ہندوستان کا اگلا بجٹ: اصلاحات میں تیزی یا طویل مدتی اشارے ؟
جینت رائے چودھری
جب وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اتوار کو پارلیمنٹ میں ہندوستان کا مالیاتی بجٹ 27-2026 پیش کرنے کے لیے کھڑی ہوں گی، تو ان کی تقریر ایک انتہائی نازک موڑ پر سامنے آئے گی۔ عالمی سطح پر جاری منفی حالات کے پیش نظر، انہیں ہندوستان کی ترقی کی کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے 'اسمارٹ' اصلاحات میں تیزی لانے کی ضرورت ہوگی۔ تاہم، بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں کا مطلب یہ ہے کہ سیتا رمن کو ملک کے مسلسل بڑھتے ہوئے اخراجات کو کنٹرول کرنے (بجٹ کے استحکام) کا ارادہ بھی ظاہر کرنا ہوگا۔سیاسی طور پر، اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا یہ شاید بہترین وقت ہے ۔ این ڈی اے (این ڈی اے ) حکومت کو پارلیمانی انتخابات کے ذریعے دوبارہ اقتدار میں آئے دو سال ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ان دو ریاستوں، مغربی بنگال اور تمل ناڈو، جہاں بی جے پی کی انتخابی مشینری تاحال کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہے ، وہاں کے آئندہ انتخابات کے پیش نظر عوامی مقبولیت برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ، لیکن اصلاحات کے ساتھ خطرہ مول لینے کا بھی یہی بہترین وقت ہے ، کیونکہ اگلے عام انتخابات میں ابھی تین سال باقی ہیں۔اصلاحات میں تیزی اس لیے بھی ناگزیر ہے کیونکہ 'نارتھ بلاک' کے اعلیٰ حکام ملک کی جی ڈی پی کی ترقی کو متوقع 6.8 اور 7.2 فیصد تک لے جانا چاہتے ہیں، باوجود اس کے کہ عالمی معیشت اب بھی تجارتی تحفظ پسندی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی زد میں ہے ۔ ہندوستان کی اشیاء اور خدمات کی برآمدات، جو جی ڈی پی کا پانچواں حصہ ہیں، خطرے میں رہیں گی، چاہے ملک کتنے ہی آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے ) پر دستخط کیوں نہ کر لے ۔ تاہم، ترقی کی اس کہانی کے لیے مالی وسائل جمع کرنے کی خاطر ہندوستان کو ان سرمایہ کاروں اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی توجہ حاصل کرنی ہوگی جو طویل مدتی نتائج پر نظر رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کووڈ کے سالوں کے دوران اپنی استطاعت سے کہیں زیادہ اخراجات کرنے کے بعد، اب ہندوستان کو مالیاتی استحکام کے ایک ناگزیر دور کی جانب 'چھوٹے اقدامات' کو مزید تقویت دینے کی ضرورت ہے تاکہ آہستہ مگر مستقل طور پر بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں کو روکا جا سکے ، جو اب ہندوستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 56 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔اخراجات کی اس مہم کا مرکزہندوستان کی سڑکیں، ریلوے ، بندرگاہیں اور ہوائی اڈے جیسے بنیادی ڈھانچے رہے ہیں۔ گزشتہ بارہ برسوں میں، مرکزی بجٹ نے سرمائے کے اخراجات میں اضافے پر بہت زیادہ بھروسہ کیا ہے ، جسے 2014-15 میں جی ڈی پی کے صرف 1.6 فیصد سے بڑھا کر 2025-26 کے بجٹ میں 3.1 فیصد کر دیا گیا تھا۔تو کیا ہندوستان اب اپنے سرمائے کے اخراجات میں کٹوتی کرے گا؟ اس کا امکان کم ہے ۔ ' سڑک، بجلی، پانی' ہمیشہ سے ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ رہے ہیں اور ان کی توسیع و بہتری کی کوششیں جاری رہیں گی، لیکن کچھ شرائط اور شاید نجی شعبے کی زیادہ شرکت کے ساتھ، تاکہ مرکز کے مالیاتی وسائل پر حد سے زیادہ بوجھ نہ پڑے ۔مالیاتی پالیسی کا محور ممکنہ طور پر قرض اور جی ڈی پی کے تناسب کو کم کرنے کا ایک قابلِ بھروسہ روڈ میپ ہوگا، جس میں آنے والے مالی سال کے لیے خسارے کا ہدف تقریباً 4.2 فیصد اور اس سے اگلے سال 4 فیصد یا اس سے کم رکھا جائے گا، جبکہ انفراسٹرکچر، لاجسٹکس اور مینوفیکچرنگ میں عوامی سرمائے کے اخراجات کا سلسلہ برقرار رہے گا۔اصلاحات ان بڑی اور ہمہ گیر تبدیلیوں کے بجائے جو منموہن سنگھ، یشونت سنہا، پی چدمبرم یا ارون جیٹلی لائے تھے ، زیادہ 'اسمارٹ' نوعیت کی ہوں گی۔ میکرو سطح پر، انکم ٹیکس سلیبس میں صرف معمولی تبدیلیوں کی توقع ہے ، جس میں ٹیکس کی تعمیل کو سادہ بنانے اور شاید شادی شدہ جوڑوں کے لیے مشترکہ ٹیکسیشن متعارف کرانے پر زیادہ زور دیا جائے گا، اگرچہ اس پر تنقید بھی کی جا رہی ہے ۔