بنگلہ دیش شدید عدم استحکام کے سائے میں انتخابات کی جانب گامزن
نعیم نظام
بنگلہ دیش چار اہم شعبوں سیاست، معیشت، امن و امان اور بین الاقوامی تعلقات میں غیر معمولی عدم استحکام کے دور میں انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ اسی دوران ملک کی سابق وزیرِاعظم بیگم خالدہ ضیا کو ان کے شوہر، سابق فوجی حکمران جنرل ضیاء الرحمٰن کے پہلو میں سپردِ خاک کردیا گیا ہے ۔
یہ منظر بذاتِ خود اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ بنگلہ دیش اپنی 54 سالہ قومی تاریخ میں بار بار جمہوریت اور فوجی اقتدار، عدم استحکام اور ترقی کے درمیان گردش کرتا رہا ہے ۔ انتخابی ماحول، قانون کی حکمرانی اور سیاسی اعتماد سے متعلق سوالات ایک بار پھر پوری شدت سے ابھر آئے ہیں۔
اسی کے ساتھ یہ خدشات بھی برقرار ہیں کہ اگر ماضی کی طرح کسی بڑی سیاسی قوت کو انتخابی عمل سے باہر رکھا گیا تو کیا واقعی استحکام واپس آسکے گا؟ دریں اثنا، انتخاب میں شامل جماعتیں اپنے اپنے ووٹ بینک کو مستحکم کرکے اپنے حق میں سیاسی ماحول سازگار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
بنگلہ دیش کی بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی اہمیت کے پیش نظر عالمی توجہ اب اس کے سیاسی مستقبل پر مرکوز ہیں۔
اگست 2024 سے بنگلہ دیش مسلسل بدامنی کا شکار ہے ۔ عبوری حکومت مجموعی حالات کو بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے ، بلکہ تب سے بنگلہ دیش ملکی اور غیر ملکی انتشار میں مبتلا رہا ہے ۔
انتخابی ماحول پر شکوک و شبہات بدستور موجود ہیں۔ اگر حکومتی غلطیاں ووٹنگ کے حالات کو مزید نقصان پہنچاتی ہیں اور نتیجتاً غیر شمولیتی انتخابات ہوتے ہیں تو ملکی و علاقائی جغرافیائی سیاست دونوں متاثر ہوں گی اور مثبت عالمی روابط مزید کمزور پڑ سکتے ہیں۔
اختیارات رکھنے والوں کی لغزشوں نے پہلے ہی سپلائی چین اور اقتصادی تعاون پر طویل المدتی عدم استحکام کے اثرات ڈالنا شروع کر دیے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ہجوم کو متحرک کرکے کنٹرول برقرار رکھنے کی حکمتِ عملی نے قانون کی حکمرانی، میڈیا کی آزادی اور اختلافِ رائے کے احترام کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے ۔
اس تلخ حقیقت کے دوران اختلافِ رائے رکھنے اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم حملوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ مزید برآں ہجومی تشدد، میڈیا دفاتر کو نذرِ آتش کرنے ، صحافیوں کی گرفتاری اور سیاسی تشدد کے واقعات نے صورتحال کو نہایت تشویشناک بنا دیا ہے ۔
اسی دوران سیاسی جماعتوں کے اندر پائے جانے والے باہمی شکوک و شبہات نے سیاسی استحکام کے امکانات کو کمزور اور غیر جانبدار، شمولیتی انتخابات کے امکان پر نئے سوالات اٹھادیے ہیں۔
بیگم خالدہ ضیا کے صاحبزادے اور سیاسی وارث طارق رحمان کی جانب سے بنگلہ دیش کی سرزمین پر 17 برس بعد اپنی پہلی تقریر میں بار بار "امن" کے ذکر کو نوٹ کرتے ہوئے یہی امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اور دیگر رہنما حملوں اور ہجومیت (Mobocracy) پر قابو پانے میں کامیاب ہوں گے ۔
