یہ امت روایات میں کھوگئی
عبدالغفارصدیقی
اسلام دین فطرت ہے۔یہ عمل کا دین ہے۔یہ اس لیے نازل ہوا کہ انسان اپنی زندگی کو پرامن،انصاف پسند اور خوش گوار بناسکے۔بدقسمتی سے برصغیر پاک و ہند میں اس دین میں اس قدر ملاوٹ کردی گئی ہے کہ اصل دین پر خرافات و بدعات کی گرد چھا گئی ہے۔انھیں بدعات و خرافات میں سے ایک شب برأت بھی ہے۔
شب برأت کا کوئی تصوراور فضیلت اسلام میں نہیں ہے،نہ رسول اکرم ؐ کے زمانے میں تھا،عرب ممالک میں آج بھی نہیں ہے۔مگر ہمارے یہاں شعبان کا چاند نظر آتے ہی اخبارات میں اس کی فضیلتیں بیان کی جانے لگتی ہیں۔اول تو اسلام میں دن،مہینے،سال اور لمحے سب ہی مقدس و محترم ہیں،یہاں کوئی دن منحوس ہے،نہ کوئی گھڑی۔یہ الگ بات ہے کہ کچھ دن کو خاص فضیلت حاصل ہے جیسے جمعہ کو سید الایام کہا گیا ہے،یا رمضان کو نزول قرآن کی باعث خاص مقام دیا گیا ہے،یا قرآن ہی کی بدولت لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔مومن کے لیے سب دن مبارک ہیں اگر اس نے یہ دن اللہ کی اطاعت و بندگی میں گزارے ہیں،اور اس کے لیے سب دن باعث زحمت ہیں اگر اس نے انھیں نافرمانی میں گزارے ہیں،اسی طرح کوئی شخص ہری دوار میں رہ کر بھی اللہ کا نیک بندہ ہوسکتا ہے اور کوئی شخص حجاز کی سرزمین کا باشندہ ہوکر بھی مستحق عذاب ہوسکتا ہے،وہی مکہ ہے جہاں ابولہب و ابو جہل پیدا ہوئے،اور قیامت تک لعنت کے مستحق قرار پائے اور اسی مکہ سے سینکڑوں صحابہ کرام نے دونوں جہان میں عزت پائی۔اسلام میں عزت و ذلت،محکومی و حاکمیت،کا دارو مدار وقت،زمان،اور مکان پر نہیں بلکہ عمل پر ہے۔
پندرہویں شعبان کے تعلق سے کئی احادیث بیان کی جاتی ہیں جس میں سب سے معتبر وہ حدیث ہے جس میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں۔:”ایک رات میں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پاس نہ پایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نکلی میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت البقیع (قبرستان) میں تشریف فرما ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے ساتھ زیادتی کریں گے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے یہ خیال ہوا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی دوسری اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمانِ دنیا پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ گر ہوتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔“
مذکورہ حدیث کو امام بخاری اور امام مسلم نے اپنی صحیح میں جگہ نہیں دی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ان دونوں حضرات کے نزدیک یہ حدیث صحت کے درجے کو نہیں پہنچتی۔جن لوگوں نے درج کیا ہے ان میں سے بھی بعض نے اس کے ضعیف ہونے کی صراحت کردی ہے۔دارالعلوم دیوبند کے فتویٰ نمبر”1486ب“میں لکھا ہے کہ”پندرہویں شعبان کے متعلق احادیث ضعیف ہیں۔“تعجب ہوتا ہے کہ بر صغیر میں ضعیف احادیث پر بلند و بالا عمارات تعمیر کرلی گئیں ہیں۔