صنعت کی جانب سے اس وقت ' ٹیکس ڈیڈکٹڈ ایٹ سورس' کے پھیلے ہوئے نظام کو سادہ بنانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ درجنوں شرحوں کو، جو الجھن کا باعث بنتی ہیں، صرف تین یا چار وسیع زمروں میں ضم کرنا اور 'بزنس ٹو بزنس' ادائیگیوں کو استثنیٰ دینا (جو پہلے ہی جی ایس ٹی کے دائرے میں ہیں) ممکنہ طور پر ان فرموں کے لیے تعمیل کے اخراجات کو کم کر دے گا جو ٹیکس کے دوہرے نظام کے جال کی شکایت کرتی ہیں۔چھوٹے کاروبار، جنہیں طویل عرصے سے ''معیشت کی ریڑھ کی ہڈی'' کہا جاتا ہے ، انہیں ضابطوں میں نرمی کے دوسرے مرحلے ، برآمدی کریڈٹ تک بہتر رسائی اور 'پریزمپٹیو ٹیکسیشن' اسکیموں کے تحت معمولی ٹیکس ریلیف کے ذریعے ٹارگٹڈ مراعات مل سکتی ہیں، جس سے انہیں کم پریشانیوں کے ساتھ ترقی کرنے میں مدد ملے گی۔تاہم، بجٹ 2026 کی نمایاں خصوصیت نئی ٹیکنالوجیز اور گرین گروتھ (ماحول دوست ترقی) کی طرف اس کا مضبوط جھکاؤ ہونے کی توقع ہے ۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی )، روبوٹکس، ڈیٹا سینٹرز اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کے لیے مخصوص ٹیکس مراعات دی جا سکتی ہیں۔ہندوستان کو ایک عالمی ڈیجیٹل اور جدت طرازی کے مرکز کے طور پر خود کو منوانے کی ضرورت ہے ۔ سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور فن ٹیک جیسے جدید شعبوں میں سرمایہ کاری کرنا ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے کا 'منتر' ثابت ہو سکتا ہے ۔گرین ٹیکنالوجی پہلے ہی ایک بڑے ستون کے طور پر ابھری ہے ۔ قابلِ تجدید توانائی، بیٹری اسٹوریج سسٹم، گرین ہائیڈروجن اور گرڈ کی جدید کاری کے لیے زیادہ بجٹ مختص کرنا اور ٹیکس چھوٹ دینا 2030 تک 500 گیگا واٹ کی غیررکازی توانائی کی صلاحیت کے ہندوستان کے ہدف میں معاون ثابت ہوگا۔ ماحولیات دوست زراعت ، الیکٹرک وہیکل (ای وی ) مینوفیکچرنگ، بیٹریوں کی مقامی سطح پر تیاری اور کلین موبلٹی انفراسٹرکچر کو پالیسی اور مالیاتی تعاون ملتے رہنے کی توقع ہے ۔روزگار ہمیشہ سے بجٹ کا سب سے زیادہ سیاسی طور پر حساس موضوع رہا ہے ۔ حالیہ برسوں میں اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ صنعتی فرسودگی اورمصنوعی ذہانت (اے آئی ) ''ملازمتوں کے بحران'' کا باعث بن سکتے ہیں۔ حکومت برسوں سے چار جامع لیبر کوڈز (لیبر قوانین) نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے جن کا مقصد تمام ریاستوں میں اجرتوں، صنعتی تعلقات اور سماجی تحفظ میں مطابقت پیداکرنا ہے ۔ ان کا نفاذ، خاص طور پر وہ ضابطہ جو بنیادی تنخواہ کو کل اجرت کا کم از کم 50 فیصد قرار دیتا ہے ، رسمی شعبے کے تحفظات کو وسعت دے گا اور وقت کے ساتھ ساتھ لاکھوں ملازمتیں پیدا کر سکتا ہے ۔سماجی شعبے کے محاذ پر، توقع ہے کہ بجٹ غیر رسمی اور شہری کارکنوں کے لیے فلاحی اسکیموں کو مزید وسعت دے گا۔ 'آیوشمان بھارت' کے تحت ہیلتھ انشورنس کا دائرہ کار 'گگ ورکرز' تک بڑھانا، پہلی بار کاروبار شروع کرنے والوں، بالخصوص خواتین اور پسماندہ طبقات کے لیے رعایتی قرضوں میں اضافہ کرنا، اور چھوٹی فرموں کے لیے کم حد والے کریڈٹ کارڈز جاری کرنا سماجی تحفظ کے دائرے کو مضبوط بنا سکتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ''ڈیجیٹل لت'' یا ڈیجیٹل ایڈکشن اور موٹاپے سے پیدا ہونے والے نئے طبی چیلنجوں سے بھی نمٹنے کی ضرورت ہوگی۔گزشتہ برس پاکستان کے ساتھ ہوئے نئے تصادم ، قوانین پر مبنی عالمی نظام کی ٹوٹ پھوٹ اور پڑوس میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے پیش نظر، دفاعی اخراجات میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہوگا۔ خاص طور پر اس لیے کہ ہندوستان کے جرنیلوں اور ایڈمرلز کی خواہشات کی فہرست طویل ہے اور اسلحہ کی عالمی منڈی اب دفاعی صنعتی کمپلیکس میں سرمایہ کاری کے ذریعے ہندوستان میں داخل ہونا چاہتی ہے ۔مجموعی طور پر، 2026-27 کے بجٹ کا لہجہ اور متن انقلابی تبدیلیوں کے بجائے بتدریج بہتری والا، مالیاتی طور پر محتاط مگر سرمایہ کاری پر مبنی ہونے کا امکان ہے ۔ آنے والا بجٹ ہندوستان کے روزگار، عدم مساوات اور پیداواری صلاحیت کے ساختی چیلنجوں کو مکمل طورپر حل تو نہیں کرے گا، لیکن ان کے حل کی جانب ایک قدم ضرور ہوگا۔
Comments
Post a Comment