جامعہ ملیہ اسلامیہ: علم، تہذیب اور قومی شعور کا مرکز
شمس آغاز جامعہ ملیہ اسلامیہ برصغیر کے ان نادر علمی اداروں میں سے ہے جن کی بنیاد محض تعلیم کے فروغ کے لیے نہیں، بلکہ ایک نظریے، ایک تحریک، اور ایک خواب کی تعبیر کے طور پر رکھی گئی۔ یہ ادارہ اُن عظیم رہنماوں کی قربانیوں کا ثمر ہے جنہوں نے غلامی کے اندھیروں میں آزادی کا چراغ جلایا، اور جنہوں نے تعلیم کو صرف کتابوں کی بات نہیں بلکہ انسان کے باطن کی روشنی سمجھا۔ جامعہ محض ایک عمارت یا یونیورسٹی نہیں، بلکہ ایک ایسی فکری و تہذیبی تحریک ہے جس نے ہندوستانی مسلمانوں کو نئی شناخت، نیا حوصلہ اور نیا وقار عطا کیا۔ انیسویں صدی کے اواخر میں، جب برصغیر کی فضا غلامی کے بوجھ سے دبی ہوئی تھی، مسلمان قوم احساسِ شکست و ندامت میں مبتلا تھی۔ شکستِ 1857 نے ان کے حوصلے پست کر دیے تھے۔ ایک طرف سر سید احمد خان نے علی گڑھ تحریک کے ذریعے مسلمانوں کے لیے جدید تعلیم کے دروازے کھولنے کی کوشش کی، تو دوسری طرف بیسویں صدی کے آغاز میں ایک نئی نسل اُبھری جو یہ محسوس کر رہی تھی کہ محض مادی ترقی کافی نہیں، تعلیم میں خودی، آزادی اور قومی وقار کی روح بھی ضروری ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب آزادانہ تعلیمی نظام کے قیام کا خیال ذہ...