یہاں دین عمل کا نہیں دعاؤں اور اوراد و وظائف کا نام ہے۔ہر شخص حصول وسائل اور جد و جہد کے بجائے دعاء کے چکر میں ہے،اجتماعات میں طول طویل دعاؤں کا رواج پروان چڑھ رہا ہے۔بڑے بڑے کام محض دعا سے کرانے کی منصوبہ بندی ہے،اپنے حصے کا کام بھی خدا سے کرانے کی عادت پڑ گئی ہے۔جب کہ دعا کا مقام عمل کے بعد ہے۔عبادت کے نام پر صرف نفل نمازیں رہ گئی ہیں،نفل کو نفع کہا جانے لگا ہے۔جب کہ دونوں کے مصدرو مشتقات میں کوئی مطابقت نہیں ہے۔انسانیت کے لیے نفع رسانی کا جذبہ پس پشت چلا گیا ہے،ایثار و قربانی صرف عید الاضحی کے ساتھ ہی وابستہ ہوکر رہ گئی ہے۔صدقات کے ذیل میں صدقۃ الفطرپر اکتفا کرلیا گیا ہے۔
درج بالااس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول ؐ بغیر کسی کو بتائے قبرستان چلے گئے،ام المومنین حضرت عائشہ ؓ نے اپنے شوہر اور رسول برحق کے متعلق یہ بدگمانی کی کہ مبادا وہ دوسری بیوی کے پاس تو نہیں چلے گئے،اسی لیے وہ تلاش کرتی ہوئیں،(ظاہر ہے اس تلاش کرنے میں ازواج مطہرات کے حجروں کی سن گن بھی لی گئی ہوگی)قبرستان پہنچ گئیں،اور وہ رسولؐ جو کامیابی کی ہر بات اپنے صحابہؓ سے ضرور بتاتے اور مجمع عام میں اس کا ذکر فرماتے تھے صرف حضرت عائشہؓ سے بتا کر چھوڑ دی،یعنی کتمان حق کا الزام اس نبی پر جس نے شہادت حق کا فریضہ ایک سو ایک فیصد ادا کیا۔پھر یہ واقعہ بھی پوری زندگی میں صرف ایک بار واقع ہوا۔حالانکہ پندرہویں شعبان ہر سال وارد ہوتی رہی۔
قرآن میں مذکورلیلۃ القدر اور لیلۃ المبارکہ کو شب برأت سمجھا جانے لگا ہے۔وہ تمام فضائل جو اللہ نے شب قدر کے لیے رکھے تھے،شب برأت سے منسوب کردیے گئے ہیں۔جب کہ واضح ہے کہ لیلۃ المبارکہ اور لیلۃ القدر ایک ہی رات کے دو نام ہیں،اس لیے کہ قرآن میں ان دونوں راتوں کو نزول قرآن کی رات کہا گیا ہے۔اسی طرح یہ بھی واضح ہے کہ یہ راتیں رمضان کی ہی ہیں کیوں کہ قرآن رمضان ہی میں نازل ہوا ہے۔سورہ دخان کی آیت نمبر ایک تا چار میں ارشاد باری ہے۔”حم،روشن کتاب کی قسم ہے۔بے شک اسے ہم نے مبارک رات میں نازل کیا ہے،بلاشبہ ہم خبر دار کرنے والے ہیں۔سارے کام جو حکمت والے ہیں اسی رات میں انجام پاتے ہیں“۔اسی طرح سور ہ قدر میں ارشاد ہوا۔ ”بے شک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا۔اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے۔شب قدر ہزار راتوں سے افضل ہے۔اس میں فرشتے اور جبریل امین اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے آتے ہیں،یہ رات صبح تک سلامتی کی رات ہے۔“اسی طرح کہا گیا کہ ”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا“(البقرہ185)۔قرآن کی یہ آیات آپس میں مربوط ہیں او ر ان سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن برکت والی رات شب قدر میں نازل ہوا،جو رمضان کی رات ہے۔