اگرچہ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وہ انتخابات کو زیادہ سے زیادہ غیر جانبدارانہ انداز میں کرانے کی کوشش کرے گا، تاہم اس نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ آئندہ انتخابات مکمل طور پر شمولیتی نہیں ہوں گے ۔ عملی طور پر انتخابی مقابلہ بڑی حد تک بی این پی اور جماعتِ اسلامی کے درمیان محدود رہنے کی توقع ہے ۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ دونوں جماعتیں گزشتہ 16 برسوں میں شیخ حسینہ کی مخالف تحریک کے دوران ایک ہی سیاسی بلاک کا حصہ رہی ہیں، مگر آج اقتدار کی جدوجہد میں ایک دوسرے کی حریف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والا دور بنگلہ دیش کے جمہوری اور ادارہ جاتی مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہوگا، جبکہ معیشت کو مستحکم کرنے کے حوالے سے سنگین چیلنجز بھی درپیش ہوں گے ۔
سیاسی عدم استحکام نے معیشت کو کافی نقصان پہنچایا ہے اور کاروباری طبقہ مسلسل ہراسانی کا شکار ہے ۔ عدم استحکام کبھی بھی کاروبار دوست نہیں ہوتا؛ یہ اقتصادی رفتار کی بحالی کو روکتا ہے ۔ اسی لیے معتبر اور شمولیتی انتخابات کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ انتخابی عمل سے اخراج سے متعلق ماضی کی غلطیوں کو دہرانا بحران کو کم کرنے کے بجائے مزید شدت دے سکتا ہے ، جس کے نتیجے میں پرتشدد سیاست دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے اور اقتدار سنبھالنے والوں کے لیے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ بنگلہ دیش گزشتہ چودہ ماہ سے پرتشدد سیاست میں پھنسا ہوا ہے ۔ سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی کے بعض حلقے اب کھلے عام طرزِ حکمرانی، احتساب اور ادارہ جاتی غیر جانبداری پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
تشدد، تباہ کن سیاسی پروگراموں اور ہجومی سیاست نے عوام میں منصفانہ ووٹنگ کے امکان کے حوالے سے گہری تشویش پیدا کردی ہے ۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران محض جماعتی رقابت کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل سیاسی پولرائزیشن اور جمہوری اداروں کے بتدریج کمزور ہونے کا ماحصل ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد خطرناک حد تک گر چکا ہے ۔ سیاسی مکالمہ الزام تراشی اور خطیبانہ نعروں تک محدود ہو گیا ہے ، جبکہ مخالفین کو غیر مؤثر بنانے کے سوا کوئی ٹھوس تبدیلی نظر نہیں آتی۔ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ اس بحران کا حل صرف سیاسی ہے ، اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
اس غیر یقینی صورتحال میں طارق رحمان کی واپسی نے کسی حد تک امید رمق دکھائی ہے ۔ ایک بڑے سیاسی رہنما کی حیثیت سے ان کی واپسی ایک نازک موڑ پر ہوئی ہے ۔ ان کی والدہ بیگم خالدہ ضیا وزیرِاعظم رہ چکی ہیں اور ان کے والد ضیاء الرحمٰن صدر اور مجاہد آزادی تھے ۔
ان کی واپسی کے دن ڈھاکہ میں عوام کا سمندر امڈ آیا اور بی این پی نے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ طارق رحمان نے 17 منٹ کی منظم تقریر کی جس میں انہوں نے مخالفین پر حملہ کرنے سے گریز کیا۔
