مسلمان دیگر اقلیتوں کے مقابلے میں پسماندہ کیوں ؟

فہیم احمد 

جس طرح کسی انسان کوصحت مند رہنے کےلیے اسکے  جسم کے ہراعضا کا  تندرست وصحت مندہونا ضروری ہے، اسی طرح ملک وسماج کی ترقی  کےلیے  اس کے ہرطبقے کی ترقی وخوشحالی لازمی ہے ۔ دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ ملک ہیں،  انھوں نے  اپنے ہرطبقے کی  یکساں ترقی کو یقینی بنایاہے ۔ تاریخ سے معلوم ہوتاہے کہ سماج میں تقسیم وانتشار ملک کو پیچھے لے جاتے ہیں اور یہی چیز ترقی یافتہ ملک  کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ  ثابت ہوتی ہے ۔

ہندوستان میں دیگر اقلیتوں (جیسے عیسائی، سکھ، جین وغیرہ) کے مقابلے میں مسلمانوں کی پسماندگی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، جو تاریخی، سماجی، معاشی اور سیاسی عوامل پر مبنی ہے۔ یہ پسماندگی تعلیم، روزگار، آمدنی اور سیاسی نمائندگی جیسے شعبوں میں واضح  نظر آتی ہے۔ 

اس تعلق سے اگر تاریخ پرنظر ڈالی  جائے تو1947کی تقسیم ہند کے وقت بہت سے تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر مضبوط مسلمان پاکستان ہجرت کر گئے، جس سے ہندوستان میں باقی رہنے والے مسلمانوں کی اکثریت غریب اور کم پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔ یہی بنیادی وجہ رہی جس نے ابتدائی طور پر مسلمانوں کو دیگر برادریوں سے پیچھے رکھا۔ نوآبادیاتی دور میں بھی مسلمانوں کی سماجی اور معاشی حالت کمزور تھی، جو آزادی کے بعد مزید بڑھ گئی اور اس کے تدارک کے لیے  خاطرخواہ کوششیں بھی نہیں ہوئیں ۔

جین اورعیسائی فرقےتعلیم میں سب سے آگے ہیں۔ جین برادری کی شرح خواندگی ہندوستان میں سب سے زیادہ ہےاور سکھ برادری بھی تعلیم کے لحاظ سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ سچر کمیٹی رپورٹ اور حالیہ سروے کے مطابق مسلمانوں میں اعلیٰ تعلیم کا تناسب دیگر اقلیتوں کے مقابلے میں کم ہے۔ تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم میں ان کی نمائندگی کمزور ہے۔ جین اور سکھ برادریوں کا شمار ہندوستان کے خوشحال ترین طبقات میں ہوتا ہے۔ تجارت اور زراعت میں ان کا بڑا حصہ ہےجبکہ مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت غیر منظم شعبوں یا چھوٹی دستکاریوں سے وابستہ ہے۔ غربت کی شرح مسلمانوں میں دیگر اقلیتوں کے مقابلے میں زیادہ دیکھی گئی ہے اور سرکاری ملازمتوں میں ان کا تناسب ان کی آبادی کے لحاظ سے کافی کم ہے۔ 

اسی طرح سیاسی اعتبار سے اگر دیکھاجائے تو سکھ برادری کی پنجاب میں سیاسی جڑیں مضبوط ہیں اور وفاق میں بھی ان کا اثر نمایاں ہے۔ عیسائی  برادری جنوبی ہند اور شمال مشرقی ریاستوں میں سیاسی طور پر فعال ہے،جبکہ ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت ہونے کے باوجود پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں مسلمانوں کی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب سے مسلسل کم ہو رہی ہے۔ 

 جہاں تک مذہبی شناخت کا معاملہ ہے تو سکھ، جین اور بدھ مت کو اکثر ایسے  مذاہب کے طور پر دیکھا جاتا ہے،  جن کی ابتدا ہندوستان میں ہوئی ، جس کی وجہ سے اکثریتی طبقے کے ساتھ ان کے سماجی روابط عموماً ہموار رہتے ہیں،جبکہ مسلمانوں کے  ساتھ ایسانہیں ہے ،یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اکثر اپنی مذہبی شناخت، لباس اور روایات کی وجہ سے مختلف سماجی اور سیاسی بحثوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو بسا اوقات تناؤ کا باعث بنتے ہیں۔ 

ہندوستان کی تمام اقلیتیں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ تاہم، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سکھ اور جین برادریوں نے معاشی اور تعلیمی میدان میں غیر معمولی ترقی کی ہے، جبکہ مسلمان اب بھی سماجی اور اقتصادی طور پر پیچھے ہیں۔ اس خلیج کو پُر کرنے کے لیے مسلمانوں میں جدید تعلیم کے فروغ اور حکومت کی جانب سے جامع پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ سب کا ساتھ، سب کا وکاس کا خواب حقیقتا شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ 

