ہندوستان کی قابلِ تجدید توانائی: امکانات اور چیلنجز
ظفراقبال
اکیسویں صدی میں توانائی انسانی تہذیب، معاشی ترقی اور سماجی بہبود کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے ۔ کسی بھی ملک کی مجموعی ترقی کا انحصار اس کی توانائی پیدا کرنے ، تقسیم کرنے اور منصفانہ استعمال کی صلاحیت پر ہوتا ہے ۔ صنعتی انقلاب کے بعد دنیا بھر میں توانائی کی مانگ میں بے مثال اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں روایتی توانائی کے ذرائع مثلاً کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس پر حد سے زیادہ انحصار کیا گیا۔ ان ذرائع نے اگرچہ صنعتی ترقی اور معاشی خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی، عالمی حدت، موسمیاتی تبدیلی، صحت کے سنگین مسائل اور قدرتی وسائل کی تیزی سے کمی جیسے خطرناک نتائج بھی سامنے آئے ۔
ہندوستان، جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک ہے ، توانائی کے ان عالمی چیلنجز سے براہِ راست متاثر ہے ۔ بڑھتی ہوئی آبادی، تیز رفتار شہری کاری، صنعتوں کی توسیع، جدید ٹیکنالوجی کا فروغ اور بہتر معیارِ زندگی کی خواہش نے توانائی کی طلب کو کئی گنا بڑھا دیا ہے ۔ ایسے حالات میں قابلِ تجدید توانائی ایک پائیدار، ماحول دوست اور طویل المدت حل کے طور پر سامنے آتی ہے ۔ قابلِ تجدید توانائی نہ صرف ماحول کو آلودگی سے بچاتی ہے بلکہ توانائی میں خود کفالت، معاشی استحکام، روزگار کے مواقع اور سماجی ترقی کے نئے دروازے بھی کھولتی ہے ۔
قابلِ تجدید توانائی سے مراد وہ توانائی ہے جو قدرتی ذرائع سے حاصل کی جاتی ہے اور جو مسلسل یا قلیل مدت میں دوبارہ پیدا ہو جاتی ہے ۔ ان ذرائع میں سورج کی روشنی، ہوا کی طاقت، پانی کا بہاؤ، حیاتیاتی مادّہ اور زمین کے اندر موجود حرارت شامل ہیں۔ ان تمام ذرائع کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے استعمال سے قدرتی وسائل ختم نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ ماحول میں زہریلی گیسوں کا اخراج کرتے ہیں۔
قابلِ تجدید توانائی کی نمایاں خصوصیات میں پائیداری، ماحول دوستی، کم کاربن اخراج، مقامی سطح پر دستیابی، توانائی میں خود کفالت اور طویل المدت معاشی فائدہ شامل ہیں۔ اگرچہ ابتدائی مرحلے میں ان منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری نسبتاً زیادہ ہو سکتی ہے ، مگر طویل مدت میں یہ توانائی نہ صرف سستی ثابت ہوتی ہے بلکہ صحت، ماحول اور قدرتی وسائل کے تحفظ سے متعلق اخراجات میں بھی نمایاں کمی لاتی ہے ۔
ہندوستان اس وقت دنیا کے بڑے توانائی صارفین میں شمار ہوتا ہے ۔ ملک کی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ طویل عرصے تک کوئلے سے پورا کیا جاتا رہا ہے ، خاص طور پر بجلی کی پیداوار کے شعبے میں۔ کوئلہ اگرچہ سستا اور آسانی سے دستیاب ذریعہ سمجھا جاتا ہے ، مگر اس کے استعمال کے نتیجے میں فضائی آلودگی، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج اور انسانی صحت کو شدید خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ کئی بڑے ہندوستانی شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہو چکے ہیں، جہاں سانس کی بیماریاں، دل کے امراض اور دیگر صحت کے مسائل عام ہیں۔
گزشتہ دو دہائیوں میں حکومتِ ہند نے توانائی کے شعبے میں تنوع پیدا کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔ قابلِ تجدید توانائی کو قومی ترقی کی ترجیح قرار دیا گیا ہے اور شمسی، ہوائی، آبی اور بایوماس توانائی کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی ہے ۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ہندوستان آج قابلِ تجدید توانائی پیدا کرنے والے سرِفہرست ممالک میں شامل ہو چکا ہے ۔
شمسی توانائی ہندوستان کے لیے سب سے زیادہ موزوں اور امید افزا قابلِ تجدید ذریعہ ہے ۔ جغرافیائی اعتبار سے ہندوستان خطِ استوا کے قریب واقع ہے ، جہاں سال کے بیشتر دن سورج کی روشنی وافر مقدار میں دستیاب رہتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شمسی توانائی ہندوستان کی توانائی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بنتی جا رہی ہے ۔
شمسی توانائی بنیادی طور پر دو طریقوں سے استعمال کی جاتی ہے ۔ پہلا طریقہ فوٹو وولٹائک ٹیکنالوجی ہے ، جس میں سولر پینلز سورج کی روشنی کو براہِ راست بجلی میں تبدیل کرتے ہیں۔ دوسرا طریقہ شمسی حرارتی نظام ہے ، جس میں سورج کی حرارت کو استعمال کر کے بھاپ پیدا کی جاتی ہے اور اس کے ذریعے ٹربائن چلا کر بجلی حاصل کی جاتی ہے ۔
حکومتِ ہند نے قومی شمسی مشن کے تحت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے متعدد عملی اقدامات کیے ہیں۔ شمسی پارکس کا قیام، چھتوں پر سولر پینلز کی تنصیب، زرعی شمسی پمپ، دیہی شمسی مائیکرو گرڈز اور کم لاگت گھریلو سولر نظام ان اقدامات کی نمایاں مثالیں ہیں۔ ان منصوبوں نے نہ صرف بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا بلکہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں توانائی تک رسائی کو بھی ممکن بنایا۔
