سال نامہ: اردو کے بکھرتے رنگ مہکتی خوشبو 2025کے دریچے سے

ڈاکٹر شگفتہ یاسمین

سال 2025رخصت ہوا اور 2026ہماری زندگی میں داخل ہو چکا ہے ۔اردو زبان وادب اور تہذ یب و ثقافت کے حوالے سے سال رفتہ کئی دلچسپ تقاریب اور سرگرمیوں کا مرکز و محور رہا۔ تنقید و تحقیق ، فکشن ، شاعری ، خودنوشت، سوانح ،انشائیہ، ناول اور ادب اطفال کے تعلق سے کئی اہم کتابیں منظر عام پر آئیں ۔ مختلف اداروں اور تنظیموں کی طرف سے سیمینار ، جلسے جلوس، کتب میلے ، جشن ، بیت بازی ، خطبے ، مشاعرے اور کتابوں کے اجراء کا سلسلہ سال بھرجاری رہا۔ 

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان جو اردو زبان کا ملک کا سب سے بڑا سرکاری ادارہ ہے اس کی جانب سے ہندوستان کے مختلف حصوں میں رنگارنگ سیمینار ، سمپوزیم، تربیتی کلاسز مذاکروں اور کتاب میلوں کا انعقاد عمل میں آیا ۔این بی ٹی اور قومی اردو کونسل کے باہمی اشتراک سے 2 تا 10 اگست2025 کو سری نگر کشمیر میں 'چنار بک فیسٹیول' کا اہتمام کیا گیا جس میں درجنوں ، ادبی ، علمی ،تربیتی اور ثقافتی پروگرام شامل تھے اس کے علاوہ کتب فروشوں کے درجنوں اسٹال تھے جو زبان و ادب کے شائقین کی توجہ کا مرکز بنے ۔ 

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے شارجہ ( متحدہ عرب امارات) میں 5 تا 16 نومبر2025 اور15 تا 19 اکتوبر کو فرینکفرٹ( جرمنی ) میں منعقدہ دنیا کے سب سے بڑے کتاب میلے میں شرکت اور ہندوستان کی نمائندگی کی۔ اس کے علاوہ نئی دہلی، پٹنہ، اورنگ آباد ،پونے اور علی گڑھ میں کتاب میلے کا شاندار اہتمام کیا گیا جو دس دن تک جاری رہا ۔ صرف علی گڑھ میں تقریباً 70 لاکھ روپے کی کتابیں فروخت ہوئیں ۔نئی دہلی، ورلڈ بک فئیر میں ادبی مذاکرے ، یک روزہ بک کانکلیو،یک روزہ سمپوزیم اور کونسل کی مطبوعات کا اجراء سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا اہم حصہ ر ہیں۔ یک روزہ اور سہ روزہ قومی اور بین الاقوامی سیمیناروں میں'اردو زبان کا مستقبل وکست بھارت@2047 کے تناظر میں'کے عنوان سے پٹنہ میں سہ روزہ قومی سیمینار ،غالب انسٹی ٹیوٹ اور قومی اردو کونسل کے اشتراک سے بین الاقوامی غالب ریسرچ اسکالرز سیمینار کا انعقاد ،قومی اردو کونسل اور شعبہ ترسیل عامہ و صحافت مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے اشتراک سے اردو صحافیوں کے لیے سہ روزہ صلاحیت سازی ورکشاپ کا اہتمام ، 'وکست بھارت کا وژن ، اردو زبان کا مشن ' کے عنوان سے سہ روزہ عالمی اردوکانفرنس ،دہلی کی فارسی زبان،ادبی اور تہذیبی ورثہ' کے عنوان سے سہ روزہ قومی سیمینار اورپٹنہ میں بچوں کے ادب کی تخلیق کے حوالے سے مذاکرے اور کونسل کی مطبوعات کا اجرا شامل ہے ۔

غالب انسٹی ٹیوٹ نے حسب سابق اس سال بھی متعدد پروگرام منعقد کیے ۔ سال کا اختتام ' بین الاقوامی غالب سیمینار پریم چند ' پر ہوا جس میں ملک اور بیرون ملک سے بڑی تعداد میں مشاہیر ادب ، دانشوروں اور شعراء نے حصہ لیا۔ عالمی مشاعرہ ، ہم سب ڈرامہ گروپ کا (ڈرامہ) ''غالب کی واپسی '، شام غزل اور بین الاقوامی سیمینار اس کی اہم سرگرمیاں تھیں۔

غالب اکیڈمی،دہلی میں اردو کا علمی وادبی ادارہ ہے جس میں غالب کی حیات اور ان کے عہد پر مبنی میوزیم ، لائبریری، غالب اور اردو ادب سے متعلق 15ہزار کتابوں کی لائبریری مع اخبارات و رسائل موجود ہے ۔ حسب روایت ہر مہینے کے دوسرے اور چوتھے ہفتے ایک شعری نشست منعقد کی جاتی رہی اور اس سال بھی تقریباً 20 شعری و نثری نشستوں کا انعقاد عمل میں آیا جن میں نامور دانشوروں ، شاعروں اور ادیبوں نے شرکت کی ۔