ایسے وقت میں جب بنگلہ دیشی سیاست میں ہندوستان مخالف بیانیہ مقبول ہوچکا ہے ، انہوں نے اس راستے کو اختیار نہیں کیا۔ نہ انہوں نے اختلاف کرنے والوں کو نشانہ بنایا، نہ عوامی لیگ کا ذکر کیا، نہ شیخ حسینہ کا نام لیا اور نہ ہی "فاشسٹ" کی اصطلاح استعمال کی۔ اس کے بجائے انہوں نے مستقبل کے لیے اپنے وژن اور منصوبوں پر بات کی اور مثبت سیاسی کلچر کی بحالی پر زور دیا۔
بہت سے لوگ ان کی تقریر اور واپسی دونوں کو مجموعی سیاسی ماحول کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھتے ہیں، جسے "جھلستی ریت پر ہلکی بارش" سے تشبیہ دی جا رہی ہے ۔ یہ راحت کتنی دیر قائم رہتی ہے ، یہ دیکھنا باقی ہے ۔
طارق رحمان کے سامنے فوری چیلنج یہ ہے کہ آنے والے انتخابات یقینی بنائے جائیں۔ اس کے بعد کہیں بڑے چیلنجز ہیں: سیاست کو تشدد سے دور لے جانا، مخالفین کے خلاف ہجوم کے تشدد کا خاتمہ، قانون کی حکمرانی کی بحالی، معیشت کا استحکام، میڈیا پر حملوں کا خاتمہ اور صحافیوں کے خلاف جھوٹے مقدمات واپس لینا۔
فکر مند کاروباری رہنما صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور استحکام کی راہ کی امید کر رہے ہیں۔ لندن میں 17 سالہ جلاوطنی ،جہاں انہیں اور ان کی جماعت کو قانونی ہراسانی کا سامنا رہا، کے بعد طارق رحمان کے لیے آگے کا راستہ نہایت کٹھن ہے ۔
یہ سوال اہم ہے کہ آیا وہ ماضی کی دشمنیوں سے آگے بڑھ کر ایک پُرامن مستقبل تعمیر کرسکتے ہیں یا نہیں۔ ان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ بدل چکے ہیں اور اب ملک کی بہتری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، تاہم عوامی لیگ اور دیگر حلقے اس پر شدید شکوک رکھتے ہیں۔
دریں اثنا، طارق رحمان کی واپسی نے جماعتِ اسلامی کو بے چین کر دیا ہے ۔ جماعت یہ سمجھ رہی تھی کہ شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے اور خالدہ ضیا کی علالت کے بعد انتخابی میدان اب ان کے لیے آسان ہوگا مگر یہ مفروضہ اب غلط ثابت ہورہا ہے ۔
اسی دوران طلبہ کی قیادت میں بننے والی جماعت این سی پی، جس نے عوامی لیگ مخالف تحریک میں کردار ادا کیا تھا، جماعتِ اسلامی کے ساتھ جا ملی ہے ، جس سے اس کے اسلام پسند جھکاؤ کے الزامات کی تصدیق ہوتی ہے ۔ این سی پی کی بعض خواتین رہنماؤں نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے ۔
ریاست کی سرپرستی میں بننے والی چھوٹی "کنگز پارٹیاں" اور تنظیمیں بھی بے چینی کا شکار ہیں، کیونکہ انہیں اس ہجوم کی سیاست کے خاتمے کا خدشہ ہے جسے پہلے سرکاری پشت پناہی حاصل تھی۔
'پروتھم آلو' اور 'ڈیلی اسٹار' نامی اخباروں پر حملوں کے بعد ریاست کو شاید یہ احساس ہوا ہے کہ ہجوم کا 'خیالی دیو' کسی کو نہیں بخشتا-حتیٰ کہ اپنے خالق کو بھی نہیں۔
ہجوم کے تشدد پر قابو پانے کی تاخیر سے کی گئی کوشش نے گزشتہ چودہ ماہ میں تباہ کن قیمت وصول کی ہے ۔ اگر بروقت اقدام کیا جاتا تو وسیع پیمانے پر اموات، آتش زنی اور افراتفری سے بچا جا سکتا تھا۔
میمَن سنگھ میں اقلیتی نوجوان دیپو داس کا بہیمانہ قتل-جسے مذہبی اشتعال کے جھوٹے الزام میں پولیس نے ہجوم کے حوالے کر دیا-کوئی الگ واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک خونچکاں سلسلے کی کڑی تھی جس کا آغاز پولیس اہلکاروں کی لنچنگ اور نذرِ آتش کیے جانے سے ہوا اور جو ہزاروں جرائم تک پھیل گیا۔