ہندوستان کی مختلف اقلیتوں کے درمیان موجود فرق کو مزید گہرائی سے سمجھنے کے لیے  چند مخصوص شعبوں کا تفصیلی جائزہ  ناگزیرہے ۔ یہ تفصیل ہمیں بتاتی ہے کہ کیوں بعض اقلیتیں ترقی کی دوڑ میں بہت آگے ہیں اور بعض کو چیلنجوںکا سامنا ہے۔ 

سکھ اور جین برادریوں کو معاشی استحکام کی مثال کے طورپر پیش کیاجاسکتاہے ۔ان دونوں اقلیتوں کی کامیابی کی بنیادی وجہ ان کا مضبوط کاروباری ڈھانچہ اور کمیونٹی سپورٹ ہے۔جین برادری کے لوگ اگرچہ  آبادی کا ایک فیصد سے بھی کم ہیں، لیکن ہندوستان کے کل انکم ٹیکس میں ان کا حصہ بہت زیادہ ہے۔ ان کی توجہ تجارت، ہیرے کی صنعت اور مالیاتی خدمات پر مرکوز ہے۔اسی طرح سے سکھ برادریزراعت (خصوصاً پنجاب میں)، ٹرانسپورٹ اور فوج میں ان کی کارکردگی مثالی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم سکھ برادریکی طرف سے بھیجی جانے والی رقوم نے بھی ان کی معاشی حالت کو بہت مستحکم کیا ہے۔ عیسائی برادری کے یہاں  تعلیم اور صحت کا نیٹ ورک بہت مضبوط ہے ۔ عیسائی  برادری نے ہندوستان میں ادارہ سازی پر سب سے زیادہ کام کیا ہے۔ان کے مشنری اسکول اور اسپتال پورے ملک میں بہترین سمجھے جاتے ہیں۔ 

اس تعلیمی نیٹ ورک کا فائدہ خود اس برادری کو بھی ہوا، جس کی وجہ سے جنوبی ہند (کیرالہ، تامل ناڈو) اور شمال مشرقی ریاستوں میں ان کا تعلیمی اور سماجی معیار بہت بلند ہے۔ 

 پسماندگی کے اسباب اور حقائق  کے تعلق سے مسلمانوں کا موازنہ جب دیگر اقلیتوں سے کیا جاتا ہے، تو چند تلخ حقائق سامنے آتے ہیں۔مسلمانوں کی بڑی آبادی شہروں میں رہتی ہے، لیکن وہ کچی بستیوںمیں مقیم ہیں، جہاں بنیادی سہولیات  کا فقدان ہے۔ 

سکھوں کے برعکس، مسلمانوں کے پاس زرعی زمینوں کا تناسب کم ہے، جس کی وجہ سے وہ زیادہ تر چھوٹے درجے کی مزدوری یا دستکاری (جیسے بنکر، لوہار، میکینک) پر منحصر ہیں۔ حکومتی اقدامات جیسے سچر کمیٹی کی سفارشات اور اقلیتوں کے لیےا سکیمیں موجود ہیں، لیکن ناقص نفاذ اور فنڈز کی کمی کی وجہ سے مؤثر نہیں۔ کمیٹی نے نشاندہی کی تھی کہ مسلم علاقوں میں بینکنگ کی سہولیات کم ہیں، جس کی وجہ سے انہیں کاروبار کے لیے قرض ملنے میں دشواری ہوتی ہے۔ 

اقلیتوں کے درمیان تعلیمی خلیج کا موازنہ کیاجائے  تو جین مذہب میں اعلی تعلیم یعنی گریجویشن یا اس سے اوپر تعلیم حاصل کرنے  والوں  کی تعداد 25فیصد سے زیادہ ہے  جبکہ عیسائیوں  میں یہ تعداد 15سے 18فیصدہے  ،سکھوں میں بھی تقریبا 12سے 15 فیصد کے  ساتھ یہ مستحکم ہے جبکہ مسلمانوں میں یہ سب سے کم سطح یعنی 5سے 7فیصدہے۔اسی طرح سے  مختلف  اقلیتی مذاہب میں خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعدادجین برادری  میں سب سے کم ،عیسائیوں میں کم ،سکھوں میں بہت کم   اور مسلمانوں میں سب سے زیادہ ہے ۔گزشتہ کچھ برسوں میں مسلمانوں کے اندر بھی ایک مثبت تبدیلی آئی ہے لیکن  دہائیوں کی خامیوں اور خرابیوں کو چشم زدن میں درست کرنا ممکن نہیں ،قوموں کی  تعمیر میں صدیاں درکار ہوتی ہیں ۔ جہاں سکھ، جین اور عیسائی معاشی اور تعلیمی طور پر ملک کے متمول طبقے میں شامل ہیں، وہیں مسلمانوں کو دلتوں کے برابر پسماندگی کا سامنا ہے۔ اس فرق کو مٹانے کے لیے صرف سرکاری مددہی  کافی نہیں بلکہ برادری کے اندر سے تعلیمی اور معاشی اصلاحی تحریکات  کا اٹھنا لازمی ہے۔


Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

لنگی میں

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

عبدالعلیم کے متبنیٰ کی کہانی جو رشتوں کے لیے امتحان بن گئی !

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