غالب اکیڈمی کے 56 ویں یوم تاسیس اور غالب کے 156 ویں یوم وفات کے موقع پر 21 تا 24 فروری کو متنوع پروگراموں کا انعقاد عمل میں آیا ۔ جن میں غزل گائیکی، مشاعرے اور سیمینار وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 22 نومبر اور 6 دسمبر2025 کو یک روزہ ریسرچ اسکالر سیمینار منعقد ہوا۔ سال کا اختتامی پروگرام جو لیکچر اور غزل گائیکی پر مبنی تھا 27 دسمبر کو غالب کے یوم پیدائش کے موقع پر منعقد کیا گیا۔


جشن ریختہ اردو زبان وادب اور تہذیب و ثقافت کی نمائندگی کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا غیر سرکاری ادارہ ہے جو ہر سال ایک مرتبہ دہلی میں جشن ریختہ کے نام سے اردو زبان و ادب تہذیب و ثقافت کا سب سے بڑا فیسٹیول منعقد کرتا ہے اور گزشتہ دو برس سے یہ جشن دبئی میں بھی منعقد ہو رہا ہے ۔ 5 تا 7 دسمبر ریختہ فاؤنڈیشن نے دہلی کے بانسیرا پارک میں اپنا شاندار دسواں ایڈیشن منایا ۔ پانچ اسٹیجوں پر 300 سے زیادہ فنکاروں اور 35 سے زیادہ سیشنز کے ساتھ جشن ریختہ میں رقص و نغمہ ، گیت سنگیت ، عظیم الشان تھئیٹر شوز ، داستان گوئی، مشاعرے ، آر کیسٹرل قوالی ، ادبی مباحثے اور ماسٹر کلاسزز کا ایک دلکش سلسلہ پیش کیا گیا۔ ایوان ذائقہ ، ریختہ بکس بازار،ریختہ بازاراور ریختہ پویلین کے تحت ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی کرنے والے پکوانوں ، اردو فن خطاطی اور دستکاری کے دیدہ زیب نمونوں کی پیشکش نے ہمیشہ کی طرح اس جشن کو یادگار بنا دیا۔

 دہلی اردو اکیڈمی کا شمار سرگرم اور فعال اکیڈمیوں میں ہوتا ہے ۔ سال میں ایک بار منعقد ہونے والا 'جشن اردو 'اس مرتبہ دہلی کی سندر نرسری میں منعقد ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں محبین اردو اور مشہور و معروف فنکاروں نے شرکت کی ۔ اس چار روزہ فیسٹیول میں مشاعرے ، مذاکرے ، داستان گوئی ، ڈرامہ ، غزل سرائی ، قوالی ، چار بیت، بیت بازی ،تمثیلی مشاعرے اور شعر و نغمہ پر مبنی رنگارنگ پروگرام نے ہر خاص و عام کو اپنی جانب راغب کیا۔ دہلی اردو اکیڈمی نے دہلی کتاب میلہ، عالمی کتاب میلہ ، اردو کتاب میلہ اور کل ہند اردو کتاب میلہ میں بھی شرکت کی جن میں اردو ادب ، تاریخ ، تنقید، ثقافت، ادب اطفال اوراکیڈمی کے ذریعے شائع شدہ کتابوں کی نمائش شامل تھی۔

 اکیڈمی کا چار روزہ پروگرام ' نئے پرانے چراغ' بھی ہمیشہ کی طرح توجہ کا خاص مرکز رہا ۔ یوم جمہوریہ ، یوم آزادی اور یوم اساتذہ پر مشاعرے ، شام غزل ، ڈرامہ فیسٹیول ، ادب اطفال پر اپنی منفرد نوعیت کے مختلف سیمینار ، موسم گرما کی تعطیلات میں بچوں کے لیے سمر کیمپ، داستان گوئی، وراثت میلہ، رنگ سخن، اردو زبان کے تربیتی کورس وغیرہ سال رفتہ میں اردو اکیڈمی کی اہم سرگرمیوں کا ایک مختصر گوشوارہ ہے ۔

مغربی بنگال اردو اکیڈمی، کولکاتہ نے 22 اور 23 دسمبر کو ستیہ جیت رے آڈیٹوریم میں ساتواں قومی اردو ڈرامہ فیسٹیول منعقد کیا جس میں مغل اعظم ؛ ایک تمثیل، غروب طلوع، بیگم جانی کی حویلی اور تاج و تخت جیسے عمدہ ڈرامے اسٹیج کیے گئے ۔ روح ادب کا فلموں پر ایک خاص نمبر شائع ہوا ۔

مہا راشٹر اردو اکیڈمی، ممبئی نے اردو کے تعلق سے اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہوئے اپنا 50 سالہ جشن منایا ۔ 

مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی، ممبئی نے اپنے قیام کے 50 سال مکمل ہونے کے موقع پر 6 تا 8 اکتوبر ' جشن بہار اردو 2025' کے عنوان سے سہ روزہ تقریبات کا اہتمام کیا ۔ اس جشن میں مشاعرہ، تھیئٹر، ڈرامہ ، نمائش، پینل ڈسکشن ، سیمینار ، صوفی قوالی نائٹ ، داستان گوئی، بیت بازی ، تمثیلی مشاعرہ اور فیشن شوپر مبنی رنگارنگ پروگرام پیش کیے گئے ۔

ممبئی میں 'اردو کارواں 'نے عشرہ اردو منایا ۔ کئی اردو کالجوں کے طلباء نے اس دس روزہ جشن میں حصہ لیا۔ اردو چینل نے شعبہ ٔ اردو ممبئی یونیورسٹی کے اشتراک سے کئی خوبصورت پروگراموں کا انعقاد کیا ۔ سہ روزہ ' جشن اردو ' منایا گیا جس میں محبان اردو اور طلبہ و طالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ مشاعرہ ، افسانہ خوانی ، موسیقی ، خطاطی کی نمائش، ڈرامے ، بیت بازی ، مذاکرہ، داستان گوئی، آرٹ گیلری ، ورکشاپ، پرفارمنگ کلاسز اور کتاب میلہ کا اہتمام کیا گیا ۔


مالیگاؤں ہائی اسکول اور اردو گھر، مالیگاؤں کے اشتراک سے ' مالیگاؤں ادبی تہوار۔ اردو کا سہ روزہ جشن' 31 جنوری تا 2 فروری 2025 کو ' رشک بہاراں ' کے عنوان سے منعقد کیا۔۔ 

سٹی کالج مالیگاؤں میں سٹی کالج ادارہ صوت الاسلام اور انجمن محبان اردو کتب کے اشتراک سے منعقدہ ایک ہفتہ طویل میلے میں افسانوی نشست، مشاعرہ، بیت بازی، مضمون نویسی اور تقریری مقابلے کے علاوہ تقریباً 40 لاکھ روپے کی کتابیں فروخت ہوئیں

اورنگ آباد کے عام خاص میدان میں 14 تا 21 نومبر 'ایجوکیشن ایکسپو 2025 ' منعقد کیا گیا ۔ کتاب میلہ اور تعلیم پر نمائش کے علاوہ علمی و ادبی سرگرمیوں کے تحت 42 معزز شخصیات کو اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ کسی غیر سرکاری ادارے کی طرف سے منعقد کیا جانے والا ایجوکیشن ایکسپو ہے ۔

بہار اردو ڈائریکٹوریٹ، پٹنہ نے بھی حسب سابق اپنی روایت برقرار رکھی ۔ اس سال بھی اردو کے 22 مقتدر شاعروں ، ادیبوں ، ناقدوں اور محققوں کے یوم پیدائش و وفات کے موقع پر یادگاری تقریبات /خطبات کا انعقاد کیا گیا۔ ان تقاریب میں بہار اور بہار سے باہر ملک کی مختلف ریاستوں مثلاً جھارکھنڈ ، مغربی بنگال، اتر پردیش ، دہلی، مہاراشٹر وغیرہ کی عظیم اردو ادبی شخصیات اور دانشوران اردو نے شریک ہو کر تقریب کو بامقصد اور با معنی بنایا ۔ ان تقاریب کے انعقاد کا اہم مقصد ان کی خدمات اور کارناموں کا اعتراف اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنا ہے وہیں نسل نو کو ان کی ادبی خدمات سے متعارف کرانا بھی ہے اس سلسلے کے تحت قاضی عبدالودود ، رمز عظیم آبادی ، وہاب اشرفی، کیف عظیم آبادی ، سہیل عظیم آبادی ، شین مظفر پوری ، شکیلہ اختر ، امداد امام اثر ، اختر اورینوی، علامہ جمیل مظہری، پروفیسر کلیم الدین احمد ، عطا کاکوی اور پرویز شاہدی پر تقاریب منعقد کی جا چکی ہیں ۔ 2025۔26 کے دوران اب تک منعقدہ تقاریب میں دو سو سے زائد ادباء و شعراء نے بحیثیت مقالہ خواں اور شاعر شرکت کی ۔

اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی یونیورسٹی، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، مولانا آزاد یونیورسٹی حیدرآباد، عثمانیہ یونیورسٹی، کرناٹک اردو اکیڈمی، تلنگانہ اردو اکیڈمی، آندھرا پردیش اردو اکیڈمی، اتر پردیش اردو اکیڈمی اور دیگر اردو اکیڈمیوں میں اردو کی سرگرمیاں جاری رہیں اور ان اداروں نے بھی اردو کے تعلق سے متعدد سیمینار، ورکشاپ، لیکچرس اور دیگر پروگرام منعقد کئے ۔ 

Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

لنگی میں

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

عبدالعلیم کے متبنیٰ کی کہانی جو رشتوں کے لیے امتحان بن گئی !

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