قابل غور بات

 ایک فقیر دریا کے کنارے بیٹھا تھا 

کسی نے پوچھا بابا کیا کر رہے ہو؟

 فقیر نے کہا انتظار کر رہا ہوں کی مکمل دریا بہہ جائیں تو پھر پار کروں.


اس آدمی نے کہا کیسی بات کرتے ہو بابا ... مکمل پانی بہہ جانے کے انتظار میں تو تم کبھی دریا پار ہی نہیں کر پاؤ گے.


فقیر نے کہا یہی تو میں تم لوگو کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ تم لوگ جو ہمیشہ یہ کہتے رہتے ہو کہ ایک بار گھر کی ذمہ داریاں پوری ہو جائیں تو پھر نماز پڑھوں گا، داڑھی رکھوں گا، حج کروں گا، خدمت کروں گا ۔


جیسے دریا کا پانی ختم نہیں ہوگا ہمیں اس پانی سے ہی پار جانے کا راستہ بنانا ہے اسی طرح زندگی ختم ہو جائے گی پر زندگی کے کام اور ذمہ داریاں کبھی ختم نہیں ہوں گے 


( نماز سے مت کہو کہ مجھے کام ہے

کام سے کہو کہ مجھے نماز پڑھنی ہے)

#منقول

Comments

Popular Post

مدارس کے طلبہ آن لائن کلاسوں سے محروم کیوں رکھے گئے

وکست بھارت اور بے روزگاری !

والدین اپنے بچوں کا وقت پہ نکاح کرائیں ‏

एक स‌े अधिक शादी ?

لنگی میں

78वें वार्षिक निरंकारी संत समागम की तैयारियाँ व्यापक स्तर पर

پراجیکٹ سن رائز خیرات یا کاروبار؟

عبدالعلیم کے متبنیٰ کی کہانی جو رشتوں کے لیے امتحان بن گئی !

تخلیق آدم ؑ،جنت میں قیام اور زمین پر آمد

برائی ‏کیا ‏ہے ‏؟