بھارت کا بدلتا سیاسی منظر نامہ
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
ترقی کے وعدے پر سوار ہو کر اقتدار میں آئی بی جے نے مستقل ووٹ بنک بنانے کے منصوبہ پر عمل کیا ۔ تاکہ لمبے وقت تک وہ حکومت میں رہ کر سنگھ کے منصوبہ پر عمل کر سکے ۔ اس کے لئے اپوزیشن کو کمزور اور ان کی منتخب ریاستی سرکاروں پر قبضہ کیا گیا ۔ دوسری طرف ہندو مسلمانوں کے درمیان تفریق، نفرت پیدا کی گئی اور اکثریت پسندی کو فروغ دیا گیا ۔ برسراقتدار جماعت کی یہ منشاء نیچے سے اوپر تک تمام سرکاری ایجنسیوں اور آئینی اداروں کو معلوم ہو گئی ۔ اتر پردیش ہائی کورٹ کے جج نے تو اسٹیج سے اس کا اظہار بھی کر دیا کہ ملک آئین سے نہیں اکثریت کی مرضی سے چلے گا ۔ اس کا نتیجہ ہے کہ پولس، انتظامیہ کی موجودگی میں ہجومی تشدد، مسجد، درگاہ اور قبرستانوں پر حملے کے واقعات ہوئے اور وہ تماشائی بنے رہے ۔ انتظامیہ نے شر پسندوں کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے الٹے متاثرین پر ہی مقدمات قائم کئے اور ان کے گھروں پر بلڈوزر چلائے ۔ حکومت کے رویہ اور آئینی عہدوں پر فائز وزراء، وزیر اعلیٰ یہاں تک کہ وزیر داخلہ، وزیر اعظم کے نفرتی بیانوں سے شر پسندوں کو اور تقویت ملی ان کی ہمت اتنی بڑھ گئی کہ مسجد، مقبرہ پر بھگوا لہرانا اور مسجد کے سامنے ہنومان چالیسہ پڑھنا عام ہو گیا ۔ اگر کچھ مجرموں کو مجبوری میں جیل بھیجا بھی گیا تو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ۔ باہر آنے پر ہار، پھول، مالا پہنا کر ان کا استقبال کیا گیا ۔ نفرتی زبان استعمال کرنے والے ممبران اسمبلی و پارلیمنٹ کو ترقی دے کر وزیر بنا دیا گیا ۔ یہ سب کچھ ہندو آبادی کو خوش کرنے، منھ بھرائی کرنے کے لئے کیا گیا تاکہ بی جے پی کا مستقل ووٹ بنک بن جائے ۔ اپوزیشن اس سب کے ساتھ بی جے پی پر ووٹ چوری، لالچ اور نقد پیسے بانٹ کر اقتدار میں بنے رہنے کا الزام لگاتی ہے ۔
رام مندر کا افتتاح، دھرم سنسد میں مسلمانوں کے قتل عام کے نعرے اور ووٹ پولرائز کرنے کے تمام ہتھکنڈے اپنانے کے باوجود بی جے پی 2024 کے پارلیمانی الیکشن میں اکثریت حاصل نہیں کر پائی ۔ اسے ٹی ڈی پی، جے ڈی یو کی مدد سے حکومت بنانی پڑی ۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کے بعد مسلمان، عیسائی، آدی واسی، دلت اور کمزور طبقات کے خلاف یلغار شروع ہو گئی ہے ۔ کرسمس پر بڑے پیمانے پر کلیساؤں پر حملے ہوئے ۔ اجیت ڈوبھال نے بدلا لینے کا بیان دیا، آدی واسیوں کو جنگل سے بے دخل کرنے کی مسلسل کوشش ہو رہی ہے ۔ من ریگا ختم کر کمزوروں اور دلتوں کو روزی روٹی سے محروم کرنے کا منصوبہ ہے ۔ شمال مشرق کی ریاستوں کے خلاف پہلے سے ہی دوہرا رویہ اپنایا جا رہا ہے ۔ دہرادون میں تریپورہ کے اینجل چکما کو پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا تو وہیں مسوری میں بھلے شاہ کے مزار کو اکھاڑ دیا گیا ۔ مسلمانوں، مسجدوں اور مزار، مقبروں پر حملے تیز ہوئے ہیں ۔ غازی آباد میں تلواریں بانٹی گئیں تو اتراکھنڈ میں مسلمانوں کے قتل عام کا اعلان ہوا ۔ سب سے بڑھ کر ایس آئی آر میں انہیں طبقات کے بڑی تعداد میں ووٹ کاٹے گئے ۔ اپوزیشن جماعتیں بیان بازی یا محدود دائرہ میں مخالفت کرتی ہیں ۔ ان تمام سوالوں پر مشترق، متحد تحریک نہیں چلاتیں ۔ مسلمانوں کے معاملہ میں تو کھل کر بات کرنے تک سے بچتی ہیں ۔ انہیں ہمیشہ یہ ڈر ستاتا ہے کہ مسلمانوں کی بات کرنے سے ان کے غیر مسلم ووٹ ناراض نہ ہو جائیں ۔ اسٹیج شیئر کرنے سے بھی پرہیز کیا جاتا ہے ۔ مگر مسلم ووٹوں پر یہ اپنا پہلا حق سمجھتے ہیں ۔ مسلم ایشوز پر سول سوسائٹی کے افراد اور سیکولر غیر مسلم بھی اب خاموشی اختیار کرنے لگے ہیں ۔
اس صورتحال نے مسلمانوں کو مایوس کیا ہے ۔ وہ یہ سوچنے کے لئے مجبور ہیں کہ دو، تین، پانچ فیصد آبادی والے طبقات اپنی پارٹی بنا کر مین اسٹریم سیاست میں شریک ہیں ۔ لیکن مسلمانوں نے ہمیشہ غیر مسلموں کو اپنا لیڈر مانا ۔ اپنی پارٹی میں کبھی یقین نہیں دکھایا ۔ مگر اب ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی پارٹی اور اپنے نیتا کے بارے میں سوچنے لگے ہیں ۔ اسدالدین اویسی میں انہیں امید نظر آرہی ہے، ان کی باتیں نوجوان نسل کو متاثر کر رہی ہیں ۔ اس کی وجہ سے اے آئی ایم آئی ایم کا کاڈر کھڑا ہو رہا ہے جس میں غیر مسلم بھی شامل ہیں ۔ اس وقت بی جے پی کے بعد کسی اپوزیشن پارٹی کے پاس کاڈر ہے تو وہ مجلس اتحاد المسلمین ہے ۔ مہاراشٹر کارپوریشن انتخابات کے نتائج اس کا ثبوت ہیں ۔ وہاں بڑی تعداد میں مسلمانوں نے اپوزیشن پارٹیوں کے بجائے اویسی میں اپنا بھروسہ دکھایا ۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ جمہوریت کے لئے اچھا اشارہ نہیں ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ مسلم پولرائزیشن سے بی جے پی آر ایس ایس کو ہندو ووٹوں کو اکٹھا کرنے میں مدد ملے گی ۔ سوال یہ ہے کہ مسلمان کریں تو کیا کریں؟ انہیں، عیسائیوں اور کمزور طبقات کو سافٹ ٹارگیٹ سمجھا جا رہا ہے اور ان کے ووٹوں پر سیاست کرنے والے تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ دھیرے دھیرے ملک کا سیاسی منظر نامہ بدل رہا ہے ۔
بہار میں مجلس نے پانچ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی اور تین سیٹیں بہت کم مارجن سے اپوزیشن کی وجہ سے ہار گئی ۔ کئی سیٹوں پر وہ دوسرے نمبر پر رہی اور کم از کم چار سیٹوں پر تیسرے نمبر پر ۔ مہا گٹھ بندھن نے انہیں اپنے اتحاد میں شامل نہیں کیا ۔ ان کے بجائے مکیش ساہنی گٹھ بندھن کا حصہ بنے ۔ اگر بہار میں مجلس اتحاد میں شامل ہوتی تو اپوزیشن بہتر حالت میں ہوتی ۔ مہا راشٹر میں اویسی نے اسی فارمولے پر عمل کیا جو مسلم اکثریتی علاقوں میں بی جے پی اپناتی رہی ہے ۔ یعنی مسلم ووٹ بنٹ جائیں اور ہندو ووٹ ایک جگہ پڑ جائیں ۔ مہاراشٹر میں ہندو ووٹ بنٹ گئے اور مسلم ووٹ ایک جگہ پڑے ۔ اس کی وجہ سے اے آئی ایم آئی ایم 125 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو گئی ۔ اپوزیشن پارٹیاں اور خود مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اویسی کو بی جے پی کی بی ٹیم یا ووٹ کٹوا پارٹی مانتا ہے ۔ شروع میں کانشی رام پر بھی اسی طرح کے الزامات لگتے تھے ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہر نئی پارٹی جو وجود میں آتی ہے اور اس کی عوام میں پکڑ مضبوط ہونے لگتی ہے تو اس پر اسی طرح کے الزامات لگنے لگتے ہیں ۔ اگر پارٹی مستقل کام کرتی رہتی ہے اور اس میں قوت برداشت ہوتی ہے تو ایک دن وہ اپنی جگہ بنا لیتی ہے ۔
مغربی بنگال، آسام، کیرالہ پھر اترپردیش میں اویسی اپوزیشن کے لئے چیلنج بنیں گے ۔ بنگال میں مسلمان قریب تیس فیصد ہیں اور ممتا بنرجی کے کور ووٹر سمجھے جاتے ہیں ۔ لیکن ممتا نے ان کی پندرہ سالوں میں ان کی بھلائی کے لئے کوئی کام نہیں کیا ۔ وہ ایکلا چلو کی پالیسی عمل کرتی ہیں ۔ بنگال میں ممتا بی جے پی کی مخالفت کرتی ہیں لیکن قومی سطح پر وہاپوزیشن کے ساتھ کھڑی دکھائی نہیں دیتیں ۔ انہیں بنگال میں کانگریس کے ساتھ بھی اتحاد منظور نہیں ایسے میں اویسی کو ساتھ لینے کا تو سوال ہی نہیں ۔ اسی لئے ایسا لگ رہا ہے کہ اگر اویسی نے بنگال میں پوری طاقت سے الیکشن لڑا توممکن ہے اس بار ممتا کو ہار کا سامنا کرنا پڑے ۔ آسام میں مسلمان قریب 34 فیصد ہیں وہاں بدرالدین اجمل کی پارٹی میدان میں ہے ۔ اگر اویسی نے بدرالدین اجمل کے ساتھ مل کر چناؤ لڑا تو کانگریس کے لئے مشکل پیدا ہوگی ۔ کیرالہ میں عیسائی آبادی سب سے بڑی ہے اس کے بعد مسلمانوں کا نمبر آتا ہے ۔ اگر اویسی عیسائیوں کو اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں تو وہاں کانگریس اور مسلم لیگ دونوں کے لئے مشکل پیدا ہوگی ۔ اترپردیش میں کوئی مسلم پارٹی نہیں ہے، مایا وتی کی سیاست ختم ہو چکی ہے یہاں اگر وہ دلت اور کچھ کمزور طبقات کو اپنے ساتھ لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو سماجوادی پارٹی حاشیہ پر چلی جائے گی ۔
دراصل عیسائی، دلت، آدی واسی اور کمزور طبقات مسلمانوں کا ساتھ چاہتے ہیں ۔ لیکن اگر ان کے سامنے مسلمان کوئی کامیاب نعم البدل پیش کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ مسلمانوں کے ساتھ آ جائیں گے ۔ مہاراشٹر کے تجربہ سے اس بات کی امید بندھی ہے کہ تمام دبے کچلے، حاشیہ پر دھکیلے گئے طبقات اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے مل کر سیاسی جدوجہد کریں ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ سیکولر تانے بانے اور جمہوریت کو بچانے میں نہ صرف اہم قدم ہوگا بلکہ یہ فرقہ وارانہ سیاست کا بھی جواب ہوگا ۔ مہاراشٹر میں اویسی کو مقامی سطح پر مضبوط لیڈرشپ نے یہ کامیابی دلائی ہے ۔ اگر دوسری ریاستوں کے مسلمان بھی اپنی مقامی لیڈر شپ تیار کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو دوسرے طبقات بھی ان کے ساتھ آ جائیں گے ۔ ملک کے بدلتے منظرنامہ نے کمزور طبقات کے نئے سیاسی اتحاد کی گنجائش پیدا کی ہے ۔ بس پہل کرنے کی ضرورت ہے ۔

Comments
Post a Comment