سورہ دخان اور سورہ قدر دونوں میں اس رات کے متعلق یہ بیان کیا گیا کہ اس رات میں معاملات طے پاتے ہیں،فیصلے ہوتے ہیں،فرشتوں کو ذمہ داریاں سونپ دی جاتی ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ برصغیر میں پندرہویں شعبان کو شب قدر سے بھی زیادہ بابرکت رات خیال کیا جاتا ہے،اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ پندرہویں شعبان کو مساجد میں نفل نمازوں کا اہتمام ہوتا ہے،قبرستانوں میں چراغاں کیا جاتا ہے،قبروں کی زیارت کی جاتی ہے،اچھے کھانے پکا کر یہ تصور بھی ہے کہ ہمارے مُردوں کی روحیں انھیں کھانے آتی ہیں۔سنی مسلمانوں کے دونوں بڑے مکاتب فکر (دیوبندی،بریلوی)کے ماننے والے اس رات کا اہتمام کرتے ہیں۔صرف چراغاں پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ آتش بازی بھی کی جاتی ہے۔شہروں میں نوجوان لڑکے ٹوپیاں پہن کر موٹر سائکلوں سے اسٹینٹ دکھاتے ہیں،کئی نامراد حادثے کا شکار ہوجاتے ہیں۔حلوے پکائے جاتے ہیں۔اہل تشیع کا خیال ہے کہ امام مہدی کی پیدائش پندرہویں شعبان کو ہوگی۔اس لیے وہ چراغاں کرتے ہیں،اور ان کی آمد کی خوشی میں اچھے کھانے پکا کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔غالب گمان یہ ہے کہ سنی مسلمانوں میں یہ اہتمام اہل تشیع سے ہی آیا ہے اور اس کو بعض مفاد پرست علماء سو نے بڑھاوا دیا ہے۔جہاں تک ان ایام کے روزوں کا معاملہ ہے تو یہ ایام بیض کے روزے ہیں جنھیں رسول اکرم ؐ ہر ماہ رکھتے تھے۔
میرے عزیزو:اسلام کو چوں چوں کا مربہ مت بناؤ،دنیا تمہارے دین کا مذاق اڑائے گی۔نئی نئی بدعات مت ایجاد کرو،یہ بدعتیں تمہاری دنیا بھی خراب کرتی ہیں اور آخرت میں یہی جہنم میں پہنچانے والی ہوں گی۔عبادت ہویا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،ہر شعبہ زندگی میں قرآن و اسوہ رسول ؐ ہی کو پیش نظر رکھو۔آج ہم جہالت،غربت،بے روزگاری،دین اسلام کی بے عزتی،رسول رحمت کی اہانت،مساجد پر مقدمات،اورماب لنچگ جیسے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔محکومیت کے بادل منڈرارہے ہیں۔ایسے میں ہمارا وقت اور پیسہ فضولیات میں صرف ہورہا ہے۔جس میں شب برأت بھی شامل ہے،اس رات کے متعلق جملہ احادیث کو خود محدثین نے ضعیف قرار دے دیا ہے،کمزور بنیادوں پر بننے والی عمارت گرجائے گی۔اللہ کا دین سیدھا اور سچا ہے۔یہ انسان کوانسانیت کے لیے مفید بناتا ہے۔اپنی زندگی کا جائزہ لیجیے اور پہلے یہ دیکھیے کہ فرائض و واجبات کہاں تک ادا ہورہے ہیں،فرائض و واجبات سے میری مراد صرف نماز و وضو کے فرائض و واجبات نہیں ہیں بلکہ اپنے بچوں کو حلال لقمہ کھلانا،اپنے نسلوں کی تعلیم و تربیت کرنا،اپنے والدین کی خدمت کرنا،سماج کے پسماندہ طبقات کو اوپر اٹھانے کی کوشش کرنا،نظام عدل و انصاف کے قیام کی جدو جہد کرنا یہ سارے کام اسی طرح فرض ہیں جس طرح نماز اور روزہ فرض ہے۔یاد رکھیے نوافل فرائض و واجبات کے بعد ہیں جب کہ دعا اوروظائف کا نمبربدر میں صفیں درست کرنے کے بعد آتاہے۔
حقیقت خرافات میں کھوگئی
یہ امت روایات میں کھوگئی

Comments
Post a Comment