ڈیل کے اعلان کے فوراً بعد شیئر مارکیٹ میں تیزی سے اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے اور آج شیئر مارکیٹ اپ ڈاؤن ہورہی ہے۔ لیکن ٹریڈ ڈیل پر جب فائنل دستخط ہونے ہیں اس میں دیری نہیں ہونی چاہیے کیوں کہ پہلا تجربہ امریکہ کی طرف سے ڈیل پر کبھی ہاں کبھی ناکا رویہ رہا ہے ۔ اس لئے اب دونوں میں ڈیل ہونے کا اعلان ہوگیا ہے اس لئے اب اس پر دونوں ملکوں کے افسران معاہدے پر عمل کے لئے آگے بڑھیں گے۔ ایسی امید بھارتیوں کو ہے۔دونوں دیشوں کے بیچ ہوئے ٹریڈ معاہدے کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں ۔


Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

لنگی میں

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

عبدالعلیم کے متبنیٰ کی کہانی جو رشتوں کے لیے امتحان بن گئی !

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