عام شہری اب ایسا بنگلہ دیش نہیں دیکھنا چاہتے جو ہجوم کے تشدد میں ڈوبا ہو۔ ملک ایک دوراہے پر کھڑا ہے : یا تو سیاسی مفاہمت اور ادارہ جاتی اصلاحات کی طرف بڑھے ، یا طویل عدم استحکام کئ دلدل میں پھنستا چلا جائے ۔ یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ سیاسی قوتیں اس عبوری مرحلے کو کس طرح سنبھالتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے صرف اقتصادی استحکام کافی نہیں، بلکہ شمولیتی اور ضابطہ جاتی سیاسی عمل کی سمت واضح پیش رفت بھی ضروری ہے ۔ شفاف اور شمولیتی انتخابات جمہوری تجدید کی راہ ہموار کر سکتے ہیں؛ بصورتِ دیگر تنازع برقرار رہے گا اور پیچیدگیاں بڑھتی جائیں گی۔
مہنگائی، زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور سست روزگار نمو پہلے ہی حالاتِ زندگی کو خراب کر رہے ہیں، خاص طور پر شہری نوجوانوں کے لیے ۔
ماہرینِ معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ طویل سیاسی عدم استحکام سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کرے گا اور برآمدات کو نقصان پہنچائے گا۔ نمایاں کاروباری شخصیات غیر معمولی مایوسی کا اظہار کر رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ سیاسی معمول پر واپسی اور بحال شدہ قانونی حیثیت ہی بحالی کی کنجی ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر شہری حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ پر تشویش بڑھ رہی ہے ۔ محدود ہوتی شہری آزادی اور فرقہ وارانہ کشیدگی بنگلہ دیش کی تکثیری شناخت کے لیے خطرہ بن رہی ہے ۔ پائیدار استحکام اسی وقت ممکن ہے جب معاشرے کے تمام طبقات خود کو ریاست کا حصہ محسوس کریں۔
آنے والے قومی انتخابات حتمی امتحان ہوں گے ۔ معتبر، شفاف اور شمولیتی ووٹنگ عوامی اعتماد بحال کر سکتی ہے ؛ متنازع انتخابات ملک کو مزید تقسیم کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
اگرچہ کسی ایک جماعت کو باہر رکھنا وقتی طور پر سہل لگ سکتا ہے ، مگر حقیقت یہ ہے کہ عوامی لیگ-جو عوامی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹی-اب بھی تقریباً 35 فیصد عوامی حمایت رکھتی ہے ۔ اتنی بڑی نمائندگی کو نظر انداز کر کے پائیدار استحکام ممکن نہیں۔
بدعنوانی اور بداعمالیوں پر کنٹرول ہونا چاہیے ، مگر عام حامیوں کو اپنے قائدین کے جرائم کی سزا کے طور پر ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے ۔ یہ حل طلب سوالات بنگلہ دیش کے انتخابات کی طرف بڑھنے کے ساتھ مزید اہم ہوتے جا رہے ہیں۔
اکثر بنگلہ دیشی چاہتے ہیں کہ انتخابات ہوں اور ایسے ہوں جو شمولیتی ہوں اور دیرپا امن کی ضمانت دیں، تو فیصلہ کرنے کا حق عوام کو دیا جانا چاہیے ۔
شفاف انتخابات، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور جوابدہ ریاست کا کوئی متبادل نہیں۔ اگر بنگلہ دیش کو بدلنا ہے تو سیاست دانوں کو پہلے خود بدلنا ہو گا۔
(مصنف بنگلہ دیش کے اخبار 'پرتِی دن' کے سابق مدیر ہیں۔ یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں)

Comments
Post a Comment