شمسی توانائی کے فوائد میں کم آلودگی، خاموش پیداوار، کم دیکھ بھال کے اخراجات اور طویل المدت فائدہ شامل ہیں۔ تاہم زمین کی دستیابی، بجلی کے ذخیرے کا مسئلہ، موسمی انحصار اور ابتدائی سرمایہ کاری جیسے چیلنجز بھی موجود ہیں، جن کے حل کے لیے جدید بیٹری ٹیکنالوجی اور مؤثر پالیسی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
ہندوستان میں ہوائی توانائی کی صلاحیت بھی غیر معمولی ہے ۔ ساحلی علاقوں، پہاڑی خطوں اور کھلے میدانوں میں تیز اور مسلسل ہوائیں چلتی ہیں، جو بجلی پیدا کرنے کے لیے نہایت موزوں ہیں۔ کئی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر ہوائی توانائی کے منصوبے کامیابی سے چل رہے ہیں۔
ہوائی توانائی کے منصوبوں نے نہ صرف بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ دیا ہے ۔ ٹربائنز کی تیاری، تنصیب، دیکھ بھال اور متعلقہ خدمات کے ذریعے ہزاروں افراد کو روزگار ملا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ آف شور ونڈ انرجی مستقبل میں ہندوستان کے لیے ایک نیا اور وسیع میدان فراہم کر سکتی ہے ۔
تاہم ہوائی توانائی کا انحصار موسمی حالات پر ہوتا ہے ، جس کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں تسلسل برقرار رکھنا ایک چیلنج بن جاتا ہے ۔ زمین کے استعمال، شور اور بصری اثرات جیسے مسائل بھی پالیسی سازوں کی توجہ چاہتے ہیں۔
آبی توانائی ہندوستان میں بجلی پیدا کرنے کا ایک قدیم اور معتبر ذریعہ ہے ۔ بڑے ڈیمز کے علاوہ چھوٹے اور مائیکرو ہائیڈرو منصوبے بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں، جو پہاڑی اور دیہی علاقوں میں توانائی کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
آبی توانائی قابلِ اعتماد اور کم کاربن اخراج والی ہے ، مگر بڑے ڈیمز ماحولیاتی تبدیلی، جنگلات کی کٹائی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور مقامی آبادی کی نقل مکانی جیسے مسائل کو جنم دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے جدید دور میں چھوٹے پیمانے کے آبی منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے ۔
ہندوستان ایک زرعی ملک ہے ، جہاں فصلوں کی باقیات، جانوروں کا فضلہ اور شہری کچرا بڑی مقدار میں دستیاب ہے ۔ ان وسائل کو توانائی میں تبدیل کر کے بایو گیس، بایو ایندھن اور بجلی حاصل کی جا سکتی ہے ۔
بایوماس توانائی دیہی علاقوں میں صاف اور سستا ایندھن فراہم کرتی ہے ، جس سے لکڑی پر انحصار کم ہوتا ہے اور خواتین و بچوں کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی فضلے کے مؤثر استعمال سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی آتی ہے ۔
حکومتِ ہند نے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے ایک جامع پالیسی فریم ورک تشکیل دیا ہے ۔ وزارتِ قابلِ تجدید توانائی کا قیام، مالی مراعات، سبسڈیز، شفاف نیلامی نظام اور نجی شعبے کی شمولیت اس فریم ورک کے اہم اجزا ہیں۔
ہندوستان عالمی سطح پر بھی قابلِ تجدید توانائی کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور مہارت کو فروغ دے رہا ہے ۔
قابلِ تجدید توانائی نے ہندوستان میں لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی سے تعلیم، صحت، زرعی پیداوار اور چھوٹے کاروباروں کو فروغ ملا ہے ، جس سے مجموعی معیارِ زندگی بہتر ہوا ہے ۔
اگرچہ ہندوستان نے قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے ، مگر توانائی ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت، گرڈ میں انضمام، مالی وسائل کی کمی اور پالیسی میں تسلسل جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے طویل المدت منصوبہ بندی، تحقیق اور عوامی و نجی شعبے کے اشتراک کی ضرورت ہے ۔
بیٹری اسٹوریج، سبز ہائیڈروجن، اسمارٹ گرڈز اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی قابلِ تجدید توانائی کے مستقبل کو مزید مستحکم بنا سکتی ہیں۔ اگر ہندوستان ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور تحقیق کو جاری رکھے تو وہ توانائی کے میدان میں خود کفالت حاصل کر سکتا ہے ۔
قابلِ تجدید توانائی ہندوستان کے لیے ایک پائیدار، ماحول دوست اور خود کفیل مستقبل کی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے ۔ مناسب پالیسی سازی، عوامی شعور، تکنیکی جدت اور مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے یہ شعبہ نہ صرف توانائی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ معاشی ترقی، سماجی بہتری اور ماحولیاتی تحفظ کا ضامن بھی بن سکتا ہے ۔ یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ قابلِ تجدید توانائی ہی ہندوستان کے روشن، محفوظ اور خوشحال مستقبل کی کنجی ہے ۔

Comments
Post a Comment